حماس کی نئی قیادت کا امتحان

حماس کی جانب سے خلیل الحیا کو سیاسی بیورو کا نیا سربراہ منتخب کیا جانا محض ایک تنظیمی تبدیلی نہیں بلکہ فلسطینی سیاست، غزہ کی موجودہ صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ ایسے وقت میں جب غزہ مسلسل جنگ، تباہی، انسانی بحران اور سفارتی تعطل کا شکار ہے، اس انتخاب نے کئی بنیادی سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا حماس اپنی سیاسی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی لائے گی، کیا مزاحمت اور سفارت کاری کے درمیان کوئی نیا توازن پیدا ہوگا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا غزہ کے لاکھوں متاثرین کو امن، تحفظ اور باوقار زندگی کی کوئی اُمید مل سکے گی؟ فلسطینی سیاست کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو 1970 کی دہائی میں یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) فلسطینی عوام کی سب سے بڑی نمائندہ قوت بن کر ابھری۔ تاہم اوسلو معاہدے کے بعد فلسطینی معاشرے کے ایک بڑے طبقے میں یہ احساس پیدا ہوا کہ قومی جدوجہد اپنے بنیادی مقاصد سے ہٹ رہی ہے۔ اسی پس منظر میں شیخ احمد یاسین کی قیادت میں 1980 کی دہائی کے آخر میں حماس نے ایک نئی مزاحمتی تحریک کے طور پر جنم لیا، جس نے رفتہ رفتہ فلسطینی سیاست میں ایک مؤثر مقام حاصل کر لیا۔

خلیل الحیا کا انتخاب اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہ ایک ایسے دور میں ہوا ہے جب حماس اپنی اعلیٰ قیادت کے متعدد رہنماؤں سے محروم ہو چکی ہے۔ اسماعیل ہنیہ اور یحییٰ سنوار کی شہادتوں کے بعد تنظیم کو قیادت کے ایک مشکل بحران کا سامنا تھا، لیکن جنرل شوریٰ کونسل کے ذریعے باقاعدہ انتخابی عمل کا انعقاد اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ حماس اپنی داخلی تنظیمی ساخت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ خالد مشعل جیسے تجربہ کار رہنما کے مقابلے میں محض ایک ووٹ کی برتری سے کامیابی اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ تنظیم کے اندر مختلف آراء اور حکمت عملیوں پر سنجیدہ بحث موجود ہے۔ خلیل الحیا کی شخصیت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ 1960 میں غزہ میں پیدا ہونے والے الحیا نے اسلامی تعلیمات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں تدریسی اور انتظامی خدمات انجام دیں اور حماس کے قیام کے ابتدائی دور سے تحریک کا حصہ رہے۔ پہلی انتفاضہ کے دوران متعدد مرتبہ اسرائیلی قید اور تشدد کا سامنا کیا، جبکہ گزشتہ دو دہائیوں میں ان کے خاندان نے بھی جنگ کی بے پناہ قیمت ادا کی۔ ان کے تین جواں سال بیٹے، قریبی عزیز اور اہل خانہ اسرائیلی حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہی ذاتی قربانیاں انہیں حماس کے اندر ایک ایسی شخصیت بناتی ہیں جو مزاحمت کے بیانیے کے ساتھ ساتھ غزہ کے عوامی دکھ درد کو بھی قریب سے جانتی ہے۔

سیاسی اعتبار سے الحیا کو نسبتاً عملیت پسند رہنما تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے متعدد جنگ بندی مذاکرات، قیدیوں کے تبادلے اور قطر و مصر کی ثالثی سے ہونے والی سفارتی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین ان کے انتخاب کو مستقبل میں ممکنہ سفارتی پیش رفت کے لیے ایک اہم موقع قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ ان کے ایران کے ساتھ تعلقات اور مزاحمتی محور سے قربت کسی سے پوشیدہ نہیں، لیکن وہ مختلف علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں سے بات چیت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ یہی توازن شاید آنے والے دنوں میں حماس کی سب سے بڑی ضرورت ثابت ہوگی۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ غزہ کے عوام کی اولین ترجیح قیادت کی تبدیلی نہیں بلکہ اپنی بقا ہے۔ لاکھوں بے گھر افراد، ہزاروں یتیم بچے، بے شمار بیوائیں، تباہ شدہ اسپتال، ملبے کا ڈھیر بنے شہر، خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت یہ سب ایسے مسائل ہیں جنہوں نے عام فلسطینی کے لیے سیاسی مباحث کو ثانوی بنا دیا ہے۔ غزہ کے شہری آج یہ نہیں پوچھ رہے کہ کون رہنما منتخب ہوا، بلکہ ان کا سوال یہ ہے کہ کون انہیں محفوظ زندگی، کھانا، پانی، علاج اور مستقبل فراہم کرے گا۔ اسی لیے خلیل الحیا کی قیادت کا اصل امتحان عسکری یا تنظیمی میدان میں نہیں بلکہ انسانی اور سیاسی سطح پر ہوگا۔ انہیں ایک طرف حماس کے داخلی اتحاد کو برقرار رکھنا ہے تو دوسری طرف فلسطینی عوام کے کمزور ہوتے اعتماد کو بھی بحال کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی دھڑوں کے درمیان ہم آہنگی، ممکنہ سیاسی اصلاحات اور غزہ کی مستقبل کی انتظامی ساخت جیسے پیچیدہ معاملات بھی ان کے سامنے ہوں گے۔ اگر حماس واقعی غزہ کی سول انتظامیہ کو ایک قومی یا ٹیکنوکریٹک ڈھانچے کے حوالے کرنے پر آمادہ ہوتی ہے تو یہ فلسطینی سیاست میں ایک نئی جہت کا آغاز ہو سکتا ہے۔

عالمی سطح پر بھی حالات بدل رہے ہیں۔ امریکا، عرب ممالک، قطر، مصر، ترکی اور اقوام متحدہ سمیت مختلف فریق غزہ کے مستقبل کے حوالے سے کسی قابل ِ عمل سیاسی حل کی تلاش میں ہیں۔ ایسے میں حماس کی نئی قیادت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ صرف عسکری حکمت عملی تک محدود نہ رہے بلکہ سفارت کاری، علاقائی تعاون اور سیاسی حقیقت پسندی کو بھی اپنی پالیسی کا حصہ بنائے۔ مستقل جنگ کسی بھی قوم کے لیے پائیدار راستہ نہیں ہو سکتی، جبکہ انصاف پر مبنی امن ہی فلسطینی عوام کے دیرینہ حقوق کے حصول کا زیادہ مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

اس وقت غزہ کی سب سے بڑی ضرورت صرف نئی قیادت نہیں بلکہ نئی حکمت عملی، نئے اعتماد اور نئی امید کی ہے۔ فلسطینی عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت ان کے دکھوں کو محض نعروں میں نہیں بلکہ عملی فیصلوں میں بھی ترجیح دے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیل الحیا کی قیادت سے وابستہ توقعات محض تنظیمی تبدیلی تک محدود نہیں ہونی چاہئیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ حماس کی نئی قیادت ایک طرف ہزاروں شہداء، یتیموں اور بیوگان کے احساسات کی حقیقی ترجمانی کرتے ہوئے ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوشش کرے گی، تو دوسری جانب زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اہل ِ غزہ کو اسرائیلی ظلم و درندگی کے تسلسل سے نکالنے کے لیے حکمت، تدبر اور سیاسی بصیرت کاعملی مظاہرہ بھی کرے گی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *