بڈ شاہ سے سبز علی خان تک
قوموں کو اپنا مزاج اور قدیم روایات چھوڑ کر بدل جانے کے لیے ایک معمولی سا واقعہ، ایک گولی، ایک چھوٹا سا زخم یا طنز کا ایک تیر ہی کافی ہوتا ہے۔ یہ ہم نے چار عشرے پہلے کشمیر میں دیکھا تھا۔ جب ایک ایسی قوم سر پر کفن باندھ کر میدان میں نکلی اور ایسے نکلی نہ صرف یہ کہ اپنے ہیروز اور ولن، اپنے لوک گیت اور محاورے اور ترانے تک بدل دیے بلکہ اپنے بارے میں تاریخ کے قصے اور مستقبل کے امکانات کے جائزے سب کچھ بدل دیا۔ وادی کشمیر جو کبھی گریٹر کشمیر ہوا کرتی تھی ایک Artistic مزاج قوم کے طور پر مشہور تھی جسے علامہ اقبال نے چرب ودست وتر دماغ کہا تھا۔ اس کی سیاسی شناخت اور عدل ومساوات پر مبنی گورننس کے ماڈل میں سلطان زین العابدین بڈ شاہ (عظیم بادشاہ) اس کی فتوحات میں سلطان شہاب الدین اس کی دینی اور صوفی شناخت میں للہ عارفہ اور شیخ نورالدین نورانی اور علم وادب میں حبہ خاتون جیسی خواتین کے نام شامل تھے۔ گھروں میں کشمیر اور کشمیریت کی جب بھی بات ہوتی تھی تو ساری گفتگو سارے حوالے بس انہی ناموں کے گرد گھومتے تھے۔ اسی لیے گریٹر کشمیر کے زوال کے بعد بھی کشمیریوں نے اپنی پرامن اور آرٹسٹک شناخت کو بحال رکھا۔ کشمیریوں کے گھروں میں ہمیشہ انہی کرداروں اور دائروں میں گفتگو رہتی تھی۔ اسی لیے کشمیری اپنی زبان دانی، تہذیب وثقافت شعر ونغمہ دینی اور دنیاوی علوم کی مہارتوں پر فخر کرتے ہیں۔
اس تاریخ اور اس مزاج اور پس منظر کی حامل کشمیری قوم کی ایک نسل حالات سے تنگ آکر سیاسی اور انتخابی اسپیس نہ ہونے کی بنا پر ایسے اْٹھی کہ اپنے بارے میں قائم تمام تصورات کو بدل دیا۔ محاروں کو بدل دیا۔ اپنے ہیروز اور ولن تبدیل کردیے۔ اس قوم کے ٹین ایجرز نے بھارت جیسے بڑے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہاں تک کہ آزادکشمیر کے قومی ترانے کو بدل دیا۔ جس کے بول یوں تھے ’’تم بھی اْٹھو اہل وادی‘‘۔ اس بول میں یوں ترمیم ہوئی تم بھی اْٹھے اہل وادی۔ اس پس منظر اور شناخت کی حامل قوم جب اْٹھی تو اس کے دونوجوانوں نے چھتیس چھتیس گھنٹے تک فوج کا مقابلہ کیا اور پھر ایسے ہی ایک محاصرے میں گھرے نوجوان کی ماں کے ساتھ موبائل فون پر ہونے والی آخری گفتگو جدید کشمیر کی تاریخ کا ناقابل فراموش باب رہے گی۔ جس میں ایک بیٹا گولیوں کی آوازوں میں اپنی ماں سے خدمت نہ کر سکنے پر گڑگڑا کر معافی مانگ رہا ہے اور سادہ قسم کی ماں کشمیری زبان میں اپنے بیٹے کو کہہ رہی کہ بیٹا میں نے تمہیں خدا کے سپرد کیا اپنا دودھ معاف کردیا اب ہتھیار نہ چھوڑنا جا ربّ کے حوالے اور پھر ایک سنسناتی ہوئی گولی میں بیٹے کی آواز خاموشی میں ڈھل جاتی ہے۔
بھارت جوں جوں کشمیریوں کو مارتا گیا ان کی تضحیک کرتا گیا ا ن کی تذلیل کرتا گیا کشمیر اتنا ہی ناراض ہوتا چلا گیا۔ 1990 میں جب کشمیر میں حالات تیزی سے بگڑ رہے تھے تو انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر اسٹڈیز کے چیرمین پروفیسر خان زمان مرزا مرحوم کے ساتھ ہماری ایک نشست تھی جس میں انہوں نے ایک تاریخی جملہ کہا تھا۔ جن کشمیریوں نے عسکری انداز سے اْٹھنے میں چالیس سال لگادیے وہ بیٹھنے میں بھی چالیس سال لگائیں گے۔ آج چار عشرے ہونے کو ہیں کشمیریوں کے اپنے دوستوں کے ہاتھوں بندھے ہوئے ہاتھ کھل جائیں تو لمحوں میں منظر بدل سکتا ہے۔ گویا کہ کشمیری آج بھی کھڑا ہے۔ کسی نے تصور نہ کیا ہوگا کہ جس قوم میں ’’چراغ بیگ‘‘ نام کے افغان گورنر نے بدترین مظالم کے ذریعے کے بغاوت حریت اور ہتھیار اْٹھانے کے جذبات ہمیشہ کے لیے کھرچ ڈالے تھے آنے والوں زمانوں میں اس کی کوئی جدید تعلیم یافتہ نسل ایک بار پھر سروں پر کفن باندھ کر نکلے گی۔ اس کے برعکس آزادکشمیر کا جو علاقہ میدان جنگ بنا ہوا ہے اس کی تاریخ مزاج وادی سے قطعی مختلف ہے۔ پونچھ اور راولاکوٹ میں جن کرداروں کو آئیڈیلایز کیا جاتا ہے وہ سردار ملی خان اور سبز علی خان ہیں۔ ان کرداروں کی شناخت مزاحمت اور بغاوت تھی۔ ان سے منسوب وہ واقعہ اس خطے کی سب سے بڑی لوک داستان ہے کہ جس میں ظالم طاقتوں نے منگ کے میدان میں ان دو حریت پسندوں کی زندہ حالت میں کھالیں کھینچی تھیں۔ وادیِ کشمیرکے برعکس وادیِ پرل کے گھروں میں بچے حبہ خاتون اور للہ عارفہ کی کہانیاں نہیں سبز علی اور ملی خان کے قصے سنتے ہوئے جوان ہوتے ہیں۔ ان کے بچوں کے لیے فخر اور برتری کا حوالہ یہی کردار ہیں۔ اس ماحول میں پروان چڑھنے والی نسلیں مزاجاً ہی مزاحمت اور بغاوت پسند بن جاتی ہیں۔ یہی عسکری مزاج اس علاقے کے لوگوں کو برٹش آرمی میں لے گیا۔ یہی مزاج ڈوگرہ فوج میں اس کے بعد پاکستانی فوج میں لے گیا۔ یہی مزاج انہیں ڈوگرہ اور بھارتی فوج کے خلاف متحرک کر بیٹھا اور انہوں نے ایک ایک انچ کی لڑائی لڑی۔ یہی مزاج تھا کہ سری نگر جیسے ماحول میں جب ڈوگرہ حکومت پورے دبدبے کے ساتھ قائم تھی سردار ابراہیم کو اپنے گھر میں قراردار الحاق پاکستان منظور کرنے جیسی جرأت رندانہ کرنے پر آمادہ کر بیٹھا۔
کس حکیم نے اسلام آباد کے فیصلہ سازوں کو مشورہ دیا ہے کہ اس مزاج کو خاردار بھی کریں اور زچ بھی۔ جو ماں اپنے بیٹے کی لاش پر اسے نعروں کے ساتھ الوداع کرے تو اس منظر سے خوف کھانا چاہیے۔ حکمرانوں کو کون سمجھائے کہ وہ کس علاقے میں طاقت کے استعمال کی یک رُخی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں؟۔ سردار یعقوب خان کی بات نہ سنیں کارگل جنگ کے حکمت کار سردار عزیز خان جیسے کردار بقید حیات ہیں انہی سے ان کے لوگوں کے مزاج نفسیات اور انہیں ہینڈل کرنے کے تاریخی طریقے پوچھ لیں۔ کسی کو اتنا زچ نہیں کرنا چاہیے کہ حبہ خاتون والے بھی طاقت کے آگے سپر ڈالنے کے بجائے عشق کی دھمال شروع کردیتے ہیں۔ اب جبکہ ایکشن کمیٹی کے سب سے ’’خطرناک‘‘ کردار سردار امان نے اسٹیج سے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارتی ایجنٹ نہیں یاسین ملک آسیہ اندرابی اور برہان وانی کے پیروکار ہیں۔ راولاکوٹ کوہ قاف کے اس پار تو نہیں پاکستان کے آزاد منش دانشوروں اور باضمیر میڈیا کا فرض بنتا ہے کہ وہ سردار امان سے جا کر معلوم کریں کہ وہ کیا حالات تھے؟ کہ سوئے ہوئے لوگ یوں سروں پر کفن باندھ کر نکلے۔ ان سے پوچھا جائے کہ انہیں کیوں نہ بھارت کا ایجنٹ لکھا اور پکارا جائے؟ سری نگر میں پاکستانی کرنسی اور راولاکوٹ میں بھارتی کرنسی برآمد کرنے والوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کرنسی کا کوئی اچار ڈالے گا۔ ڈالروں کے دور میں حریف ملکوں کی کرنسیاں برکت کے تعویز کے طور پر رکھنے کے سوا اور کسی کو کیا مل سکتا ہے؟ یہی ذہنیت محدب عدسے سے آزادکشمیر کے لوگوں کی آوازوں میں بھارتی ہاتھ، علٰیحدگی پسندی، پاکستان مخالف جراثیم تلاش کررہی ہے۔ پاکستان کے باضمیر لوگوں نے اس ذہنیت کو کھلا چھوڑا تو یہ یہاں ایسے تمام جراثیم پیدا کرکے چھوڑے گی جو آج محدب عدسے سے بھی دکھائی نہیں دیتے۔