سسٹم

ایک وقت تھا کہ ملک میں بھٹو کا بہت نام تھا، خوف بھی بہت تھا، تب قومی اسمبلی میں اپوزیشن کمزور تو تھی مگر ذہنی طور پر بہت پختہ تھی، جب آئین بن رہا تھا تو آئین میں اس نے بہت سی شقیں شامل کرائیں، اس دور کے بعد پھر قومی اسمبلی میں حکومت ایسی آئی اور نہ اپوزیشن، سسٹم نے حکومت اور اپوزیشن کو تین ٹانگوں کی دوڑ میں شامل کرنے کے لیے بوری دوڑ کا نظام متعارف کرادیا، بوری دوڑ یہ ہوتی ہے کہ دوڑ میں شریک دو مقابل کھلاڑی اپنی ایک ایک ٹانگ بوری میں ڈال کر بوری کا منہ باندھ کر ایک ٹانگ بنا لیتے ہیں اور یوں تین ٹانگوں کی دوڑ شروع کی جاتی ہے، برس ہا برس سے ملک میں سیاسی جماعتیں ایک ایسے سسٹم میں داخل ہوگئی ہیں کہ تین ٹانگوں کی دوڑ میں شریک ہیں، 1985 میں ضیاء الحق نے ملک میں غیر جماعتی انتخابات کرائے، اور یوں قومی اسمبلی میں برادری ازم کی بنیاد پر لوگ منتخب ہوکر آگئے۔ یہ برادری ازم آج بھی ملک کے سیاسی نظام کا حصہ ہے، جسے ہم سسٹم کہتے ہیں۔ ضیاء دور میں اگر چہ محمد خان جونیجو وزیر اعظم تھے، تاہم آٹھویں آئینی ترمیم کے بعد ملک میں بیش تر آئینی اختیارات صدر مملکت کے پاس چلے گئے، منتخب قومی اسمبلی کے یوم آغاز پر ہر سال پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے صدر کا خطاب اسی آٹھویں ترمیم کا حصہ ہے۔

جسے ضیاء الحق پسند نہیں، وہ آج بھی سسٹم کی وجہ سے آٹھویں ترمیم کی تین ٹانگوں کی دوڑ میں شریک ہے اس سے باہر نہیں ہے، پھر اس ملک میں1988 سے1990 تک آئی جے آئی اور پیپلزپارٹی کا ملاکھڑا ہوتا رہا،1993 میں پیپلزپارٹی نے صدر غلام اسحاق خان سے ہاتھ ملالیا اور انہوں نے نواز شریف کی حکومت کو چلتا کیا۔ 1997 میں مسلم لیگ (ن) نے صدر فاروق لغاری سے ہاتھ ملا لیا تو انہوں نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت اور وزیر اعظم کو بر طرف کردیا۔ نئے انتخابات ہوئے، ملک معراج خالد کی سربراہی میں نگران حکومت حکومت بنی، مگر فخر الدین جی ابراہیم نے نگران وزارت قانون سے استعفا دے دیا کہ انہیں سسٹم کام نہیں کرنے دے رہا، لہٰذا یوں احتساب کے بجائے ہر اس شخص کو بھی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی جس نے بینک سے قرض لے رکھا تھا اور واپس نہیں کیا تھا، یوں سسٹم ایک بار پھر کامیاب ہوگیا اور نگران وزیر اعظم ملک معراج خالد بھی کچھ نہ کرسکے۔ انتخابات ہوئے تو پولنگ کے روز اس وقت کے آرمی چیف جہانگیر کرامت ملک سے باہر تھے اور مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے جیت گئی، پیپلزپارٹی صرف سندھ کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی، نواز شریف کی حکومت 1999 میں بر طرف کردی گئی، اور پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال لیا، انہوں نے2002 میں انتخابات کرائے اور حکومت بھی اپنی مرضی اور اپوزیشن بھی اپنی مرضی کی تشکیل دی، اس کے بعد سے لے کر آج تک یہی سسٹم ہے، سیاسی جماعتیں صرف اپنا ہی سچ سننا پسند کرتی ہیں، یہی سب سے بڑی خرابی ہے اس سسٹم کی، اس کے بعد 2008 میں الیکشن ہوئے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میثاق جمہوریت کر چکی تھیں، جس میں یہ عہد موجود ہے کہ اقتدار کے لیے ماضی کی طرح ایک دوسرے خلاف نہیں جائیں گی، انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے بہت سے اہم مشاورتی اجلاس ہوئے، مسلم لیگ ن کے ایسا چانس تھا کہ حکومت سازی کرسکے، مگر پیپلزپارٹی کو موقع دیا گیا، تب یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بنے۔

1997 کے بعد ایک بار پھر آئین میں ترامیم لانے کا فیصلہ ہوا، اٹھارویں ترمیم اسی کے نتیجہ میں آئی، اب کہا جا رہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک کمرے میں بیٹھ جائیں اور سسٹم کو بہتر کریں یہ سسٹم کیسے بہتر ہوگا؟ حکومت اپوزیشن کو برداشت نہیں کرتی، اپوزیشن حکومت کو برداشت نہیں کرتی، ایسے میں سسٹم کیسے ٹھیک ہوگا، سیاسی جماعتوں کی باہمی سر پھٹول کی وجہ سے بیورو کریسی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے، بیوروکریسی مضبوط ہوتی جائے گی جب تک سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو برداشت نہیں کریں گی، جہاں تک جمہوریت اور انتخابات کا تعلق ہے، یہ آئین کے مطابق آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانب دارنہ ہونے چاہئیں، کوئی سیاسی جماعت اسٹیبلشمنٹ کی دلہن نہ بنے، تب سسٹم ٹھیک ہوگا، جب تک یہ نہیں ہوگا چھوٹے صوبے بنانے سے بھی فرق نہیں آئے گا اور اس سے بھی اہم بات، یہ کہ ہرحکومت، ملکی سرحدوں کی حفاظت، ملک کے دفاع اور اندرونی سلامتی کے تقاضوں پر سمجھوتا نہ کرے، ملک بھی مضبوط اور عوام بھی خوش حال، یہی ایک حل ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *