راستہ دیدو، ورنہ انقلاب خود راستہ بنالے گا
گزشتہ برس بنگلادیش میں طلبہ کی تحریک اٹھی اور بڑھتی ہی چلی گئی، اس تحریک کے دوران حکومت سے غلطی ہوئی اور مخالفین اور طلبہ کو ’’رجاکار‘‘ کہہ بیٹھی، اور پھر سب ہی رجاکار بن گئے، اور حسینہ واجد کو ملک چھوڑنا پڑا، اسی طرح بھارت میں کاکروچ پارٹی بنی، احتجاج کرنے والوں کو کاکروچ کہہ دیا گیا، اس پر طلبہ بپھر گئے اور اب وزیر تعلیم کو استعفا دینا پڑا۔ ان دو ممالک میں نامعلوم اور خفیہ اداروں کا اثر یا تو پاکستان جتنا نہیں یا وہاں سیاسی شعور پاکستان کے مقابلے میں زیادہ ہے، بہرحال طلبہ کامیاب ہوگئے، وہ مانگ کیا رہے تھ!!! اصل بات بھی یہی ہے، وہ مراعات نہیں مانگ رہے تھے، وہ حکمرانوں کی مراعات ختم کرنے کا مطالبہ بھی نہیں کررہے تھے، وہ بس شفاف، میرٹ پر مبنی تعلیمی نظام چاہتے تھے اور کچھ نہیں، ابھی تو وزیر تعلیم کا استعفا آیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، اور بیٹھے گا بھی یا نہیں یا مودی سرکار ہی کو لے بیٹھے گا، ان کے عزائم بھی کچھ ایسے ہی لگ رہے ہیں، کامیابی پر مشعل بردار جلوس، روایتی سیاسی جماعتوں سے ایک خاص فاصلہ، اپنے فیصلے (بظاہر) خود کرنا اور قدم نہ روکنے کا عزم۔ لیکن ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ آیا یہ بھی کوئی ’’عرب بہار‘‘ تو نہیں۔ اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔
پاکستان میں ایسی تحریک کے اسباب ہرطرف موجود ہیں، ہر شعبے میں ناانصافی ہے، تعلیم کا تو بیڑا غرق تھا ہی، انصاف کا نظام بھی ابتر ہے، حد تو یہ ہے کہ انتخابات کے ذریعہ تبدیلی کا راستہ بھی بند کیا جارہا ہے کبھی نتائج تبدیل کیے جاتے ہیں، تو کبھی آر ٹی ایس بیٹھ جاتا ہے کبھی فارم 47 آجاتا ہے، اس وقت وسائل سے مالامال صوبہ بلوچستان بے چینی ہی نہیں بدامنی اور بے یقینی کا بھی شکار ہے، پاکستان کی شہ رگ کشمیر میں حکمرانوں کی ان ہی پالیسیوں نے حالات بگاڑ رکھے ہیں کہ لوگ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق مقابلے پر اُتر آئے، کشمیری ایک مرتبہ اچھی خاصی ٹھکائی بھی کرچکے اور اب بھی حالات ٹھیک نہیں، اور زندہ بھٹو والے سندھ کا کیا کہنا، سندھ، یہاں صرف بھٹو کا نام زندہ ہے اور عوام زندہ لاش، کسی علاقے کی تخصیص نہیں کوئی کراچی دشمنی نہیں، کوئی حیدرآباد دشمنی نہیں، بس مال سے محبت ہے، زندہ سے چھینو مردے سے چھینو، کفن پر قبر پر ٹیکس لگاکر چھینو، یہاں تو نعرہ ہی مشہور ہے کہ ’’جئے بھٹو، لٹو تے پھٹو‘‘۔ ہاں بلاوجہ کے پی کے کو خان کا صوبہ کہا جاتا ہے، وہاں مسلم لیگ، اے این پی اور فوج کی بھی حکومتیں رہی ہیں، جتنی خرابی کا الزام پی ٹی آئی پر ہے اس سے کہیں زیادہ خود مسلم لیگ اور پختون خوا کے نام پر سیاست کرنے والی اے این پی پر بھی ہے، یہی حال گلگت بلتستان، اور سب سے بڑھ کر پنجاب میں بھی ہے، یہ لوگ جو خرابی کرتے ہیں اس کو تو ان ہی جماعتوں کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے لیکن ایوب خان اور ضیاء الحق کے مارشل لا نے جو خرابیاں کیں ان کا ذکر ان کے ناموں کے بجائے عمومی ہوتا ہے۔ خیر کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ تو بات کسی اور طرف جارہی ہے!! نہیں یہ درست سمت میں جارہی ہے، یعنی یہ بتانے کی کوشش ہے کہ اس بات کا پورا اہتمام کیا جاتا ہے کہ فوج جو بھی خرابی کرے اس کا ذکرنہ کیا جائے اور صرف سیاسی جماعتوں کی غلطیوں کی گرفت کی جائے اور بحثیں بھی اسی پر کی جائیں، اور ایسا ہی ہوتا آرہا ہے، یہ کام اتنی صفائی سے ہوتا ہے کہ ذوالفقار بھٹو، نواز شریف، بے نظیر، ق لیگ، زرداری، عمران خان وغیرہ کو لانچ کرنے والوں کا کوئی ذکر نہیں ہوتا، بس یہ آگئے، کیسے آگئے، کہاں سے ٹپک پڑے کون صورت گری کرتا ہے، کون شخصیات کو پروان چڑھاتا ہے کون دھاندلی سے سیٹیں بڑھاتا گھٹاتا ہے، آرٹی ایس بٹھاتا ہے، اور فارم 47 لاتا ہے اس پر بات نہیں ہوتی۔
جس روز پاکستان میں یہ بات ہونے لگے گی، درمیان کے ہندسے لکھے جانے لگیں گے تو حساب پورا سامنے آجائے گا، درمیان کے ہندسوں سے مراد لیاقت علی خان کے بعد کی سیاسی انارکی کا تو خوب ذکر ہوتا ہے لیکن اس کے بعد کے دس سال ایوب خان کی تعریف کے بتائے جاتے ہیں، پھر بھٹو کی خرابیاں تو بیان کی جاتی ہیں لیکن جنرل ضیا کی غلطیوں کا ذکر غائب، یعنی گیارہ سال کا حساب غائب پھر اچانک بے نظیر بھٹو آتی اور جاتی ہیں نواز شریف آتے اور جاتے ہیں!! یہاں بھی ایک غلطی ہے یہ آتے اور جاتے یا آتی اور جاتی نہیں بلکہ لائے جاتے اور ہٹائے جاتے رہے ہیں، یہی کچھ عمران خان کے ساتھ ہوا، وہ بھی لائے گئے اور ہٹائے گئے، اور یہ سارے لوگ خود کو عوام کا حقیقی نمائندہ سمجھنے لگتے ہیں۔ بس یہ کھیل ہے پاکستان میں، عوام کچھ کچھ سمجھ بھی رہے ہیں لیکن ابھی ’’رجاکار‘‘ یا ’’کاکروچ‘‘ بننے کو تیار نہیں یا ان کو ایسی بالغ نظر قیادت میسر نہیں جو انہیں میدان میں لائے اور نتائج بھی خود سمیٹے۔
اب جو صورتحال ہے وہ یہ ہے کہ جتنے بھی پروجیکٹ یا میدان میں اُتارے گئے کھلاڑی تھے ان سب نے مالک سے بھی دغا کی جس کا خمیازہ حکمرانی کے خاتمے سے لے کر پھانسی تک بھگتنا پڑا، اب قید بھگتی جارہی ہے، ان سب کی کوئی غلط معاشی، دفاعی، خارجہ یا تعلیم پالیسی ان کے زوال کا سبب نہیں بنی، بلکہ وہ خود کو عوام کا اصل نمائندہ سمجھ کر آقا سے لڑ بیٹھے، ہاں آخری لڑائی ابھی جاری ہے اس کا نتیجہ بھی آقا ہی کے حق میں آتا نظر آرہا ہے کیونکہ سامنے کوئی کاکروچ یا رجاکار نظر نہیں آرہا، البتہ بے چینی حد سے بڑھ چکی ہے، عوامی احتجاج اور انقلاب کے تمام اسباب موجود ہیں،سیاسی جماعتیں ایک لائحۂ عمل پر جمع نہیں ہیں، اور ملک دشمن طاقتیں اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہی ہیں، اگر مقتدر قوتوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ملک دشمن قوتیں اس بے چینی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں گی، اور بلوچستان اور کشمیر میں نظر بھی آنے لگا ہے، ملک میں کوئی ایک شعبہ ایسا نہیں رہا جہاں معاملات درست ہوں یا جس پر اعتماد کیا جاسکتا ہو، آج نہیں تو کل لوگ نکلنے کو تیار ہوہی جائیں گے، انقلاب اپنا راستہ خود بنالیتا ہے فیصلہ ہماری مقتدرہ کا ہے کہ مثبت انقلاب کو راستہ دیتی ہے یا منفی خود اپنا راستہ بنالے، ہر دو صورت میں نشانہ وہی ہوگی۔