عہد وفا کا

عہد وفا کا دن

پاکستان کا 79 واں یومِ آزادی ہے۔ پون صدی سے زائد عرصہ گزر گیا جب ہمارے پیارے وطن نے آزادی کی سانس لی۔ خدا اسے سدا سلامت رکھے۔یہ ملک بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے۔ اس کی مٹی میں نہ جانے کتنے شہیدوں کا لہو شامل ہے۔

نعمت کو سنبھالنا سب سے بڑا امتحان:
نعمت حاصل کرنا اتنا مشکل نہیں، اسے سنبھالنا اور برقرار رکھنا مشکل ترین ہے۔ یہی معاملہ پاکستان کے ساتھ ہے۔ برِصغیر کے مسلمانوں نے اسے اسلام کے نام پر حاصل کیا۔ مقصد ایک اسلامی فلاحی مملکت کی تعمیر تھا۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ نعمت ہمارے عزم اور ارادے کو مسلسل آزما رہی ہے۔ اور ایسا نہیں ہے کہ یہ آزمائش ختم ہونے والی ہے۔ بلکہ یہ ہر آنے والی نسل کے لیے مسلسل آزمائش بنی رہے گی کہ ہم اس کی حفاظت کا حق ادا کرتے ہیں یا نہیں۔

قائدِ اعظم کا وژن:
پاکستان ایک اسلامی فلاحی مملکت کے طور پر وجود میں آیا۔ قائدِ اعظمؒ بظاہر ایک عام سے مسلمان نظر آتے تھے، لیکن اپنے عزم اور ارادے میں وہ علمائے کرام سے بھی زیادہ پختہ تھے۔ ان کا دوٹوک موقف تھا کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہوگی۔ اپنے مختصر دورِ حکمرانی میں انہوں نے جو اقدامات کیے، وہی اصل پاکستان کی بنیاد اور پالیسی ہیں اور رہیں گے۔

ان کے چند اہم اقدامات:
آئینی بنیاد: انہوں نے اسلامی آئین بنانے کا انتظام کیا اور علمائے کرام کو دعوت دی کہ وہ آئیں اور اسلامی دستور بنا کر پیش کریں جسے ملک میں نافذ کیا جائے۔

کشمیر کا موقف: ریاست جموں و کشمیر پر انہوں نے واضح موقف اختیار کیا۔ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے کر انہوں نے تمام شکوک کے دروازے بند کر دیے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کی جدوجہد کا آغاز کر دیا اور قوم کو ایک واضح راستہ دکھایا۔

خارجہ پالیسی: قائدِ اعظم پاکستان کو ایک خودمختار حیثیت دینا چاہتے تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے ملکہ برطانیہ کی جانب سے گورنر جنرل بننے کی پیشکش ٹھکرا کر خود یہ عہدہ سنبھالا اور آنے والے حکمرانوں کے لیے عملی مثال قائم کی۔

اصولِ حکمرانی: وقت کی پابندی، کفایت شعاری اور عوام کی خدمت کی مخلصانہ کوشیں قائدِ اعظم کی تعلیمات کا حصہ تھیں۔

فلسطین: بین الاقوامی پالیسی کی بڑی مثال فلسطین کے بارے میں ان کا واضح موقف ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو ناجائز ریاست قرار دیا اور فلسطینی عوام کے حقوق کی بھرپور حمایت کی۔

کسی بھی ملک کے مقاصد کو جاننے کے لیے اس کی پالیسی اور نظریات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ قائدِ اعظم کے اقدامات اور ان کی سوچ ملک اور قوم کے لیے عمل کا ایک واضح پیمانہ ہیں۔

آج کا عہد:
آئیے آج ہم عہد کریں کہ ہم اس ملک کو، جسے ہم نے حاصل کیا ہے، آزاد اور خودمختار بنائیں گے۔ اسے ہر بیرونی قوت کے اثر سے بچا کر صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جدوجہد کریں گے۔

ایسی ریاست جہاں عوام خوشحال ہوں۔ ان کی بنیادی ضروریات اور وسائل کی تنگی دور کی جائے۔ انہیں امن اور سکون میسر ہو۔ وہ اپنی دینی اقدار اور روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اور یہ ملک دنیا بھر کے لیے امن اور سلامتی کی جیتی جاگتی مثال ثابت ہو۔

پاکستان زندہ باد 🇵🇰
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *