7 اگست: عوام کا فیصلہ، پٹرولیم لیوی نامنظور!

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہمیشہ سے عوامی توجہ کا مرکز رہی ہیں، لیکن حالیہ دنوں حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں کے روزانہ تعین کی تجویز نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نظام سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اُتار چڑھاؤ کا اثر فوری طور پر عوام تک منتقل ہو سکے گا، مگر عوام کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ فوری ردِعمل صرف قیمتیں بڑھانے کے لیے ہوگا یا قیمتیں کم ہونے پر بھی اسی رفتار سے ریلیف ملے گا؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ برسوں سے حکومت اور متعلقہ ادارے یہی مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کم ہونے کا فائدہ فوری طور پر عوام تک منتقل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ درآمد، ریفائننگ اور ترسیل کے مراحل میں تقریباً دو ماہ لگتے ہیں۔ یہی دلیل ہر مرتبہ دہرائی گئی اور عوام مہینوں تک مہنگا پٹرول خریدنے پر مجبور رہے۔ لیکن اب جب عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوا تو اچانک روزانہ قیمتوں کے تعین کی بات ہونے لگی۔ سوال یہ ہے کہ اگر اضافہ روزانہ منتقل ہو سکتا ہے تو کمی بھی روزانہ کیوں نہیں؟ یہ تضاد عوام کے ذہنوں میں شکوک پیدا کرتا ہے۔ شفافیت صرف قیمت بدلنے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ہر اضافہ اور ہر کمی یکساں اصولوں کے تحت عوام تک پہنچے۔

دنیا کے کئی ممالک، جیسے امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، جاپان، سنگاپور اور متعدد یورپی ممالک میں پٹرول کی قیمتیں مارکیٹ کی بنیاد پر روزانہ تبدیل ہوتی ہیں، مگر وہاں اس نظام کے ساتھ مضبوط مسابقت، آزاد ریگولیٹری ڈھانچہ، شفاف ٹیکس نظام، مستحکم کرنسی، بہتر عوامی آمدن اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ بھی موجود ہے۔ پاکستان میں ان بنیادی شرائط کے بغیر صرف روزانہ قیمتیں نافذ کرنا عوام کے لیے مزید غیر یقینی پیدا کر سکتا ہے۔ پاکستان میں پٹرول صرف ایک ایندھن نہیں بلکہ پوری معیشت کی رفتار کا تعین کرتا ہے۔ ایک روپے کا اضافہ بھی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے، جس کے بعد سبزی، پھل، دودھ، آٹا، چینی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اگر قیمتیں روزانہ تبدیل ہونے لگیں تو کیا کرایے بھی روزانہ بدلیں گے؟ کیا صنعت کار روزانہ اپنی مصنوعات کی نئی قیمت مقرر کریں گے؟ کیا ہر دکاندار ہر صبح نیا ریٹ لسٹ آویزاں کرے گا؟ یا پھر ہمیشہ کی طرح اضافہ فوراً نافذ ہوگا اور کمی کبھی مکمل طور پر عوام تک نہیں پہنچے گی؟ یہ خدشات اس لیے بھی حقیقت سے قریب ہیں کہ پاکستان میں قیمتیں بڑھانے کی رفتار ہمیشہ بہت تیز رہی ہے، جبکہ قیمتیں کم کرنے میں مختلف جواز پیش کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام روزانہ قیمتوں کے نظام کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

اس تمام معاملے کا ایک اور اہم پہلو پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکس ہیں۔ عوام سے وصول کی جانے والی قیمت کا ایک بڑا حصہ خام تیل کی قیمت نہیں بلکہ مختلف ٹیکسوں، لیویوں، ڈیوٹیوں اور مارجنز پر مشتمل ہوتا ہے۔ 18 جولائی 2026 کے نرخوں کے مطابق ایک لیٹر پٹرول کی بنیادی لاگت تقریباً 191 روپے 42 پیسے بنتی ہے، جبکہ صارف سے 315 روپے 15 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔ یعنی فی لیٹر 124 روپے 73 پیسے مختلف مدات میں وصول کیے جا رہے ہیں، جن میں پٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجنز شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار خود ایک سوال ہیں۔ اگر حکومت قیمت میں اضافے کا جواز عالمی منڈی کو قرار دیتی ہے تو پھر عالمی منڈی میں کمی آنے پر ٹیکسوں اور لیوی میں بھی اسی تناسب سے کمی کیوں نہیں کی جاتی؟ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ فی لیٹر قیمت میں خام تیل کی اصل لاگت کتنی ہے اور حکومتی محصولات کا حصہ کتنا ہے۔ اسی سوال کو آئینی سطح پر بھی اٹھایا گیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کی، جسے باقاعدہ نمبر الاٹ کیا جا چکا ہے۔ یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ اب یہ معاملہ صرف سیاسی جلسوں یا عوامی احتجاج تک محدود نہیں رہا بلکہ آئینی اور قانونی فورم پر بھی پہنچ چکا ہے۔ اگر عدالت اس درخواست پر عوامی مفاد میں کوئی اصولی فیصلہ دیتی ہے تو یہ مستقبل میں پٹرولیم پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اسی تناظر میں جماعت اسلامی نے 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔ اس احتجاج کا مرکزی مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کا خاتمہ ہے۔

جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم لیوی عوام پر ایک ایسا اضافی مالی بوجھ ہے جسے حکومتی آمدنی کا مستقل ذریعہ بنا لیا گیا ہے، حالانکہ اس کا براہ راست تعلق خام تیل کی عالمی قیمت سے نہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ طلبہ، نوجوان، مزدور، کسان، بائیک رائیڈرز، ڈیلیوری بوائز، کورئیر سروس سے وابستہ افراد، ٹرانسپورٹرز اور دیگر طبقات 7 اگست کو پرامن احتجاج میں شریک ہوں تاکہ حکومت تک یہ پیغام پہنچ سکے کہ مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام مزید بوجھ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ احتجاج صرف پٹرول کی قیمت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر معاشی پالیسی پر سوالیہ نشان بھی ہے۔ پاکستان میں ہر بجٹ کے بعد عوام کو بتایا جاتا ہے کہ نئے ٹیکس لگانا ناگزیر ہیں، لیکن حکومتی اخراجات، خسارے میں چلنے والے اداروں، شاہانہ انتظامی اخراجات اور ٹیکس چوری کے بڑے راستوں پر وہ توجہ نظر نہیں آتی جس کی عوام توقع رکھتے ہیں۔ ایسے میں آسان ترین راستہ یہی سمجھا جاتا ہے کہ پٹرولیم لیوی بڑھا کر محصولات اکٹھی کر لی جائیں، کیونکہ اس کا بوجھ ہر شہری پر یکساں پڑتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک مزدور جو موٹرسائیکل پر روزانہ کام پر جاتا ہے، ایک کسان جو ڈیزل سے ٹیوب ویل چلاتا ہے، ایک رکشہ ڈرائیور، ایک بس آپریٹر، ایک آن لائن ڈیلیوری رائیڈر اور ایک چھوٹا تاجر، سب سے پہلے اسی بوجھ کا شکار بنتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مہنگائی کا دائرہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اگر حکومت واقعی اصلاحات چاہتی ہے تو اسے صرف روزانہ قیمتوں کا نظام نافذ کرنے کے بجائے پورے ڈھانچے کو شفاف بنانا ہوگا۔ ہر روز قیمت کے ساتھ خام تیل کی عالمی قیمت، ڈالر کی شرح، ریفائننگ لاگت، پٹرولیم لیوی، دیگر ٹیکس، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھی جائیں تاکہ کسی قسم کے شبہات باقی نہ رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ عالمی منڈی میں جتنی تیزی سے قیمتیں بڑھتی ہیں، اتنی ہی تیزی سے کمی کا فائدہ بھی عوام تک منتقل ہو۔ اگر اضافہ عالمی اصولوں کے مطابق ہے تو کمی بھی انہی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے۔

7 اگست کا احتجاج اسی احساس کی علامت ہے کہ عوام اب صرف قیمتوں میں وقتی کمی نہیں بلکہ ایک منصفانہ، شفاف اور جواب دہ معاشی نظام چاہتے ہیں۔ یہ احتجاج کامیاب ہو یا نہ ہو، اس نے ایک اہم بحث ضرور چھیڑ دی ہے کہ کیا حکومت اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمیشہ عوام کی جیب ہی کو آسان ہدف بناتی رہے گی یا اب ٹیکس نظام، اخراجات اور معاشی ترجیحات پر بھی سنجیدگی سے نظرثانی کی جائے گی؟ معیشت صرف ٹیکس اکٹھا کرنے سے مضبوط نہیں ہوتی بلکہ اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔ اعتماد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب حکومت کا ایک ہی اصول ہو: قیمت بڑھنے پر بھی انصاف، قیمت کم ہونے پر بھی انصاف، اور ٹیکس لگانے میں بھی انصاف۔ اگر یہ اصول اختیار نہ کیا گیا تو ہر نئی قیمت کے ساتھ عوام کا اعتماد مزید کم ہوتا جائے گا، اور یہی کسی بھی معیشت کے لیے سب سے بڑا نقصان ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *