| |

پاک چین دوستی: سات دہائیوں پر محیط اعتماد، مشترکہ ترقی اور ایک روشن مستقبل کی داستان( حصہ دوم)

(حصہ دوم)
تحریر: سید اکبر( طاہر)

 چیف آپریٹنگ آفیسر
روزنامہ جسارت ، پاکستان
(عوامی جمہوریہ چین کے دورے سے قبل تحریر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سی پیک دوستی سے ترقی تک کا سفر
اگر پاک چین تعلقات کی پہلی چھ دہائیاں باہمی اعتماد، سیاسی ہم آہنگی اور دفاعی تعاون کی علامت تھیں تو گزشتہ ایک دہائی نے اس رشتے کو ایک نئی سمت عطا کی ہے۔ اب یہ دوستی صرف سفارتی بیانات یا اعلیٰ سطحی ملاقاتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سڑکوں، بندرگاہوں، بجلی گھروں، صنعتی زونز، تعلیمی منصوبوں اور جدید ٹیکنالوجی کی شکل میں ایک زندہ حقیقت بن چکی ہے۔ اس تاریخی تبدیلی کا نام چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ہے۔
2013ءمیں جب چین کے صدر شی جن پنگ نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کا تصور پیش کیا تو اس کا بنیادی مقصد ایشیا، افریقہ اور یورپ کو جدید زمینی اور بحری راستوں کے ذریعے باہم مربوط کرنا تھا۔ پاکستان اس عالمی وژن کا سب سے اہم شراکت دار بنا، کیونکہ اس کی جغرافیائی حیثیت اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور بحرِ ہند کے سنگم پر ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔
2015ءمیں سی پیک کے باضابطہ آغاز نے پاکستان کی اقتصادی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ اس منصوبے کا مقصد صرف شاہراہیں تعمیر کرنا نہیں تھا بلکہ پاکستان کی معاشی بنیاد کو مضبوط بنانا، توانائی کی قلت دور کرنا، صنعتی ترقی کو فروغ دینا اور علاقائی تجارت کے نئے دروازے کھولنا تھا۔

توانائی سے صنعتی ترقی تک
چند برس قبل پاکستان شدید توانائی بحران سے دوچار تھا۔ صنعتوں کی پیداوار متاثر ہو رہی تھی، کاروباری سرگرمیاں محدود تھیں اور سرمایہ کاری کا ماحول غیر یقینی کا شکار تھا۔ سی پیک کے تحت توانائی کے متعدد منصوبوں نے اس صورتحال میں نمایاں بہتری پیدا کی۔ کوئلے، پن بجلی، ہوا اور شمسی توانائی سے متعلق منصوبوں نے قومی گرڈ میں ہزاروں میگاواٹ بجلی کا اضافہ کیا، جس سے صنعتی سرگرمیوں کو نئی زندگی ملی۔
یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ کسی بھی بڑے منصوبے کی طرح سی پیک کو بھی مختلف معاشی، انتظامی اور مالی چیلنجز کا سامنا رہا، لیکن اس کے باوجود اس نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان منصوبوں کو زیادہ موثر انتظام، شفافیت اور مقامی استعداد کے فروغ کے ذریعے مزید کامیاب بنایا جائے۔سی پیک کے تحت توانائی کا شعبہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کی سب سے نمایاں مثال بن کر سامنے آیا۔ ان منصوبوں کے ذریعے کوئلے، پن بجلی، ہوا، شمسی توانائی اور بجلی کی ترسیل کے نظام میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی۔ ان میں سے متعدد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، بعض تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں، جبکہ چند مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں۔ ذیل میں ان اہم منصوبوں کی فہرست پیش کی جا رہی ہے:
-1 1320MW Sahiwal Coal-fired Power Plant 1320
-2 1320MW Coal-fired Power Plant at Port Qasim Karachi
-3 1320MW China Hub Coal Power Project, Hub Balochistan
-4 660MW Engro Thar Coal Power Project 660
-5 1000MW Quaid-e-Azam Solar Park (Bahawalpur)
-6 50 MW Hydro China Dawood Wind Farm, Gharo, Thatta
-7 100MW UEP Wind Farm, Jhimpir, Thatta
-8 50MW Sachal Wind Farm ,Jhimpir, Thatta
-9 100MW Three Gorges Second and Third Wind Power
-10 Matiari to Lahore ±660 KV HVDC Transmission Line Project 4,000 MW Evacuation Capacity
-11 720MW Karot Hydropower Project, AJK/Punjab
-12 330MW HUBCO Thar Coal Power Project (Thar Energy)
-13 1320MW SSRL Thar Coal Block-I 7.8 mtpa & Power Plant (2×660MW) (Shanghai Electric)
-14 330MW HUBCO ThalNova Thar Coal Power Project
-15 884MW Suki Kinari Hydropower Project, KP
-16 300MW Coal-Fired Power Project at Gwadar
-17 1124MW Kohala Hydropower Project, AJK
-18 700.7MW Azad Pattan Hydropower Project, AJK/Punjab
-19 1320 MW Thar Mine Mouth Oracle Power Plant & surface mine
-20 50MW Cacho Wind Power Project
-21 50MW Western Energy (Pvt.) Ltd. Wind Power Project
نوٹ: منصوبوں کی موجودہ صورتحال (مکمل، زیرِ تعمیر یا منصوبہ بندی) سرکاری معلومات کے مطابق وقتاً فوقتاً تبدیل ہو سکتی ہے۔

گوادر پاکستان کی اقتصادی تقدیر کا دروازہ
اگر سی پیک کو ایک درخت تصور کیا جائے تو گوادر اس کا سب سے قیمتی پھل ہے۔ بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع گوادر صرف ایک بندرگاہ نہیں بلکہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو اقتصادی قوت میں تبدیل کرنے کی ایک غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ دنیا کی بڑی تجارتی شاہراہیں اس کے قریب سے گزرتی ہیں، جس کے باعث گوادر مستقبل میں بین الاقوامی تجارت، لاجسٹکس اور سمندری معیشت کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔ گوادر میں جدید بندرگاہ، بین الاقوامی ہوائی اڈہ، فری زون، ایکسپریس وے، پانی اور بجلی کی فراہمی، شہری ترقی اور سماجی بہبود کے متعدد منصوبے اس وژن کا حصہ ہیں کہ یہ شہر صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی اقتصادی ترقی کا محرک بنے۔ تاہم گوادر کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب وہاں کے مقامی شہری بھی ترقی کے اس سفر میں برابر کے شریک ہوں۔ تعلیم، صحت، روزگار، فنی تربیت اور مقامی کاروبار کو فروغ دینا اس منصوبے کی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے۔گوادر کی ترقی صرف بندرگاہ کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ اسے ایک جدید، مربوط اور پائیدار ساحلی شہر میں تبدیل کرنے کا وژن بھی اس کا حصہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں متعدد اہم منصوبے مکمل ہوئے ہیں، کچھ زیرِ تعمیر ہیں، جبکہ کئی منصوبوں پر آئندہ مرحلے میں کام شروع ہونا ہے۔ ان منصوبوں کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے:
-1 Development of Port and Free Zone
-2 Gwadar Smart Port City Master Plan
-3 Pak-China Technical and Vocational Institute at Gwadar
-4 Gwadar Eastbay Expressway
-5 Pak-China Friendship Hospital
-6 1.2 MGD Desalination Plant
-7 New Gwadar International Airport
وہ پروجیکٹس جو زیر تعمیر ہیں
-8 Necessary facilities of fresh water treatment, water supply and distribution
-9 5 MGD Water Desalination Plant Gwadar
گوادر کے وہ منصوبے جن پر کام کا آغاز ہوگا
-10 300MW Coal-Fired Power Project at Gwadar
-11 Construction of Breakwaters
-12 Dredging of berthing areas & channels
-13 Fish Landing Jetty and Fishermen Boat Making Industry on West bay
-14 Gwadar Smart Environment Sanitation System and Landfill Project
نوٹ: منصوبوں کی موجودہ صورتحال (مکمل، زیرِ تعمیر یا منصوبہ بندی) سرکاری معلومات کے مطابق وقتاً فوقتاً تبدیل ہو سکتی ہے۔

خصوصی اقتصادی زونز روزگار اور برآمدات کا نیا باب
سی پیک کے دوسرے مرحلے کا سب سے اہم پہلو خصوصی اقتصادی زونز کا قیام ہے۔ فیصل آباد کا علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی، خیبر پختونخوا کا رشکئی اقتصادی زون، سندھ کا دھابیجی صنعتی زون اور دیگر منصوبے اسپیشل اکنامک زون، بلوچستان کا بوستان اسپیشل اکنامک زون، پنجاب کا موضع چشتیاں انڈسٹریل زون، گلگت بلتستان کا مقپونداس اسپیشل اکنامک زون، آزاد جموں و کشمیر کا میرپور اسپیشل اکنامک زون، ہزارہ اسپیشل اکنامک زون اور مہمند ماربل سٹی جیسے منصوبے پاکستان میں جدید صنعت، برآمدات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ زون صرف کارخانے قائم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی صنعت کی استعداد بڑھانے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو عالمی سپلائی چین سے جوڑنے اور نوجوانوں کو باوقار روزگار فراہم کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔

زراعت، معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی
پاک چین تعاون اب صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں رہا۔ چین نے زراعت میں جدید تحقیق، پانی کے موثر استعمال، معیاری بیج، زرعی مشینری، فوڈ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے میدان میں نمایاں ترقی کی ہے۔ پاکستان، جو ایک زرعی ملک ہے، اس تجربے سے بہت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں موجود معدنی وسائل کی جدید انداز میں تلاش، پراسیسنگ اور برآمد پاکستان کی معیشت میں نئی روح پھونک سکتی ہے۔ ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، فائبر آپٹک نیٹ ورک، ای کامرس، سائبر سکیورٹی اور جدید مواصلاتی نظام وہ شعبے ہیں جن میں پاک چین تعاون آئندہ برسوں میں مزید وسعت اختیار کرے گا۔

سی پیک فیز ٹو تعمیر سے خوشحالی تک
سی پیک کا دوسرا مرحلہ دراصل پاکستان کی اقتصادی خود انحصاری کی آزمائش ہے۔ پہلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچہ تعمیر ہوا، اب اصل مقصد یہ ہے کہ ان منصوبوں سے صنعت، برآمدات، روزگار، ٹیکنالوجی، تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی کو فروغ دیا جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اس مرحلے میں صرف بیرونی سرمایہ کاری پر انحصار نہ کرے بلکہ اپنی انتظامی صلاحیت، پالیسیوں کے تسلسل، شفاف طرزِ حکمرانی اور نجی شعبے کی شمولیت کو بھی مضبوط بنائے۔

دوستی کا اصل ثمر
کسی بھی بین الاقوامی منصوبے کی کامیابی کا معیار صرف اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں ہوتی، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے عام شہری کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی۔ اگر سی پیک کے نتیجے میں پاکستانی نوجوان کو بہتر تعلیم، جدید ہنر، باوقار روزگار، محفوظ مواصلاتی نظام، مضبوط صنعت اور بہتر معیارِ زندگی میسر آتا ہے تو یہی اس عظیم منصوبے کی اصل کامیابی ہوگی۔ اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سی پیک دراصل پاکستان اور چین کی دوستی کا معاشی اظہار ہے۔ اس نے اعتماد کو ترقی میں، دوستی کو خوشحالی میں اور مشترکہ وژن کو عملی منصوبوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ تاہم اس سفر کی منزل ابھی باقی ہے۔ مستقبل کا مرحلہ صرف سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کا نہیں بلکہ انسانوں کی تعمیر، علم کی ترقی، ٹیکنالوجی میں خود کفالت اور ایسی معیشت کے قیام کا ہے جو آنے والی نسلوں کو بھی ترقی کے مساوی مواقع فراہم کر سکے۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے اب ہم پاک چین تعلقات کے ایک اور اہم پہلو کی طرف بڑھتے ہیں؛ وہ پہلو جس نے دونوں ممالک کو صرف اقتصادی شراکت دار ہی نہیں بلکہ دفاع، سفارت، تعلیم، ثقافت، میڈیا اور عوامی روابط میں بھی ایک دوسرے کا قابلِ اعتماد ساتھی بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:    پاک چین دوستی: سات دہائیوں پر محیط اعتماد، مشترکہ ترقی اور ایک روشن مستقبل کی داستان (حصہ اول)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *