لوگوں کا کفن تو نہ چھینو
گزشتہ دنوں اخبارات اور سوشل میڈیا پر ایک خبر نظر سے گزری کہ مالی تنگی نے باپ کو بے بس کر دیا اور وہ اپنے بیٹے کی میت بغیر کفن تدفین کے لیے قبرستان پہنچ گیا، چند پولیس اہلکاروں نے ذاتی طور پر مالی تعاون کیا، کفن کا انتظام کیا اور تدفین کے دیگر ضروری اخراجات بھی پورے کیے۔ مزید تفصیلات سامنے آنے پر پتا چلا کہ ملتان میں غربت اور مالی تنگی کا ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا، جہاں ایک شخص وسائل نہ ہونے کے باعث اپنے بیٹے کی میت کو مناسب کفن کے بغیر قبرستان لے پہنچا۔ اخبارات و سوشل میڈیا کے مطابق یہ واقع رشید آباد قبرستان میں پیش آیا، جہاں اطلاع ملنے پر لوہاری گیٹ تھانے کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی۔ متوفی کے والد نے اہلکاروں کو بتایا کہ وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور کفن و تدفین کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ والد نے مجبوری میں اپنے بیٹے کی میت کو صرف ایک چادر میں لپیٹ کر دفنانے کی کوشش کی تھی۔ پولیس کے مطابق تمام انتظامات مکمل ہونے کے بعد متوفی کی تدفین اسلامی طریقہ کار کے مطابق انجام دی گئی۔ اس طرح کے دلخراش واقعات دیگر صورتوں میں آئے روز پیش آتے ہیں کوئی واقعہ خبر کا موضوع بن جاتا ہے اور کہیں پر مقامی لوگ امداد کرتے ہیں اور واقعات منظر عام پر نہیں آتے، ملک میں صورتحال یہ ہے کہ کسی کے پاس علاج معالجے کے پیسے نہیں تو کسی کے پاس بچوں کی کفالت کے لیے پیسے نہیں، کوئی بے روزگاری سے تنگ آکر خودکشی کررہا ہے اور کوئی معاشی بدحالی کا شکار ہوکر خودکشی کررہا ہے، لیکن حکومت کی نظر میں سب کچھ ٹھیک ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکمران عوام کی معاشی حالت کی بہتری، بدترین مہنگائی کے خاتمے اور بے روزگاری کے مسائل کے حل کے بجائے اپنی اور اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات کی فکر میں لگے ہوئے ہیں، انہیں ملک میں رہنے والے غریب عوام شاید اب انسان نظر نہیں آرہے۔ اس طرح کے واقعات کو سنتے اور پڑھتے ہوئے بے ضمیر لوگوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن زندہ ضمیر رکھنے والوں کو ضرور
دکھ ہوتا ہے۔
حکومتی کردار کو دیکھتے ہوئے سیدنا عمر فاروقؓ کا دورِ خلافت کا واقعہ لکھنے پر مجبور ہوگیا کہ شاید حکمرانوں کا ضمیر زندہ ہوجائے اور وہ اپنی تنخواہوں اور مراعات کے بجائے قوم کی فکر میں لگ جائیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ کا دورِ خلافت (۳۱ تا ۳۲ ہجری) اسلامی تاریخ کا سنہرا ترین دور رہا۔ آپ کا نظم و نسق، بے مثال عدل و انصاف اور عوامی فلاح و بہبود کے مصدقہ واقعات رہتی دنیا تک کے حکمرانوں کے لیے مشعل ِ راہ ہیں۔ بشرطیکہ حکمران اس طرزِ حکمرانی کو اپنائیں۔ خلفائِ راشدین کے دور میں حکمران عوام کا خادم ہوتا تھا۔ آپ راتوں کو گشت کر کے اپنی رعایا کے حالات کا جائزہ لیا کرتے تھے۔ ایک رات گشت کے دوران ایک خیمے میں ایک عورت کے بچوں کو روتے ہوئے دیکھا۔ قریب گئے تو معلوم ہوا کہ بچے بھوکے ہیں اور ماں نے انہیں بہلانے کے لیے پانی سے بھرا برتن چولہے پر چڑھا رکھا ہے۔ سیدنا عمرؓ اسی وقت دوڑ کر مدینہ کے بیت المال گئے، آٹے کی بوری اور گھی اپنے کندھے پر لادا اور واپس آ کر اپنے ہاتھوں سے کھانا پکا کر بچوں کو کھلایا۔ سیدنا عمرؓ نے خلیفہ ٔ دوم کی حیثیت سے اقتدار سنبھالنے کے بعد صوبوں کے گورنروں اور دیگر عمّال کو جو ہدایات جاری کیں ان میں یہ بات بطور خاص فرمائی کہ کوئی شخص ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہو گا، باریک لباس نہیں پہنے گا، چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائے گا اور اپنے مکان کے دروازے پر ڈیوڑھی نما چھاتہ نہیں بنائے گا۔
سیدنا عمرؓ مسجد نبوی میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، ابھی لوگوں سے خطاب شروع کیا تھا کہ ایک شخص درمیان سے اُٹھ کھڑا ہوا اور پکار اُٹھا ہم آپ کی بات نہ سنتے ہیں اور نہ مانتے ہیں۔ پوچھا وجہ کیا ہے؟ تو کہنے لگا کہ بیت المال سے جو کپڑا تقسیم ہوا تھا آپ کو اور ہم سب کو برابر برابر ملا تھا، میرا اس سے کرتا نہیں بن سکا اور آپ قد لمبا ہونے کے باوجود اس کپڑے کا کرتا پہنے کھڑے ہیں۔ پہلے یہ بتائیں کہ زائد کپڑا کہاں سے آیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں سیدنا عمرؓ کے بیٹے کو کھڑے ہو کر بتانا پڑا کہ میں نے اپنے حصے کا کپڑا بھی ابا محترم کو دے دیا تھا اور اس طرح ان کا کرتا بن سکا ہے۔ عوامی احتساب کا یہ تصور کہ بھرے اجتماع میں ایک شخص امیر المومنین کو روکے کھڑا ہے اور امیر المومنین اس کے سوال کا تسلی بخش جواب دیے بغیر اپنا خطبہ جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ یہی آزادی رائے اور عوامی احتساب کا وہ روشن اصول ہے جو سیدنا عمرؓ کے طرزِ حکمرانی میں سب سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان اسلامی ریاست ہے اور ہمارے اس ریاست میں حکمران خوشحال اور عوام بدحال ہیں مہنگائی بڑھتی جارہی ہے لوگ خودکشیاں کررہے ہیں گوگل سے ملنے والی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں سے 155 افراد کی خودکشی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ گوگل سے ملنے والی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق زیادہ تر افراد معاشی اور گھریلو مسائل کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔ رپورٹ کے مطابق خودکشی کرنے والوں میں 124 مرد، 30 خواتین اور ایک خواجہ سرا شامل تھا۔ اعداد وشمار کے مطابق جنوری میں 4، فروری میں 12، مارچ میں 15 اور اپریل میں 17 افراد نے زندگی کا خاتمہ کیا۔ مئی میں 17، جون میں 14، جولائی میں 10 اور اگست میں 9 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ستمبر میں سب سے زیادہ 21 واقعات سامنے آئے، جبکہ اکتوبر میں 17، نومبر میں 11 اور دسمبر میں 8 جبکہ لاہور میں 116 افراد نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ خودکشی کرنے والوں میں 83 مرد اور 33 خواتین شامل تھیں۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے واقعات معاشرتی و معاشی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور حکومتی و سماجی سطح پر موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ ہے ہمارے حکمرانوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ عوام بدترین غربت کا شکار ہوں، مہنگائی کے مارے ہوئے ہوں اور حکمرانوں کی تنخواہیں بے تحاشا ہوں۔ عوام نے ووٹ اس لیے نہیں دیا کہ ووٹ دینے والوں پر مہنگائی مسلط کی جائے بلکہ عوام حکمرانوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے منتخب کرتے ہیں لیکن اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر وہ خود عوام کے لیے مسئلہ بن جاتے ہیں۔ ایسا نہیں مہنگائی ختم نہیں ہوسکتی، عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا، سب کو کچھ ہوسکتا ہے، ملک بھی خوشحال اور قوم بھی خوشحال ہوسکتا ہے اس کے لیے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ سیدنا عمر فاروق ؓ کی پیروی کریں اور اپنی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لیں پہلے ملک سے غربت کا خاتمہ کریں اس کے بعد شاہانہ انداز حکمرانی کو اپنائیں۔ غربت کا خاتمہ انکم سپورٹ اسکیموں سے ممکن نہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے حکمرانوں کی تنخواہوں میں کمی مراعات کو ختم کرے، اشیاء خورو نوش، بجلی گیس کے نرخوں میں کمی، بے روزگار نوجوان کو روزگار فراہم کرے، مہنگے علاج معالجے اور مہنگے تعلیمی نظام کا خاتمہ کرے، سرکاری اسپتالوں کو اس قابل بنائے کہ شہریوں کو مہنگے اسپتالوں تک جانے کی نوبت نہ آئے اسی طرح سرکاری اسکولوں کو بھی اس قابل بنایا جائے کہ پرائیویٹ اور مہنگے اسکولوں و کالجوں میں داخلے کی نوبت نہ آئے، ملک بھر میں سروے کرکے بزرگ افراد کے لیے ماہانہ الاؤنس مقرر کرے اور غریب و مستحق گھرانوں کو بجلی، گیس کے ظالمانہ کے بلوں سے نجات دلائی جائے۔ اگر حکمران اسی طرح شاہانہ انداز حکمرانی کو جاری رکھتے ہوئے اپنی غریب عوام کو بے یارو مددگار چھوڑنے کی روایت پر عمل پیرا رہتے ہیں تو انہیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ربّ کی عدالت کا احتساب کاسامنا کیسے کریں گے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک فلاحی ریاست ہے اور حکمرانوں کی اولین ذمے داری عوام کی فلاح ہونی چاہیے۔