|

مردوں میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھانے والی بڑی وجہ سامنے آ گئی

نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مردوں میں بڑھتے ہوئے بانجھ پن کے پیچھے جسم میں اضافی چربی ایک اہم وجہ بن سکتی ہے، کیونکہ زیادہ جسمانی چربی نہ صرف تولیدی نظام کو متاثر کرتی ہے بلکہ اسپرم کی تعداد اور ہارمونز کے توازن پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

ڈنمارک کی اراہوس یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ صحت مند جسمانی وزن برقرار رکھنا صرف عمومی صحت کے لیے ہی نہیں بلکہ مردانہ تولیدی صلاحیت کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے، جبکہ جسم میں چربی کی مقدار بڑھنے سے بانجھ پن کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔

تحقیق میں 1058 نوجوانوں کو شامل کیا گیا، جن کی اوسط عمر مطالعے کے آغاز پر 18 سال اور 9 ماہ تھی۔ محققین نے شرکاء کے جسم میں چربی کی مقدار، مجموعی وزن اور پٹھوں کے حجم کا تفصیلی جائزہ لیا تاکہ جسمانی ساخت اور تولیدی صحت کے درمیان تعلق کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق مردوں میں مجموعی جسمانی وزن کا 8 سے 19 فیصد حصہ چربی پر مشتمل ہونا معمول تصور کیا جاتا ہے، جبکہ اگر یہ شرح 20 فیصد سے تجاوز کر جائے تو اسے ضرورت سے زیادہ سمجھا جاتا ہے، جو مختلف طبی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ تولیدی مسائل کو بھی جنم دے سکتی ہے۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جسمانی چربی میں اضافے کے ساتھ اسپرم کی تعداد میں اوسطاً 23 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے قدرتی طور پر اولاد ہونے کے امکانات بھی متاثر ہوتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ اضافی چربی جسم میں ایسے ہارمونز کے توازن کو بھی تبدیل کر دیتی ہے جو مردانہ تولیدی نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی ہارمونل تبدیلیاں اسپرم کی پیداوار اور معیار دونوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور جسم میں چربی کی مناسب مقدار برقرار رکھنا مردوں کی تولیدی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے کے بجائے خاص طور پر جسمانی چربی کو قابو میں رکھنا زیادہ اہم ہے تاکہ بانجھ پن کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے ہیومن ری پروڈکشن میں شائع کیے گئے ہیں، جہاں محققین نے اس موضوع پر مزید وسیع پیمانے پر تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت کی اپریل 2023 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 17.5 فیصد بالغ افراد اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر بانجھ پن کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ 1990 سے 2021 کے درمیان شائع ہونے والی 100 سے زائد طبی تحقیقات کے تجزیے پر مبنی تھی۔

رپورٹ کے مطابق بانجھ پن کسی ایک خطے یا معاشی طبقے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عالمی طبی مسئلہ بن چکا ہے۔ امیر ممالک میں اس کی شرح 17.8 فیصد جبکہ متوسط اور کم آمدنی والے ممالک میں 16.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بانجھ پن کے ہر 3 میں سے 1 کیس میں مسئلہ مردوں میں پایا جاتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مردانہ تولیدی صحت پر توجہ دینا آج پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *