سہولیات سے محروم حیدرآباد
کسی بھی شہر کی ترقی کا حقیقی پیمانہ بلند عمارتیں، کشادہ شاہراہیں یا ترقیاتی منصوبے نہیں بلکہ وہ بنیادی سہولتیں ہیں جو اس کے شہریوں کو روزانہ میسر آتی ہیں۔ صاف پینے کا پانی، بلاتعطل بجلی، مناسب گیس، مؤثر نکاسیٔ آب، قابلِ استعمال سڑکیں اور فعال بلدیاتی نظام ہر شہری کا بنیادی حق ہیں۔ جب یہی سہولتیں متاثر ہوں تو اس کے اثرات صرف گھریلو زندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ صحت، تعلیم، تجارت، سرمایہ کاری، صنعت اور مجموعی معیشت بھی اس کی زد میں آ جاتی ہے۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوامِ متحدہ نے اپنے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) میں صاف پانی، قابلِ اعتماد توانائی اور پائیدار شہری ترقی کو بنیادی ترجیحات قرار دیا ہے۔
بدقسمتی سے سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد آج انہی بنیادی سہولتوں کے شدید بحران سے گزر رہا ہے۔ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع اور ڈویژن دونوں کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا، مگر شہری انفراسٹرکچر اسی رفتار سے ترقی نہ کر سکا۔ نتیجتاً پانی، بجلی، گیس اور سیوریج کا نظام اپنی اصل استعداد سے کہیں زیادہ بوجھ برداشت کر رہا ہے اور شہری روزمرہ زندگی میں مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
پانی کا بحران اس وقت سب سے سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ گرمیوں میں شہر کی یومیہ طلب تقریباً 130 ملین گیلن (MGD)تک پہنچ جاتی ہے، لیکن بوسیدہ پائپ لائنوں، پمپنگ اسٹیشنوں کی خرابی، بجلی کی طویل بندش، ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی کمزوریوں کے باعث متعدد علاقوں میں ہفتوں بلکہ بعض مقامات پر مہینوں تک پانی دستیاب نہیں ہوتا۔ جہاں پانی فراہم کیا جاتا ہے وہاں بھی اس کے گدلے، بدبودار اور آلودہ ہونے کی شکایات عام ہیں، جو صحتِ عامہ کے لیے خطرناک صورتحال ہے۔
اس بحران نے “ٹینکر کلچر” کو فروغ دیا ہے۔ ہزاروں خاندان مہنگے داموں پانی خریدنے یا بورنگ کرانے پر مجبور ہیں، جبکہ دوسری جانب واسا کے پانی کے بل باقاعدگی سے وصول کیے جاتے ہیں، خواہ نلکوں میں پانی آئے یا نہ آئے۔ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے یہ دوہرا مالی بوجھ نہ صرف معاشی پریشانی بلکہ بنیادی شہری حقوق کی خلاف ورزی بھی محسوس ہوتا ہے۔
پانی کی قلت کا براہِ راست تعلق بجلی سے بھی ہے، کیونکہ شہر کے بیشتر پمپنگ اسٹیشن بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے صارفین کی تعداد تقریباً 12 لاکھ 72 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن اس کے باوجود غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج، بار بار ٹرپنگ اور روزانہ 10 سے 15 گھنٹے تک بجلی کی بندش کی شکایات عام ہیں۔ اس کا اثر صرف گھروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ کاروبار، صنعت، تعلیمی ادارے، اسپتال اور پانی کی فراہمی بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
شہریوں کی ایک اور عام شکایت یہ ہے کہ ٹرانسفارمر یا پی ایم ٹی خراب ہونے کی صورت میں مرمت یا تبدیلی کے لیے متاثرہ آبادی سے چندہ جمع کیا جاتا ہے، حالانکہ صارفین بجلی کے بلوں میں مرمت اور دیکھ بھال کی مد میں باقاعدہ ادائیگیاں کرتے ہیں۔ اسی طرح “روشن پاکستان” شکایتی نظام بھی عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا، جہاں شکایات کے اندراج کے باوجود کارروائی میں غیر ضروری تاخیر کی شکایات سامنے آتی ہیں، جبکہ ہنگامی نوعیت کے برقی حادثات میں فوری رسپانس نہ ملنا مزید تشویش کا باعث ہے۔
قدرتی گیس کی غیر یقینی فراہمی نے بھی شہری زندگی کو متاثر کیا ہے۔ صبح اور شام کے اوقات میں کم پریشر یا مکمل بندش معمول بن چکی ہے، جس سے گھریلو صارفین کے ساتھ ہوٹلوں، بیکریوں، تندوروں اور دیگر چھوٹے کاروباروں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے گھرانے مہنگی ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جو ان کے ماہانہ بجٹ پر اضافی بوجھ ڈالتی ہے۔
سیوریج اور نکاسیٔ آب کا ناقص نظام بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ معمولی بارش کے بعد کئی علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں اور گندا پانی گلیوں اور بازاروں میں جمع رہتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور یونیسیف کے مطابق آلودہ پانی اور ناقص نکاسیٔ آب ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اور دیگر آبی بیماریوں کی بڑی وجوہات ہیں۔ اس لیے یہ صرف بلدیاتی مسئلہ نہیں بلکہ صحتِ عامہ کا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ بنیادی شہری سہولتوں کی مسلسل خرابی کسی بھی شہر کی مقامی معیشت کو کمزور کر دیتی ہے۔ بجلی کی بندش، پانی کی قلت اور گیس کی عدم دستیابی سے چھوٹے کاروبار، ورکشاپیں، ریستوران، کلینکس، تعلیمی ادارے اور گھریلو صنعتیں سب سے پہلے متاثر ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بھی محدود ہونے لگتے ہیں۔
یہ مسائل صرف وسائل کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ ناقص حکمرانی، کمزور منصوبہ بندی، شفافیت کے فقدان اور اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کی کمی بھی اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ واسا، حیسکو، سوئی سدرن گیس کمپنی، بلدیاتی اداروں اور سندھ حکومت کو مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ پانی کی ترسیل کے نظام کا آزادانہ تکنیکی آڈٹ، بوسیدہ پائپ لائنوں کی تبدیلی، پمپنگ اسٹیشنوں کے لیے شمسی توانائی، بجلی کے ترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن، جدید سیوریج نیٹ ورک، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور کم از کم پچیس سالہ اربن انفراسٹرکچر ماسٹر پلان ناگزیر ہو چکا ہے۔
سنگاپور، استنبول اور کوالالمپور جیسے شہروں نے بہتر حکمرانی، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط بلدیاتی نظام کے ذریعے ایسے ہی مسائل پر قابو پایا۔ حیدرآباد بھی اس وقت تک اپنی کھوئی ہوئی شناخت بحال نہیں کر سکتا جب تک منصوبہ بندی، احتساب اور ادارہ جاتی کارکردگی کو حقیقی معنوں میں بہتر نہ بنایا جائے۔
حیدرآباد صرف ایک شہر نہیں بلکہ سندھ کا اہم تعلیمی، طبی، صنعتی، ثقافتی اور تجارتی مرکز ہے۔ اس کی بحالی پورے صوبے کی ترقی سے وابستہ ہے۔ عوام کسی غیر معمولی رعایت کا مطالبہ نہیں کرتے؛ وہ صرف اپنے آئینی اور بنیادی حقوق چاہتے ہیں۔ صاف پانی، مسلسل بجلی، مناسب گیس، صاف سڑکیں اور مؤثر نکاسیٔ آب کسی بھی مہذب معاشرے میں آسائش نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وعدوں اور اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں، کیونکہ کسی شہر کی اصل عظمت اس کی عمارتوں میں نہیں بلکہ اس کے شہریوں کے معیارِ زندگی، اعتماد اور
امید میں ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔