جناب بلاول زرداری کی توجہ کے لیے!

صوبۂ سندھ میں 16 دسمبر 1971 کو سقوطِ ڈھاکا کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور 5 جولائی 1975 تک جاری رہی، پھر 1988 سے 1990 اور 1993 سے 1996 تک کے دورانیوں پر مشتمل پیپلز پارٹی کی حکومت رہی۔ اکیسویں صدی میں 2008 سے تاحال تسلسل کے ساتھ صوبۂ سندھ پر پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ لہٰذا پیپلز پارٹی کے پاس یہ جواز نہیں ہے کہ اُسے صوبۂ سندھ میں حکمرانی اور عوام کی خدمت کے لیے مناسب وقت نہیں ملا۔ ہمیں اندازہ ہے کہ بیسویں صدی کے بعض دورانیوں میں ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کے لیے مشکلات بھی پیدا کیں۔ جنابِ بلاول زرداری کے پیپلز پارٹی کا چیئرمین ہونے کے سبب یقینا اُن کی وفاقی سطح پر بھی ذمے داریاں ہیں۔ اس وقت پاکستان کا منصبِ صدارت اور سینیٹ کے چیئرمین کا عہدہ بھی پیپلز پارٹی کے پاس ہے، نیزحال ہی میں گلگت بلتستان میں اُن کی حکومت قائم ہوچکی ہے اور آزاد کشمیر میں بھی تاحال ان کی حکومت قائم ہے۔ قومی سطح کی ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ یقینا صوبۂ سندھ کی پوری ذمے داری پیپلز پارٹی پر عائد ہوتی ہے۔ ہمیں یہ بھی اعتراف ہے کہ پیپلز پارٹی کی کچھ کارکردگی کے مسائل ہیں اور کچھ تاثر (Perception) بھی ہمیشہ منفی رہا ہے، ظہیر دہلوی نے کہا ہے:

کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوںکے آثار
اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنادیتے ہیں
نواب مصطفی خاں شیفتہ نے بھی کہا تھا:
ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

الغرض بدنامی یا ناقص کارکردگی کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کچھ زیادہ تگ ودو کرنے کی بھی روادار نہیں ہے۔ صدرزرداری کہا کرتے ہیں: ’’ہم تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں‘‘، یعنی اُن کی فہم کے مطابق اُن کی سَمت اور قبلۂ ترجیحات درست ہے اور اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی، لفظِ فہم کو شعراء نے مذکر بھی استعمال کیا ہے۔ یہ بھی کسی حد تک درست ہے کہ پیپلز پارٹی میں تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ دوسری جماعتوں کی بہ نسبت قدرے زائد ہے۔

ہمیںیہ بھی اعتراف ہے کہ سندھ میں قائم سرکاری اسپتالوں کے علاوہ حکومت اور نجی مُخَیِّر اداروں کی شراکت سے صحت کے میدان میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن، انڈس اسپتال کراچی اورگمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز خیر پور جیسے ادارے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان سے پاکستان بھر کے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ ان اداروں میں سب سے زیادہ حصہ قومی اور بین الاقوامی مخیر افراد اور اداروں کا ہے۔

ہمیں یہ بھی اعتراف ہے کہ جنابِ بلاول زرداری قومی سطح کی سیاست میں مصروفِ عمل ہیں، مگر انہیں حکومتِ سندھ کے معاملات کے سدھار پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ اسے وہ اپنی کارکردگی کے رول ماڈل کی طرح پیش کرسکتے ہیں، جیساکہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز پنجاب حکومت کی کارکردگی کو پیش کرتی ہیں اور سندھ کو تقابل کی دعوت دیتی ہیں۔ خاص طور پر کراچی یونیورسٹی روڈ کی انتہائی ناقص کارکردگی سندھ حکومت کے لیے ایک طعنہ بن چکی ہے اور اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے پیپلز پارٹی یا حکومتِ سندھ کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔ یونیورسٹی روڈ کو’’Bus Rapid Transit‘‘ کہا جاتا ہے، اردو میں ہم اسے ’’سریع الحرکت ذریعۂ نقل وحمل‘‘ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی اصل تکمیل ملیر ہالٹ سے مزارِ قائد تک ہوگی، مگر سرِ دست صفورہ چورنگی سے آگے ڈیفنس اسکوائر رائونڈ ابائوٹ سے جیل روڈ تک ہے۔ اس کے ابتدائی معاہدے پر 8 دسمبر 2021 کو دستخط ہوئے اور 10 مئی 2022 کو اس پر کام کا آغاز ہوا، اسے ابتدائی تخمینے کے مطابق 2023-24 تک مکمل ہونا تھا۔ مگر ناقص کارکردگی کے سبب یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوتا رہا ہے۔ ظاہر ہے اس کا سبب ٹھیکیدار کا غلط انتخاب ہوسکتا ہے، حالانکہ کسی بڑے منصوبے کا ٹینڈر جاری کرنے سے پہلے خواہش مند ٹھیکیداروں سے پیشگی اہلیت کا ثبوت مانگا جاتا ہے کہ آیا اُن کے کھاتے میں اس درجے کے کوئی بڑے منصوبے ہیں، جنہیں انہوں نے عمدہ کارکردگی اور اعلیٰ معیار کے ساتھ بروقت مکمل کیا ہو۔ دوسرا سبب ناقص نگرانی اور واجبات کی بروقت ادائیگی نہ ہونا ہے۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ آیا بولی میں حصہ لینے والے ٹھیکیداروں کے پاس مطلوبہ مشینری اور انجینئرنگ کی مہارت موجود ہے، کیونکہ کراچی تا حیدر آباد موٹروے اس لیے ناقص رہا کہ ٹینڈر لینے والے ادارے کے پاس یہ تمام لوازمات نہیں تھے۔ لہٰذا دیگر چھوٹے ٹھیکیداروں سے کام لیا گیا اور منصوبہ ناقص رہا۔

یہ سب کے علم میں رہے کہ کراچی یونیورسٹی روڈ کا منصوبہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے فراہم کردہ قرض سے تعمیر کیا جارہا ہے۔ ٹھیکیدار کی نا اہلی، مطلوبہ تعمیراتی سازو سامان اور انجینئرنگ کی مہارت کی عدم دستیابی اور سرکاری اداروں کی ناقص نگرانی کے سبب یہ منصوبہ غیر معمولی تاخیر کا شکار ہوا۔ چنانچہ اب یہ منصوبہ 79 ارب کے ابتدائی تخمینے سے بڑھ کر 103 ارب تک یعنی پانچ سو ملین ڈالر سے چھے سو ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور خدا معلوم کہ تکمیل تک اس کی کل مالیت کہاں تک پہنچے گی۔ بہر صورت اس کا مالی بوجھ صوبۂ سندھ کی معیشت پر پڑے گا۔ سابق ٹھیکیدار کو نا اہل اور بدعنوان قرار دے کر یہ منصوبہ اپریل 2026 میں فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کو دیا گیا اور وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بشارت دی کہ اب نوے دن میں یہ مکمل ہوجائے گا، مگر اب نوے دن کا دورانیہ بھی پورا ہورہا ہے اور اس کی تکمیل کے دور دور تک آثار نہیں ہیں۔ بس اتنا ہوا ہے کہ ٹریفک کی روانی کو قدرے بہتر بنایا گیا ہے۔ کراچی یونیورسٹی روڈ پر دیگر تعلیمی اداروں کے علاوہ چھے یونیورسٹیاں ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، کراچی یونیورسٹی، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، الکوثر یونیورسٹی، سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور وفاقی اردو یونیورسٹی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پوری سڑک

کمرشل ہے، اس پر ایکسپو سینٹر بھی ہے، جس میں ہر سال ’’Ideas‘‘ کے نام سے دفاعی سازو سامان اور دیگر مصنوعات کی نمائش ہوتی ہے، اس موقع پر دیگر ممالک کے صنعت کار اور حکومتوں کے نمائندے بھی آتے ہیں۔ اسی شاہراہ پر کرکٹ اسٹیڈیم کی لنک روڈ اور سوک سینٹر ہے، اس میں ادارۂ ترقیات کراچی اور شہری تنظیموں کے دفاتر ہیں۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ شاہراہ کتنی مصروف اور پرہجوم ہے، اس پر گاڑیوں کے شو روم بھی کثیر تعداد میں ہیں، دعوتِ اسلامی کا مرکز فیضانِ مدینہ بھی ہے، وغیرہ۔

ہمارے ہاں ایک شِعار یہ بھی ہے کہ کسی کی کارکردگی پر جائز وجوہ کی بنا پر سوال اٹھایا جائے تو اس کا تحقیقی جواب دینے کے بجائے الزامی جواب دیا جاتا ہے۔ اس سے فرد یا گروہ کی نفسیاتی تسکین تو ہوجاتی ہے، لیکن مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ مسئلہ تب حل ہوتا ہے جب کوئی اپنی تقصیر یا کوتاہی کا اعتراف کرے اور تمام دستیاب وسائل کو کام میں لاکر اس کا ازالہ کرے۔ الزامی جواب کی سائنس تو یہ ہے کہ کسی کی چوری کو اپنی چوری، کسی کے جرم کو اپنے جرم اور کسی کی ناقص کارکردگی کو اپنی ناقص کارکردگی کا جواز بنائے۔ ہمارے سیاست دان شب وروز یہی کام کرتے ہیں، ان کی مثال اس کہاوت کی سی ہے: ’’ایک شخص نے دوسرے سے کہا: جاٹ رے جاٹ تیرے سر پہ کھاٹ‘‘، اس نے جواباً کہا: ’’تیلی رے تیلی، تیرے سر پہ کولہو‘‘۔ اُسے کہا گیا: ’’حضور! آپ کا مصرع وزن میں نہیں ہے‘‘، اس نے جواباً کہا: ’’وزن ملے یا نہ ملے، کمر تو جھک جائے گی‘‘۔ پس یہی ہمارے سیاست دانوں کا شعار ہے کہ دوسروں کی تنقیص کو اپنی ناقص کارکردگی کا جواز بناتے ہیں، یہ د راصل حقائق سے چشم پوشی اور گریز کا راستہ ہے، جبکہ کامیابی کا اصل راز حقائق کا سامنا کرنے اور ان کا قابلِ عمل حل پیش کرنے میں مضمر ہے۔ میڈیا میں یہ بھی آیا کہ ٹھیکیدار کو آٹھ ارب روپے پیشگی ادا کردیے گئے اور اُس نے کام نہیں کیا، شاید یہ سوال عدالت میں اٹھایا گیا ہے۔ نوٹ: بعض معلومات اور اعداد وشمار ہم نے انٹرنیٹ سے لیے ہیں، اس لیے اس کی ذمے داری ہم پر عائد نہیں ہوتی تاوقتیکہ حکومت سندھ اپنے مصدقہ حقائق پیش کرے۔

Similar Posts

  • |

    بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات: چند معروضی حقائق (آخری حصہ)

    گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں یہ کہوں کہ بنگلہ دیش کے عوام کے جسم میں خون کا ایک قطرہ بھی […]

  • | |

    媒体、人文交流与致中国人民的巴基斯坦声音(第四部分)

    在当今世界,外交已不再局限于高堂华屋、政府部委与官方协议。现代国家间关系的真正根基,建立在民间交往、学术交流、文化融通与有担当的新闻传播之上。如果说两国政府打开了友谊的大门,那么媒体、高校、作家、艺术家、教师、学生以及广大普通市民,就是将这份友谊真正送入彼此心田的使者。 巴中两国关系之所以历久弥坚,一个重要原因在于两国不仅在官方层面,更在民间层面持续付出努力,以求相互理解、日益亲近。学习中文的巴基斯坦青年与日俱增,数以千计的巴基斯坦留学生在华深造,来到巴基斯坦的中国专家、工程师、教师和投资者源源不断,两国间频繁的文化与教育交流,更为这一传统友谊赋予了全新的时代内涵。 媒体:信任的默默建设者 在这个信息飞速传播的时代,媒体不仅是新闻的传递者,更是构建国家间信任的有力桥梁。一名恪守职责的新闻人、一篇客观公正的深度分析、一部真实详实的纪录片或一篇严谨的调研文章,都能在千万人心中塑造出一个国家的真实形象。 正因如此,巴中两国媒体肩负的责任比以往任何时候都更加重大——我们应当杜绝耸人听闻的炒作,转而大力弘扬真实客观、深度研究与积极正向的体验。将中国的科技进步、工业变革、教育体制、绿色环保项目以及社会秩序展现给巴基斯坦民众固然至关重要;同样地,向中国人民展示巴基斯坦的多彩文化、热情好客、青年潜力、媒体活力与发展前景也不可或缺。 作为一名新闻从业者,我深知笔端的责任绝不仅仅是撰写新闻,更是要在不同民族之间架起一座信任、尊重与对话的桥梁。 十人巴基斯坦媒体代表团:友谊的新篇章 本篇随笔收尾之际,恰逢一支由十人组成的巴基斯坦媒体代表团即将启程,赴中华人民共和国进行考察与友好访问。这支代表团不仅是一个记者群体,更承载着巴基斯坦人民对中国人民的深情厚谊、美好祝愿与赤诚之心。 此次访问旨在近距离观察、理解中国的经济发展、科技成就、现代工业、媒体生态、文化教育、技术创新、城市规划及社会民生,并将这些切身体验真实、客观地呈现给巴基斯坦民众。此类访问能够有效消除隔阂、增进互信,进一步筑牢两国民意的纽带。 我有幸作为代表团一员参与此次中国之行。在我看来,这不仅是一项专业的工作职责,更是一份代表巴基斯坦人民出访的至高荣誉。我将竭尽所能,亲眼见证中国的蓬勃发展、人民的勤劳自律、科研的卓越突破以及文化的独特魅力;归国后,我也必将本着求真、严谨与负责的态度,将这一切分享给我的读者。 致中国人民的巴基斯坦声音 若能有幸直接与中国人民对话,我首先想表达最诚挚的谢意——感谢你们在过去七十五年间,无论风雨欢笑,始终与巴基斯坦风雨同舟、并肩前行。在巴基斯坦人民心中,这段情谊绝非普通的外交关系,而是信任、真诚与相互尊重结出的累累硕果,是两国深厚交情的生动象征。 我们对中国举世瞩目的发展成就、科技突破、工业变革、严谨秩序与勤劳品质致以崇高敬意。我们坚信,这条繁荣之路不仅属于中国,更为整个亚洲注入了强大信心。 我们深切期盼,在未来的岁月里,巴中关系的内涵将远远超越政府与机构的框架,进而在学生、教师、科学家、记者、艺术家、作家、企业家以及广大青年之间展现出同样的勃勃生机与热忱。当两国人民能够深入了解彼此,信任便会更加坚实,未来也会愈发光明。 友谊之旅,未完待续 早在多年前,伟大诗人阿拉玛·穆罕默德·伊克巴尔(Allama Muhammad Iqbal)就曾预言东方复兴的曙光: “睁开双眼吧!看这大地,看这苍穹,看这浩瀚无垠的空间, 且看那轮东方冉冉升起的旭日。” […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *