انسانی سرمایہ یا بوجھ؟
صحرا کے سینے پر قدرت جب بارش کی بوندیں نچھاور کرتی ہے، تو مٹی کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں؛ یا تو وہ اس پانی کو بے سمت سیلاب بننے دے جو بستیوں کو بہا لے جائے، یا پھر اسے اپنی تخلیقی رگوں میں جزوِ بدن بنا کر سرسبز گلستان میں ڈھال دے۔ پاکستان اس وقت، وقت کے اسی دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں چوبیس کروڑ سے زائد نفوس کا بظاہر بے پناہ سمندر یا تو تخریب کا طوفان بن سکتا ہے یا پھر تعمیر ِ نو کا بادل۔ تاریخ ِ عالم کے اوراق پر اگر نگاہ دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمدنوں کے عروج و زوال کی داستانیں محض سونے، چاندی کی کانوں یا سرحدوں کی وسعتوں سے نہیں رقم ہوئیں، بلکہ انسان کے فکری ارتقا، علمی استعداد اور فنی ہنر کی متحرک صلاحیتوں سے لکھی گئی ہیں۔ ایک دور تھا جب بڑھتی ہوئی آبادی کو کثرتِ نفوس کا عذاب اور قدرتی وسائل پر ایک غیر ضروری بوجھ سمجھ کر محدود کرنے کی سعی ِ لاحاصل کی گئی۔ ترقی یافتہ ممالک نے اس فکر ِ نارسا کے تحت اپنے گھروں کے چراغ مدہم کیے، مگر انجام کار آج وہ زوال پذیر آبادیاتی گراف اور معمر معاشروں کے اندوہناک جمود کا شکار ہیں۔ جدید طب نے وہاں زندگی کی طوالت تو بڑھا دی، لیکن جوش، جذبے اور تخلیقی ولولے سے لبریز وہ جوان ہاتھ چھین لیے جو معیشت کے پہیے کو روانی بخشتے ہیں۔
اس عالمگیر جمود اور پیرانہ سالی کے شل ہوتے ہاتھوں کے مقابل، پاکستان کا دامن قدرت نے ایک ایسی نایاب نعمت سے بھر دیا ہے جس کی مثال دہر میں کم ملتی ہے۔ اکیس سال کی اوسط عمر کا ایک لامتناہی انسانی سمندر، جو اگرچہ فی الوقت کنارے توڑتا محسوس ہوتا ہے، مگر یہی دراصل وہ عظیم معاشی انرجی ہے جو اگر درست راستے پر ڈال دی جائے تو وقت کے دھارے موڑ سکتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم نے ماضی میں قدرت کے دیے گئے دیگر عطیات کے ساتھ بھی وہی کیا جو ایک بے پروا سوداگر اپنے انمول ہیروں کے ساتھ کرتا ہے۔ پاکستان کو قدرت نے شاداب مٹی، چار موسموں کی رعنائی اور دریاؤں کا ایسا مربوط نظام بخشا جو دنیا کے کسی خطے کو کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ مگر ناقص حکمت ِ عملی، فکری افلاس اور سیاسی عدمِ استحکام کے باعث ہم زرعی میدان کے رہنما نہ بن سکے۔ جہاں نیدرلینڈز جیسے محدود جغرافیہ رکھنے والے ملک نے جدت، تحقیق اور مصنوعات کی قدرا افزائی (Value Addition) کو اپنا کر خود کو ڈیری تجارت کا تاجدار بنا لیا، وہاں ہم دودھ کی پیداوار میں دنیا کے پیش ِ رو ہونے کے باوجود عالمی منڈی میں ایک ادنیٰ مقام پر کھڑے رہے۔ یہی افسوسناک کہانی چاول، آم اور گوشت جیسے خام مال کی خام برآمدات سے جڑی رہی، جہاں ہم برانڈنگ اور معیار کاری کے مراحل سے ناآشنا رہے۔
مگر ماضی کی غلطیوں پر ماتم کناں رہنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ مستقبل کے افق پر ابھرنے والے نئے امکانات کو تسخیر کیا جائے۔ تاریخ کا قانون ہے کہ وہ قوموں کو سنبھلنے کے یکے بعد دیگرے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اگر ہم نے زراعت کے میدان میں پیش رفت کا موقع گنوا دیا، تو اب قدرت نے انسانی سرمائے کی صورت میں ایک اور درخشندہ موقع ہماری جھولی میں ڈال دیا ہے۔ اکیسویں صدی کی عالمی معاشی صف بندی کے خد و خال تیزی سے بدل رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیٹا سائنس اور ابلاغی علوم نے روزگار کے قدیم تصورات کو یکسر مسمار کر کے نئے در وا کیے ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کی حالیہ پیش گوئیاں واضح کر رہی ہیں کہ آنے والی دہائیوں میں کروڑوں پرانی ملازمتیں ختم ہو کر بالکل نئی تکنیکی مہارتوں کی طالب ہوں گی۔ دوسری جانب برطانیہ، جرمنی، جاپان اور خلیجی ممالک میں ہنر مند افراد کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ یہ جغرافیائی اور آبادیاتی توازن پاکستان کو دنیا کی منڈی میں ایک ناگزیر معاشی کھلاڑی بننے کا نایاب ترین موقع فراہم کر رہا ہے۔
ہمارے نوجوانوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فری لانسنگ کے میدان میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوا کر یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ اگر انہیں محض انٹرنیٹ اور ایک روزنِ امید فراہم کر دیا جائے تو وہ صحرا میں بھی گلستان کھلا سکتے ہیں۔ لیکن محض کمپیوٹر اسکرین تک محدود رہنا ہی کافی نہیں۔ دنیا کو آج انجینئرنگ، طب، ہوابازی، لاجسٹکس اور تعمیرات جیسے وسیع و عریض شعبوں میں اعلیٰ درجے کے ماہرین درکار ہیں۔ یورپ اور مشرقی ایشیا کے دروازے ان قوموں کے لیے کھلے ہیں جو اپنی افرادی قوت کو عالمی معیار کے سرٹیفکیٹس، لسانی مہارتوں اور جدید تکنیکی اخلاقیات سے لیس کر کے میدان میں اتارتی ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فنی تصدیق کا موجودہ معاہدہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، مگر اس جغرافیائی دائرے کو اب یورپ اور دیگر خطوں تک پھیلانا ہوگا۔
جب ریاست اپنے نوجوانوں کو قانونی اور باعزت راستے فراہم نہیں کرتی، تو محرومی کے اندھیرے انہیں ’’ڈنکی روٹ‘‘ جیسے ہولناک اور خونچکاں راستوں پر دھکیل دیتے ہیں، جہاں ہزاروں معصوم خواب سمندروں کی نذر ہو جاتے ہیں اور قوم کا وقار خاک میں ملتا ہے۔ اس دروہ ناک المیے کا حل سرحدوں پر دیواریں کھڑی کرنا نہیں، بلکہ ملک کے اندر عالمی معیار کے تربیتی اداروں کا قیام اور بین الاقوامی سطح پر افرادی قوت کی قانونی منتقلی کے معاہدے کرنا ہے۔ ہمارے لاکھوں ڈاکٹرز، سائنس دان اور ماہرین پہلے ہی دنیا بھر میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں، لیکن اب وقت کا تقاضا ہے کہ اس انفرادی باکمالی کو ایک منضبط قومی پالیسی کی شکل دی جائے۔ آبادی بذاتِ خود کبھی عذاب نہیں ہوتی، بلکہ اس کی بے ترتیبی اور عدمِ بصیرت اسے بوجھ بناتی ہے۔ اگر ان نوجوان ذہنوں کو علم کی جلا، ہاتھوں کو ہنر کی طاقت اور جذبوں کو ریاست کی سرپرستی مل جائے تو یہ چوبیس کروڑ کا ہجوم ایک نا قابلِ تسخیر معاشی طاقت میں ڈھل سکتا ہے۔ اب یہ فیصلہ ہماری قومی قیادت اور پالیسی سازوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس تلاطم خیز انسانی سمندر کو تباہ کن سیلاب بننے دیتے ہیں یا قومی خوشحالی کے لیے ایک انمول اور سرسبز انقلاب میں تبدیل کرتے ہیں۔