| |

میڈیا، عوامی روابط اور چین کے عوام کے نام پاکستان کا پیغام (حصہ چہارم)

آج کی دنیا میں سفارت کاری صرف ایوانوں، وزارتوں اور سرکاری معاہدوں تک محدود نہیں رہی۔ جدید دور میں قوموں کے درمیان تعلقات کی اصل بنیاد عوامی روابط، علمی تبادلے، ثقافتی ہم آہنگی اور ذمہ دار صحافت پر استوار ہوتی ہے۔ اگر حکومتیں دوستی کا دروازہ کھولتی ہیں تو میڈیا، جامعات، ادیب، فنکار، اساتذہ، طلبہ اور عام شہری اس دوستی کو دلوں تک پہنچاتے ہیں۔

پاکستان اور چین کے تعلقات کی مضبوطی کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ دونوں ممالک نے صرف سرکاری سطح پر نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی ایک دوسرے کو سمجھنے اور قریب آنے کی مسلسل کوشش کی ہے۔ چینی زبان سیکھنے والے پاکستانی نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، چین کی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں پاکستانی طلبہ، پاکستان آنے والے چینی ماہرین، انجینئرز، اساتذہ اور سرمایہ کار، اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی و تعلیمی تبادلوں نے اس رشتے کو نئی معنویت عطا کی ہے۔

میڈیا: اعتماد کا خاموش معمار

اطلاعات کے اس تیز رفتار دور میں میڈیا صرف خبر پہنچانے کا ذریعہ نہیں بلکہ قوموں کے درمیان اعتماد کی تعمیر کا ایک مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ ایک ذمہ دار صحافی، ایک غیر جانبدار تجزیہ، ایک مستند دستاویزی فلم یا ایک تحقیقی مضمون لاکھوں لوگوں کے ذہنوں میں کسی ملک کا تاثر تشکیل دے سکتا ہے۔

اسی لیے پاکستانی اور چینی میڈیا کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں سنسنی خیزی نہیں بلکہ حقیقت، تحقیق اور مثبت تجربات کو فروغ دیں۔ چین کی سائنسی ترقی، صنعتی انقلاب، تعلیمی نظام، ماحول دوست منصوبوں اور سماجی نظم و ضبط کو پاکستانی عوام تک پہنچانا جتنا ضروری ہے، اتنا ہی پاکستان کی ثقافتی گوناگونی، مہمان نوازی، نوجوانوں کی صلاحیتوں، میڈیا کی آزادی اور ترقی کے امکانات کو چین کے عوام کے سامنے پیش کرنا بھی اہم ہے۔

میرا تعلق بھی شعبۂ صحافت سے ہے، اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ قلم کی ذمہ داری صرف خبر لکھنا نہیں بلکہ قوموں کے درمیان اعتماد، احترام اور مکالمے کے پل تعمیر کرنا بھی ہے۔

ایک دس رکنی پاکستانی میڈیا وفد: دوستی کا نیا باب

اس مضمون کی تکمیل ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان سے دس رکنی میڈیا وفد عوامی جمہوریہ چین کے مطالعاتی اور خیرسگالی دورے پر روانہ ہو رہا ہے۔ یہ وفد محض صحافیوں کا ایک گروہ نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی نیک تمناؤں، خیرخواہی اور دوستی کے جذبات کا نمائندہ ہے۔

اس دورے کا مقصد چین کی معاشی ترقی، سائنسی کامیابیوں، جدید صنعت، میڈیا، ثقافت، تعلیم، ٹیکنالوجی، شہری منصوبہ بندی اور عوامی زندگی کو قریب سے دیکھنا، سمجھنا اور ان تجربات کو پاکستانی عوام تک مستند انداز میں پہنچانا ہے۔ اس طرح کے وفود دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو کم کرتے، اعتماد کو بڑھاتے اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

مجھے بھی اس وفد کے ایک رکن کی حیثیت سے چین جانے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔ میں اس سفر کو محض ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی نمائندگی کا ایک باوقار موقع سمجھتا ہوں۔ میری کوشش ہوگی کہ چین کی ترقی، وہاں کے عوام کی محنت، نظم و ضبط، علمی و سائنسی کامیابیوں اور ثقافتی حسن کو قریب سے دیکھوں اور واپسی پر اپنے قارئین تک دیانت داری، تحقیق اور ذمہ داری کے ساتھ پہنچاؤں۔

چین کے عوام کے نام پاکستان کا پیغام

اگر مجھے چین کے عوام سے براہِ راست مخاطب ہونے کا موقع ملے تو میں سب سے پہلے ان کا شکریہ ادا کروں گا کہ انہوں نے گزشتہ پچھتر برسوں کے دوران ہر مشکل اور ہر خوشی میں پاکستان کا ساتھ نبھایا۔ پاکستانی عوام اس رفاقت کو صرف سفارتی تعلق نہیں بلکہ اعتماد، اخلاص اور باہمی احترام کے ایک زندہ استعارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ہم چین کی حیرت انگیز ترقی، سائنسی کامیابیوں، صنعتی انقلاب، نظم و ضبط اور محنت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ترقی کا یہ سفر صرف چین کی کامیابی نہیں بلکہ پورے ایشیا کے اعتماد میں اضافے کا سبب بھی ہے۔

ہماری خواہش ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور چین کا تعلق صرف حکومتوں اور اداروں تک محدود نہ رہے بلکہ طالب علموں، اساتذہ، سائنس دانوں، صحافیوں، فنکاروں، ادیبوں، صنعت کاروں اور نوجوانوں کے درمیان بھی اسی گرم جوشی کے ساتھ فروغ پاتا رہے۔ جب قومیں ایک دوسرے کو قریب سے جانتی ہیں تو اعتماد مضبوط ہوتا ہے اور مستقبل زیادہ روشن نظر آتا ہے۔
دوستی کا سفر ابھی جاری ہے

علامہ محمد اقبال نے برسوں پہلے مشرق کے احیاء کا خواب دیکھا تھا:

“کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ”

آج جب ایشیا عالمی معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی اور تجارت کا ایک مؤثر مرکز بن کر ابھر رہا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ اقبال کا یہ پیغام محض شاعری نہیں بلکہ مستقبل کی ایک بصیرت افروز تعبیر تھا۔ پاکستان اور چین کی شراکت داری اسی ابھرتے ہوئے مشرق کی ایک روشن علامت ہے۔

جب یہ سطور آپ کی نظروں سے گزریں گی تو شاید ہم پاکستان سے چین کی سرزمین کی جانب سفر میں ہوں۔ ہمارے ہاتھوں میں صرف نوٹ بکس اور کیمرے نہیں ہوں گے بلکہ دلوں میں پاکستان کے عوام کی محبت، احترام اور نیک تمنائیں بھی ہوں گی۔ ہم اس یقین کے ساتھ چین آ رہے ہیں کہ دوستی کی اصل طاقت معاہدوں میں نہیں بلکہ دلوں میں ہوتی ہے، اور جب دل قریب ہوں تو سرحدیں فاصلے نہیں رہتیں بلکہ تعاون کے پل بن جاتی ہیں۔

ہماری دعا ہے کہ پاکستان اور چین کی یہ لازوال دوستی آنے والے برسوں میں علم کی روشنی، تحقیق کی طاقت، امن کے پیغام اور مشترکہ خوش حالی کے ذریعے مزید مستحکم ہو، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسی اعتماد سے یہ کہہ سکیں کہ پاکستان اور چین صرف دو ہمسایہ ممالک نہیں بلکہ دو ایسی قومیں ہیں جنہوں نے وقت کی ہر آزمائش میں ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھا اور مستقبل کی ہر منزل بھی مل کر طے کرنے کا عزم کیا۔

حصہ اول :     پاک چین دوستی: سات دہائیوں پر محیط اعتماد، مشترکہ ترقی اور ایک روشن مستقبل کی داستان (حصہ اول)

حصہ دوم :     پاک چین دوستی: سات دہائیوں پر محیط اعتماد، مشترکہ ترقی اور ایک روشن مستقبل کی داستان (حصہ دوم)

حصہ سوم:  پاک چین دوستی: سات دہائیوں پر محیط اعتماد، مشترکہ ترقی اور ایک روشن مستقبل کی داستان (حصہ سوم)

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *