رسول اکرم اور

رسول اکرم ﷺ اور جدید علوم

سلام اس پر جو امت کے لئے راتوں کو روتا تھا
سلام اس پر، جو فرش خاک پر جاڑے میں سوتا تھا
سیرتِ النبی ﷺ پر لکھنے بیٹھی ہوں تو قلب بھی حیران ہے اور قلم بھی عاجز۔ کیا لکھوں؟ موضوع اتنا عظیم کہ اس کی وسعت کا کوئی کنارہ دکھائی نہیں دیتا، اور ہمارا علم اتنا حقیر کہ چند لفظوں میں اس عظمت کا احاطہ کرنا ممکن نہیں
بطورِ انسان اپنے نبی ﷺ کی کس کس خوبی کو بیان کروں؟ ازواجِ مطہرات ہوں یا صحابۂ کرام، رشتہ دار ہوں یا پڑوسی، دوست ہوں یا دشمن، چرند ہوں یا پرند، نباتات ہوں یا جمادات، فرشتے ہوں یا جنات۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی کون سی ایسی مخلوق ہے جو میرے آقا ﷺ کے حسنِ سلوک سے گزری ہو اور آپ ﷺ کی رحمت و شفقت کی گرویدہ نہ ہوئی ہو؟ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس ایسی جامع تھی کہ جس پہلو سے دیکھیں، کمال ہی کمال دکھائی دیتا ہے
بطور سیاسی رہنما اپنے آقا ﷺ کے کردار کا احاطہ کروں تو کس کس پہلو کو سراہوں۔ کس پہلو پر روشنی ڈالوں۔
عقل ہی تو حیراں ہو جاتی ہے۔
پھیلائے ہوئے گوشہ دامان تجسس۔۔۔۔
 سائنس محمدﷺ کا پتہ پوچھ رہی ہے
آج دنیا بھر کے مفکرین، فلسفی اور تھنک ٹینک اربوں ڈالر کی ریسرچ کے بعد جو War Strategies، انسانی نظام اور حقوق کے جو charter اور principles پیش کر رہے ہیں، میرے آقا ﷺ نے وہ آج سے 1400 سال پہلے implement کرکے بھی دکھا دئیے۔
ایک لمحے کو ذرا سوچیں تو سہی۔۔۔
ایک “اُمّی” شخص جسکو کسی نے کبھی بھی کسی طرح کا کوئ علم نہیں سکھایا۔ وہ شخص جو اپنی زندگی کے شروع کے چالیس برس اپنی ایک بیوی اور چار بیٹیوں کے ساتھ “مکہ” نامی دنیا کے ایک پسماندہ علاقے میں گھریلو زندگی بسر کرتا رہا ہو۔ اپنے خاندان، بیوی بچوں سے محبت کرنے والا وہ آدمی جسے اسکے قبیلے قریش کا ہر فرد اسکے اعلی اخلاق کی وجہ سے پسند کرتاہو،
وہ شخص ایک روز “اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّـذِىْ خَلَقَ” کے ساتھ غار حرا سے واپس آئے اور ریشم جیسے نرم لہجے میں چٹانوں جیسے استقلال کے ساتھ دنیا کو وہ وہ کچھ بتائے کہ اس کے بعد انسانی تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لیے بدل جائے۔ یہاں تک کہ 1400 سال گزرنے کے باوجود آج بھی رسول اللہ ﷺ کی ذات کے، انکے سیاسی فیصلوں اور معاشرتی اقدامات کے پورے عالم میں پھیلے زبردست اثرات کو انکے دشمن اور ناقدین بھی ماننے پر مجبور ہیں۔
“دنیا کےسو عظیم انسان” کا مصنف مائیکل ہارٹ ایک کٹر عیسائی شخص ہے۔ اس محتقق نے برسوں ایسے افراد کو اسٹڈی کیا جنہوں نے انسانی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہوں۔ وہ اپنی برسوں کی تحقیق کا نچوڑ اپنے کتاب کے دیباچے میں ایسے لکھتا ہے:
“یسوع مسیح کا پیروکار ہونے کے باوجود میری سو عظیم ترین انسانوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر محمدﷺ کی موجودگی لوگوں کے لئے شائد تعجب کا باعث ہو مگر مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں کوئ عار نہیں کہ اس دنیا کی تاریخ کے سب سے زیادہ قوت سے اپنا اثر ڈالنے والے شخص محمدﷺ ہیں”۔۔۔۔۔
وہ مزید لکھتا ہے،
“انکی اثر پزیری کی وجہ صرف اسلام کی عالمگیر فتوحات نہیں بلکہ مفتوحہ علاقوں میں مقامی آبادی کا بغیر کسی جبر کے نہایت تیزی کے ساتھ محمدﷺ کا عقیدہ اور طرز معاشرت اختیار کرنا ہے.
گو کہ منگولوں نے بھی چنگیز خان کی قیادت میں قریب قریب ایک عالمگیر ریاست بنا ہی لی تھی مگر اسکا قیام نہایت عارضی ثابت ہوا۔ یہ متحدہ ریاستیں بہت قلیل عرصے میں ٹوٹ کر بکھر گئیں اور اکثر ریاستیں اسلامی نظام کے تابع ہوگئیں۔ اسکے برعکس وسطی ایشیاء سے لیکر جنوبی ایشیا اور یورپ سے یوگو سلاویہ تک سوائے اسپین کے جن علاقوں میں اسلام نے جھنڈے گاڑے وہ ممالک آج تک اسلام کے سائے تلے ہیں”۔
قرآن کی شکل میں رسول اللہ ﷺ کا انسانیت پر جو احسان عظیم ہے اسکی تو کوئ حد اور انتہا نہیں۔
مگر۔۔۔۔
میرے پیارے آقا ﷺ نے اپنی لیڈرشپ ذریعے بھی اس مادہ پرست اور عقل پرست دنیا کو سوچنے کے نئے زاویے دیئے اور جینے کا نیا ڈھنگ سکھایا۔ آپﷺ کی دعوت اسلام کو رد کرنے والے غیر مسلم پھر بھی بے شمار دنیاوی معاملات میں رہنمائی کے لیے آپﷺ کی ذات پاک کو study کرتے ہیں۔ آپﷺ کی تعلیمات اور اخلاقی اور معاشرتی اصول آج دنیا بھر میں مختلف terms کے ساتھ استعمال ہو رہے ہیں۔
آج Strategic management دنیا میں پڑھائے جانے والا اہم ترین علم ہے۔ یہ آپﷺ کی ہی ذات اقدس تھی جس نے دنیا کو بتایا کہ حکمتِ عملی کیا چیز ہے۔ حکمتِ عملی سکھاتی ہے کہ حالات اوراسباب کا مفید اور مؤثر ترین استعمال کیسے کیا جائے۔ ناموافق حالات کو اپنے رخ پر کیسے موڑا جائے۔ کیسے انتہائی مشکل فیصلے کایا پلٹ کر رکھ دیتے ییں۔ مثال کے طور پر صلحِ حدیبیہ بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت شرائط والی نظر آتی تھی، اور بعض صحابہؓ کو بھی اس پر شدید حیرت بھی ہوئی۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے فوری جذبات کے بجائے طویل المدت نتائج کو سامنے رکھا۔ اسکے علاؤہ جنگ کے موقعوں پر رسول اللہ ﷺ کی زبردست جنگی حکمتِ عملی کام آئیں۔ غزوہ بدر کے موقع پرآپ ﷺ نے مقام کا انتخاب، پانی کے ذرائع، صف بندی اور دفاعی پوزیشن جیسے امور پر توجہ دی اور صحابہؓ سے مشاورت بھی فرمائی جسکی بدولت قلیل افراد کا بے سر و سامان لشکر ہزار کی آراستہ و پیراستہ فوج کو شکست فاش دینے کے قابل ہوا۔
پھر آتا ہے Effective Communication
آج دنیا جب گلوبل ویلیج بن چکی ہے، اس علم کی اہمیت کھل کر سامنے آتی ہے۔ اس سے مراد ہے کہ رابطہ کرنے کا ایسا انداز کہ ہر سطح کی ذہنی استعداد رکھنے والا شخص بات سمجھ لے۔ رسول اللہ ﷺ گفتگو فرماتے تو ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے۔ الفاظ موتی کی طرح چمکتے واضح، انداز دل نشیں اور مفہوم ایسا کہ سننے والا بات کو سمجھ بھی لے اور دل میں محفوظ بھی کرلے۔ آپ ﷺ صرف بولنے والے رہنما نہ تھے، آپ ﷺ سننے والے رہنما بھی تھے۔ صحابۂ کرامؓ سے مشاورت فرماتے، ان کی آرا سنتے اور مناسب مشورے کو قبول بھی فرماتے۔ یہ وہی اصول ہے جسے آج جدید قیادت میں participative leadership کے نام سے بھی پڑھایا جاتا ہے۔
آپ کی ذات پاک کی بدولت ہی دنیا میں وقت کے درست اور منظم استعمال کا شعور بیدار ہوا۔ آپ نے عبادت، معاشرت اور خانگی زندگی کے درمیان بہترین وقت منظم کرکے دکھایا۔ آپ کی زندگی Effective time management اور Discipline کے ذریعے انقلاب کی عملی مثال ہے۔ فجر سے عشاء تک نمازوں کا منظم نظام، عبادت کے ساتھ اہلِ خانہ کے حقوق کی ادائیگی، صحابہؓ کی تعلیم و تربیت، لوگوں کے مسائل کا حل، ریاستی معاملات کی نگرانی اور ضرورت مندوں کی خبرگیری۔۔۔۔۔ یہ سب ایک ہی زندگی میں نہایت متوازن انداز سے جاری تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں اپنے اہلِ خانہ کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے، اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ دوسری جانب آپ ﷺ نے عبادت میں بھی ایسا غلو پسند نہیں فرمایا جو انسان کو اس کے دیگر فرائض سے غافل کردے بلکہ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ رب، نفس اور اہلِ خانہ سب کے حقوق ہیں۔
رنگ، نسل، مذہب سے بالاتر ہوکر انصاف کا علم کیسے بلند کیا جاتا ہے۔ دنیا کا پہلا charter of equality diversity and inclusion رسول اللہ ﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر پیش کیا۔ Slavery کے اتنے سخت قوانین بنائے کہ سب سے پہلے مسلم معاشرے اور پھر ساری دنیا سے انسانی غلامی کا خاتمہ ہوگیا۔ معروف African American محمد علی باکسر اور Malcolm x نے ساری دنیا کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی Slavery اور raciam عملی طور پر معدوم کرنے کی حکمت عملی کو زبردست سراہا اور اسلام قبول کیا۔
آپ ﷺ کی ہی ذات مبارکہ نے پہلی بار حکمران ہوتےہوئے minimalist اور organic طرزِ زندگی اختیار کی۔ رسول کریم ﷺ نے خوراک، مال اور وقت کے اصراف سے سختی سے منع فرمایا۔ آج پوری دنیامیں انہی قوانین کی environmental sustainability اور economic sustainability کے نام سے دھوم ہے۔ دنیا کو بہتر ماحول اور بہتر resources فراہم کرنے کے لئے ان قوانین پر شدت سے زور دیا جارہا ہے۔
لکھنے کو تو لکھتی ہی چلی جاؤں مگر میرے نبیﷺ کی سیرت سے سیری نہ ہو۔ کتنے ہی میدان ہیں جن میں آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے چراغِ راہ ہے۔ ایک شوہر کی حیثیت سے، ایک والد کی حیثیت سے، ایک دوست کی حیثیت سے، ایک پڑوسی کی حیثیت سے، ایک استاد کی حیثیت سے، ایک سپہ سالار کی حیثیت سے، ایک قاضی کی حیثیت سے، ایک حکمران کی حیثیت سے اور سب سے بڑھ کر اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی حیثیت سے۔
سوچتی ہوں، اپنے نبی ﷺ کی مدحت بیان کروں یا اپنے رب کے اس عظیم احسان کا شکر ادا کروں کہ اس نے مجھے امتِ محمدیہ ﷺ میں پیدا فرمایا؟
بلغ العلیٰ بکمالہٖ،
کشف الدجیٰ بجمالہٖ
حسنت جمیع خصالہٖ،
صلو علیہ وآلہٖ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *