تبدیلی کا بنجارہ

پاکستان کے کنٹرولڈ کارپوریٹ میڈیا کو جنتر منتر احتجاج اور بھارتی جین زی کی تحریک پر خوشی کے شادیانے بجانے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ بیداری اور تبدیلی کی تحریکیں سرحدوں اور باڑھ کی پابند نہیں ہوتی۔ یہ خوشبو کا سفر ہوتا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے پر احتجاج کی لہر مشرقی یورپ سے چلی۔ دیوار برلن کو گرایا۔ وسط ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہوئی ریڈ اسکوائر بیجنگ تک پہنچی۔ جہاں چینی فوج نے طلبہ پر ٹینک چڑھا کر اس لہر کو کچل ڈالا۔ عرب بہار تیونس میں ایک ریڑھی بان کی خودسوزی سے شروع ہوئی اور پورے عالم عرب کو اپنی لپیٹ میں لی بیٹھی۔ مصر کے طاقتور ڈکٹیٹر حسنی مبارک کا تخت بھی انقلاب کی لہروں میں بہہ گیا جنوبی ایشیا میں جین زی اور اسمارٹ فون کا انقلاب بنگلا دیش، سری لنکا اور نیپال میں اتھل پتھل کر چکا ہے۔ پاکستان میں جین زی کی بے چینی کی گردن طاقت کے پیروں تلے ہے۔ جو مختلف انداز سے خواہ گورنمنٹ کالج لاہور کے طلبہ کے سوالوں کی صورت یا’’نک دا کوکا‘‘ گانے والے ملکو کی پزیرائی کی صورت ہی کیوں نہ ہو سر اٹھاتی اور دبا دی جاتی ہے۔ بھارت میں انا ہزارے کی تحریک سے جامعہ ملیہ اور شاہین باغ تک تحریکیں اسی انجام سے دوچار ہوتی رہیں۔ کشمیر میں گزشتہ دہائی میں جین زی بار بار اٹھتی رہی اور برہان جیسا

مقبول پوسٹر بوائے پیدا کرچلی۔ سونم وانگ چک بھارت کے مراکز سے دور سابق ریاست جموں وکشمیر کی لداخ کا ایک ماہر ماحولیات اور سماجی راہنما جنتر منتر کا میلہ سجانے اور بھارتی نوجوان کو جگانے میں کامیاب ہورہا ہے۔ چند برس پہلے گلگت بلتستان عوامی مظاہروں کی لپیٹ میں آیا۔ اس تحریک کی قیادت عوامی ایکشن کمیٹی نے کی۔ گلگت کے عوام نے بنیادی ضروریات کے لیے محیر العقول مظاہرے کیے۔ آزادکشمیر اس وقت خوابیدہ تھا۔ گلگت کی عوامی ایکشن کمیٹی اس کے نعروں اور مظاہروں نے شعوری اور غیر شعوری طور پر آزادکشمیر کو متاثر کیا۔ یہاں بھی ایکشن کمیٹی بنی اور گلگت کے پیٹرن پر آگے بڑھتی گئی۔ ایکشن کمیٹی نے جتنے بڑے مظاہرے منعقد کیے۔ آزادکشمیر میں ان کا رواج ہی ختم تھا مگر پھر منظر بدلتا گیا۔ طاقت کی پرستش کی رسم وریت کے خلاف بغاوت کی ہوائیں چل پڑیں۔ آج راولاکوٹ دریک سے دہلی تک لوگ نکل رہے ہیں۔ کچھ عجب نہیں کہ راولاکوٹ کی لہریں کنٹرول لائن عبور کرکے دوبارہ سری نگر پونچھ راجوری کو اپنی لپیٹ میں لیں۔ تب گودی میڈیا اور میجر گورو آریا کو پتا چلے گا کہ آزادکشمیر کے عوام کی حمایت میں مگرمچھ کے آنسو بہا کر وہ اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مار رہے تھے۔ تبدیلی اور بیداری کا بنجارہ جب سودا لاد کر چل پڑتا ہے تو وہ ملک و قوم اور حدود وقیود سے بے نیاز ہر دروازے پر دستک دیتا اور آوازہ ضرور لگاتا ہے۔ برسوں سے یہ بنجارہ ابھی جنوبی ایشیا کی حدود میں موجود ہے اور اس دائرے سے نکلنے نہیں پایا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *