پاک چین دوستی: سات دہائیوں پر محیط اعتماد، مشترکہ ترقی اور ایک روشن مستقبل کی داستان (حصہ اول)
(حصہ اول)
تحریر: سید اکبر (طاہر)
چیف آپریٹنگ آفیسر
روزنامہ جسارت، پاکستان
(عوامی جمہوریہ چین کے دورے سے قبل تحریر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“قوموں کی دوستی کا حقیقی پیمانہ مشترکہ مفادات نہیں، بلکہ وہ اعتماد ہوتا ہے جو وقت کی ہر آزمائش میں مزید مضبوط ہوتا چلا جائے۔ پاکستان اور چین کا تعلق اسی اعتماد کی ایک تابندہ مثال ہے۔”
بین الاقوامی سیاست کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ریاستوں کے درمیان تعلقات اکثر طاقت کے توازن، معاشی مفادات اور وقتی سیاسی ضرورتوں کے تابع ہوتے ہیں۔ عالمی منظرنامہ بدلتا ہے تو خارجہ پالیسیاں بھی نئے رخ اختیار کر لیتی ہیں، اتحادی تبدیل ہو جاتے ہیں اور برسوں پرانے معاہدے بھی اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔ لیکن تاریخ کے طویل سفر میں چند تعلقات ایسے بھی سامنے آتے ہیں جو محض سیاسی مصلحتوں کے اسیر نہیں ہوتے بلکہ باہمی اعتماد، اخلاص، احترام اور مشترکہ اقدار کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ پاکستان اور عوامی جمہوریہ چین کے تعلقات اسی زمرے میں آتے ہیں۔
آج جب پاک چین دوستی کا ذکر ہوتا ہے تو دنیا اسے محض دو ہمسایہ یا دوست ممالک کے تعلقات کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ اسے بین الاقوامی سفارت کاری کی ایک کامیاب مثال قرار دیتی ہے۔ اس دوستی نے جنگوں، معاشی بحرانوں، عالمی صف بندیوں، علاقائی کشیدگی اور بدلتے ہوئے عالمی نظام کے باوجود اپنی مضبوطی برقرار رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک چین تعلقات کو اکثر “ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہرے، شہد سے میٹھے اور فولاد سے زیادہ مضبوط” قرار دیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک استعارہ ہے، مگر اس کے پس منظر میں سات دہائیوں پر محیط ایک ایسی تاریخ موجود ہے جس نے اس تعبیر کو حقیقت کا رنگ عطا کیا ہے۔
پاکستان ان اولین مسلم ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 21 مئی 1951ء کو عوامی جمہوریہ چین سے باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات قائم کیے۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا سرد جنگ کی کشمکش میں دو بڑے بلاکس میں تقسیم ہو چکی تھی۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا محض ایک رسمی قدم نہیں تھا بلکہ ایک دور اندیش فیصلہ تھا۔ وقت نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم ترین سنگِ میلوں میں سے ایک تھا۔
اس تعلق کی مضبوطی صرف سرکاری معاہدوں کی مرہونِ منت نہیں رہی بلکہ دونوں ممالک کی قیادت نے ہر دور میں اسے اعتماد اور باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھایا۔ 2 مارچ 1963ء کا تاریخی سرحدی معاہدہ اس اعتماد کا پہلا بڑا اظہار تھا،جس میں پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان اور چین کے زیر انتظام سنکیانگ کے درمیان باونڈری پر اتفاق کیا گیا جس پر دونوں طرف کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے۔اس کے بعد 1971ء میں امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی رابطوں کے قیام میں پاکستان نے جو خاموش مگر مؤثر کردار ادا کیا، وہ آج بھی عالمی سفارت کاری کی تاریخ کا ایک اہم باب سمجھا جاتا ہے۔ اس کردار کو چین نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔
یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ پاک چین دوستی کا سفر صرف حکومتوں کا سفر نہیں، بلکہ دو قوموں کے درمیان اعتماد کا سفر بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان کو دفاعی میدان میں چیلنجز درپیش آئے، چین اس کے ساتھ کھڑا رہا، اور جب چین کو بین الاقوامی فورمز پر اپنے مؤقف کی حمایت درکار ہوئی تو پاکستان نے بھی کبھی پس و پیش سے کام نہیں لیا۔ اقوامِ متحدہ سے لے کر دیگر عالمی اداروں تک، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کی مسلسل حمایت کی ہے۔
اگرچہ پاک چین تعلقات کی بنیاد سفارت کاری اور سلامتی کے شعبوں میں مضبوط ہوئی، لیکن وقت کے ساتھ اس رشتے نے نئی جہتیں اختیار کیں۔ تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، توانائی، تعلیم، زراعت، سائنس، خلائی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور عوامی روابط نے اس تعلق کو مزید وسعت عطا کی۔ آج یہ دوستی صرف سیاسی نعروں تک محدود نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں سے جڑی ہوئی ایک عملی حقیقت بن چکی ہے۔
چین نے گزشتہ چار دہائیوں میں جس معاشی ترقی کا سفر طے کیا، وہ جدید تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ کروڑوں افراد کو غربت سے نکالنا، دنیا کی دوسری بڑی معیشت بننا، جدید انفراسٹرکچر تعمیر کرنا اور سائنس و ٹیکنالوجی میں عالمی قیادت کی جانب بڑھنا، یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی عزم، طویل المدت منصوبہ بندی اور پالیسیوں کا تسلسل قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے چین کا یہ سفر صرف ایک دوست ملک کی کامیابی نہیں بلکہ ایک قابلِ عمل سبق بھی ہے۔
پاکستان اور چین کے تعلقات کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ ان میں بالادستی کا تصور نہیں ملتا۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی ترجیحات کا احترام کیا ہے۔ چین نے پاکستان کی ترقی کو اپنے خطے کے استحکام سے جوڑا، جبکہ پاکستان نے بھی “ون چائنا پالیسی” کی غیر متزلزل حمایت کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ حقیقی دوستی اصولوں پر قائم ہوتی ہے، وقتی مفادات پر نہیں۔
آج جب دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، ایشیا عالمی معیشت کا مرکز بنتا جا رہا ہے، اور علاقائی رابطے ترقی کا نیا معیار بن رہے ہیں، تو پاک چین دوستی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ گزشتہ سات دہائیوں میں دونوں ممالک نے کیا حاصل کیا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آئندہ سات دہائیوں کا مشترکہ سفر کیسا ہوگا۔ اس سوال کا جواب ہمیں چین پاکستان اقتصادی راہداری، صنعتی تعاون، علمی روابط اور دونوں اقوام کے بڑھتے ہوئے عوامی تعلقات میں نظر آتا ہے۔
یہیں سے پاک چین تعلقات کا دوسرا اور شاید سب سے اہم باب شروع ہوتا ہے؛ ایک ایسا باب جس میں دوستی صرف سفارت کاری کا عنوان نہیں رہتی بلکہ اقتصادی ترقی، صنعتی احیا، علاقائی روابط اور مشترکہ خوشحالی کا عملی منصوبہ بن جاتی ہے۔ یہی باب “چین پاکستان اقتصادی راہداری” یعنی سی پیک کی صورت میں دنیا کے سامنے آیا، جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی اقتصادی جغرافیہ کو ایک نئی جہت عطا کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حصہ دوم بھی پڑھیں:
پاک چین دوستی: سات دہائیوں پر محیط اعتماد، مشترکہ ترقی اور ایک روشن مستقبل کی داستان (حصہ دوم)
حصہ سوم بھی پڑھیں:
پاک چین دوستی: سات دہائیوں پر محیط اعتماد، مشترکہ ترقی اور ایک روشن مستقبل کی داستان (حصہ سوم)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔