مہنگائی کی چکی میں پستا انسان
رات کے آخری پہر شہر کی روشنیاں ابھی باقی تھیں، مگر ایک غریب کے گھر کا چراغ بجھ چکا تھا۔ اندھیرے کمرے میں ایک ماں اپنے بچوں کو تھپکیاں دے کر سلا رہی تھی۔ بچے بھوک سے نڈھال تھے، مگر ماں نے انہیں یہ کہہ کر بہلا دیا کہ “صبح تمہاری پسند کا ناشتہ بناؤں گی۔”
وہ جانتی تھی کہ یہ وعدہ شاید کل بھی پورا نہ ہو سکے۔
دوسری طرف ایک باپ، جس کے ہاتھوں کی سختی برسوں کی محنت کی گواہ تھی، اپنی جیب میں رکھے چند مڑے ہوئے نوٹ بار بار گن رہا تھا۔ ہر مرتبہ حساب وہی رہ جاتا۔ بجلی کا بل ادا کرے یا بچوں کی فیس؟ دوائی خریدے یا راشن؟ بوڑھی ماں کی دوا لائے یا بیٹی کی کتابیں؟
اس کے پاس ہر سوال کا جواب صرف ایک گہری خاموشی تھی۔
آج ہمارے ملک میں مہنگائی صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا عذاب بن چکا ہے جو ہر گھر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ہونے والا ہر اضافہ بازار کی ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ سبزی فروش اپنے نرخ بڑھا دیتا ہے، رکشہ والا کرایہ بڑھا دیتا ہے، دودھ والا قیمت بڑھا دیتا ہے، اور آخرکار وہی غریب انسان، جس کی آمدنی مہینوں سے نہیں بڑھی، مہنگائی کے سمندر میں ڈوبتا چلا جاتا ہے.کہا جاتا ہے کہ اعداد و شمار معیشت کی زبان ہوتے ہیں، مگر بھوک کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔ بھوک صرف آنکھوں میں اتر آتی ہے۔ وہ بچوں کے بجھتے چہروں سے بولتی ہے، وہ ماؤں کے خالی برتنوں سے بولتی ہے، وہ مزدور کے پسینے سے بولتی ہے، وہ سفید پوش باپ کی جھکی ہوئی نگاہوں سے بولتی ہے۔یہ کیسی ترقی ہے کہ بازار آباد ہیں مگر دسترخوان ویران؟ یہ کیسی خوشحالی ہے کہ بلند و بالا عمارتیں تو کھڑی ہو رہی ہیں مگر انسان کا وقار مٹی میں ملتا جا رہا ہے؟ ایک ریاست کی کامیابی اس کی شاہراہوں سے نہیں، بلکہ اس کے عام شہری کے چہرے پر موجود اطمینان سے پہچانی جاتی ہے۔ایسے حالات میں خاموشی اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ جب مشکلات حد سے بڑھ جائیں تو پرامن، مہذب اور آئینی انداز میں اپنی آواز بلند کرنا ہر باشعور شہری کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔
7 اگست کی ہڑتال اسی اجتماعی احساس کی علامت ہے کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کے خلاف اپنی پریشانی کو منظم اور پُرامن انداز میں سامنے لانا چاہتے ہیں تاکہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے سنا جائے۔مگر احتجاج کی اصل روح صرف نعرے نہیں، اصلاح کا مطالبہ ہے۔ ہم ایسے فیصلوں کے خواہاں ہیں جو عام آدمی کو ریلیف دیں، اشیائے ضروریہ کو اس کی پہنچ میں رکھیں، محنت کش کے پسینے کی قدر کریں، اور ایسی معاشی پالیسیاں تشکیل دیں جن میں ریاست کی ترقی کے ساتھ عوام کی زندگی بھی آسان ہو۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے معاشرے میں ایثار اور ہمدردی کو بھی زندہ کرنا ہوگا۔ اگر ہمارے محلے میں کوئی بچہ بھوکا سو رہا ہے، اگر کسی ماں کا چولہا ٹھنڈا ہے، اگر کوئی بزرگ دوائی نہ ہونے کے باعث تکلیف میں ہے، تو یہ صرف اس خاندان کا دکھ نہیں، پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ زندہ قومیں صرف اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کرتیں، بلکہ اپنے کمزور طبقات کا سہارا بھی بنتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ آزمائشیں ہمیشہ باقی نہیں رہتیں، لیکن آزمائش کے وقت قوموں کا کردار ضرور تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ آج بھی وقت ہم سے یہی سوال کر رہا ہے کہ کیا ہم صرف مہنگائی کا رونا روئیں گے، یا شعور، اتحاد، صبر اور پرامن جدوجہد کے ذریعے ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھیں گے؟۔
آئیے! ایسا پاکستان تعمیر کرنے کی دعا بھی کریں اور کوشش بھی، جہاں کسی باپ کو اپنے بچوں کی بھوک کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے، کسی ماں کو خالی برتنوں کے ساتھ رات نہ گزارنی پڑے، اور محنت کرنے والا ہر انسان عزت، انصاف اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ کیونکہ جب ایک ماں کا چولہا خاموش ہو جاتا ہے تو صرف ایک گھر نہیں، پوری قوم کی امیدیں سرد پڑنے لگتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔