امریکا کو 14 دن دنوں میں پہنچنے والے فوجی نقصانات
جمعہ 24 جولائی 2026ء کو ا مریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر کیے جانے والے ہولناک اور تابڑ توڑ حملے اچانک بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ حملے ایران کے سول مفادات اور اثاثوں پر کیے جا رہے تھے‘ جن میں شاہراہیں‘ بڑے بڑے پل اور پانی کے فلٹر پلانٹ جیسے مقامات شامل تھے جب کہ ایران کے پاسداران انقلاب یعنی آئی آر جی سی (ایرانین ریولیوشن گارڈ کارپس) امریکا کی فوجی تنصیبات اور مفادات پر حملے کر رہی تھی جن میں قطر‘ اردن‘ عمان اور گلف کی دیگر ریاستوں میں قائم امریکی فوجی اڈے شامل تھے۔ جنگی اخلاقیات کے بالکل برعکس امریکی حملے ایران کے شہری تنصیبات اور مفادات پر ہو رہے تھے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اتوار 26 جولائی 2026ء کو ایک تفصیلی چارٹ جاری کیا ہے کہ جس میں اس کے ترجمان جنرل حسین محبی نے 8 جولائی سے لے کر 22 جولائی 2026ء کے دوران امریکی مفادات اور تنصیبات پر ایران کے حملوں کے نتیجے مں امریکا کو پہنچنے والے تمام نقصانات کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران انہوں نے امریکا کو کل 20 ارب 6 ملین ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے جس میں 7 ارب 52 ملین ڈالر کی فضائی تنصیبات‘ 4 ارب 53 ملین ڈالر کے لاجسٹک سپورٹ مفادات‘ 6 ارب 70 ملین ڈالر کے انفرا اسٹرکچر کے نقصانات اور مختلف اقسام کے جنگی جہازوں کی تباہی کی صورت میں 1 ارب 85 ملین ڈالر کا نقصان شامل ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب یعنی آئی آر جی سی کے ترجمان کے دعوے کے مطابق امریکا کو اس کے راڈارز اور ائر ڈیفنس کے ضمن میں جو نقصان پہنچایا گیا‘ ان میں 7 کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز‘ 3 عدد سیٹلائٹ کمیونی کیشن سسٹمز‘ 6 عدد پیٹریاٹ ڈیفنس ریڈار‘ سمندری اور فضائی نگرانی کرنے والے 3 سینٹر‘ 15 عدد میزائل سے تحفظ فراہم کرنے والے ریڈراز کے علاوہ دیگر 14 عدد قریب اور دور کی رینج کے ای بی ایس‘ اے این؍ ٹی پی ایس 117 ریڈراز کے علاوہ ایک ٹیکنیکل ریڈار کمپلیکس بھی شامل ہے۔ ان تمام نقصان کی لاگت آئی آر جی سی کے ترجمان کے مطابق 7 ارب 52 ملین ڈالر تک بنتی ہے۔
آئی آر جی سی کے ترجمان نے اپنی جاری کردہ تفصیلات کے سیکشن نمبر 2 میں لاجسٹک سپورٹ کے شعبے میں امریکا کو پہنچائے گئے نقصان جس میں 6 عدد ائر کرافٹ؍ ہیلی کاپٹرز مینٹیننس سینٹرز کی تباہی کے علاوہ 3 عدد دیگر لاجسٹک سپورٹ سینٹرز‘ 12 عدد بڑے فیول ٹینکس‘ ہتھیاروں اور پرزہ جات ذخیرہ کرنے کے 17 عدد بڑے گواموں اور 6 عدد میزائل ذخیرہ کرنے کے ڈپوئوں کی مکمل تباہی کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ اپنی جاری کردہ اس رپورٹ کے تیسرے سیکشن میں آئی آر جی سی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان 14 دنوں کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کو دیے گئے جوابی حملوں کے دوران 6 عدد ایم کیو۔ 9 ڈرون ہینگرز‘ ایک عدد F-15 جنگی طیاروں کی تیاری کا مرکز‘ ایک ڈرون ہینگر‘ 2 عدد کمانڈ سینٹرز‘ ایک عدد ائرکرافٹ کیریئر ری فیولنگ پلیٹ فارم‘ 10 عدد مختلف اقسام کے جنگی جہازوں کے ہینگرز‘ لانچنگ پلیٹ فارمز اور جہازوں کے ہینگرز‘ 6 عدد میزائل لانچنگ پیڈز‘ ایک بڑا فیول پیمپنگ اسٹیشن‘ 4 عدد سگنل کمیونی کیشن سینٹرز‘ انٹیلی جنس ڈیٹا سینٹرز کے ساتھ ساتھ 12 عدد مختلف اقسام کی جنگی تنصیبات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کی اس آپریشنل انفرا اسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کی مالیت کا اندازہ 6 ارب 70 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔
مذکورہ بالا رپورٹ کے چوتھے اور آخری حصے میں امریکا کے جہازوں کی تباہی کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا ہے کہ ان 14 دنوں کے دوران امریکا کے 11 جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹرز کو زمین بوس کرنے کے علاوہ پاسداران انقلاب نے 17 عدد بڑے جنگی ڈرونز‘ ایک عدد F-15 فائٹر جیٹ طیارہ‘ ایک عدد P-8 قسم کا میری ٹائم پٹرول ائر کرافٹ‘ 4 عدد بھاری بھرکم ہیلی کاپٹرز کے ساتھ ساتھ 6 عدد محفوظ میزائل بھی ان کے اسٹوریج سینٹرز میں تباہ کر دیے۔ اس ضمن میں امریکا کو پہنچنے والے نقصان کی لاگت کا اندازہ اس رپورٹ کے چوتھے حصے میں ایک ارب 85 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔پاسداران انقصاب کے ترجمان کی جانب سے دعویٰ کیے گئے ان 20 ارب 6 ملین ڈالر تک کے پہنچنے والے انتہائی اہم اور تزویراتی نقصان کی کوئی ترید حسب سابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے اب تک نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی آزاد ذریعے نے اب تک کسی بھی میڈیا کے توسط سے ان بتائے گئے نقصانات اور اتنی خطیر رقم کی زیاں کے دعوے کی تائید کی ہے لیکن آج کے ترقی یافتہ دور میں یہ تفصیلات تادیر چھپائی نہیں جا سکتیں اور امریکا کے فوجی اور سیاسی حکام کو امریکا کے جمہوری اداروں یعنی امریکی کانگریس اور ایوان نمائندگان میں اٹھنے والے شور و غوغا کے حوالے سے نیز کانگریس اور سینیٹ کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے امریکا کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات سے آگاہی فراہم کرنی ہی پڑے گی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے دعوے کے مطابق صرف 14 دنوں کے دوران امریکا کو پہنچنے والے ان ہوشربا نقصانات کی تفصیلات انتہائی حیرت ناک اور ناقابل یقین ہیں۔ جب آئندہ آنے والے دنوں میں27 فروری 2026 سے شروع ہونے والی اس بے مقصد جنگ کی مکمل روداد اور امریکی عوام کے ٹیکسوں کی رقوم سے خریدے گئے ان مہنگے ہتھیاروں اور جنگی سازو سامان کو پہنچنے والے مکمل نقصان کی تفصیلات سامنے آئیں گی تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امریکا میں کس طرح کا غل مچے گا اور صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اس کا کیسے مقابلہ کر سکے گی۔ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر یہ بات بہرحال روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ جب بھی کوئی غیرت مند قوم متحد ہو کر سیسہ پلائی دیوار بن جائے تو اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت کو بھی مٹی چاٹنے پر مجبور کر سکتی ہے جیسا کہ حالیہ دنوں میں ایرانی قوم نے کر دکھایا ہے۔
(نوٹ: اس مضمون میں دیے گئے اعداد و شمار معروف وی لاگر اظہر علی خان کے ایک حالیہ نشر شدہ وی لاگ سے اخذ کیے گئے ہیں۔)