جب بچہ بولنا چھوڑ دیتا ہے
کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ کچھ بچے اچانک بدل جاتے ہیں؟
وہی بچہ جو پہلے اسکول جانے کے لیے خوشی سے تیار ہوتا تھا، اب بہانے بنانے لگتا ہے۔ وہی بچہ جو گھر آ کر دن بھر کی باتیں سناتا تھا اب مختصر جواب دے کر خاموش ہو جاتا ہے۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ یہ عمر کا ایک مرحلہ ہے مزاج کی تبدیلی ہے یا وقتی اداسی ہے مگر بعض اوقات ان خاموش تبدیلیوں کے پیچھے ایک ایسی کنفیوژن ہوتی ہے جسے بچہ خود بھی پوری طرح بیان نہیں کر پاتا۔
شاید اس لیے کہ بچے ہمیشہ مدد نہیں مانگتے کم از کم اس طرح نہیں جیسے ہم توقع کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی مسئلہ ہوگا تو بچہ آ کر بتا دے گا مگر اکثر بچے الفاظ سے زیادہ اپنے رویّوں کے ذریعے بات کرتے ہیں۔ ان کی خاموشی، ان کی گھبراہٹ، اسکول جانے سے ان کی ہچکچاہٹ، یا اچانک بدلتا ہوا اعتماد، یہ سب ایسی نشانیاں ہیں جو اکثر مدد کی پکار ہوتی ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ بچے بولتے نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ ان کی زبان سمجھ نہیں پاتے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ
Bullying
کی سب سے خطرناک شکل اکثر بہت خاموش ہوتی ہے۔ کبھی کسی کے رنگ پر مذاق کیا جاتا ہے، کبھی وزن پر، کبھی لہجے پر، اور کبھی اس کی خاموش طبیعت پر، کبھی قابلیت پر۔ بعض اوقات یہ سب صرف ایک جملے کی صورت میں ہوتا ہے مگر وہ جملہ سننے والے کے دل میں بہت دیر تک رہ جاتا ہے۔
لیکن شاید Bullying صرف اسکول کے چند بچوں تک محدود نہیں رہتی۔ کبھی کبھی ہم بڑے بھی انجانے میں اسی زخم کا حصہ بن جاتے ہیں۔
“اپنے بھائی کو دیکھو۔”
“فلاں بچی کتنی ذہین ہے۔”
“تم ایسے کیوں نہیں ہو سکتے؟”
ہم یہ جملے اکثر اصلاح کی نیت سے کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید موازنہ بچے کو آگے بڑھنے پر آمادہ کرے گا مگر بچہ انہیں مختلف انداز میں سنتا ہے۔ وہ “بہتر بنو” کا پیغام نہیں لیتا بلکہ اس کے دل میں آہستہ آہستہ یہ احساس بیٹھنے لگتا ہے کہ شاید وہ کافی نہیں ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ہم اکثر نہیں سوچتے کہ بچہ ان جملوں کو کہاں لے کر جاتا ہے۔ وہ انہیں اپنے کمرے تک لے جاتا ہے اپنی تنہائی تک اپنی خاموش راتوں تک۔ پھر آہستہ آہستہ ایک عادت بن جاتی ہے۔ اپنی خوبیوں کو دیکھنے کے بجائے اپنی کمیوں کو تلاش کرنے کی عادت۔
نفسیات اسے
Social Comparison
کہتی ہے مگر ایک بچے کے لیے یہ صرف ایک اصطلاح نہیں ہوتی۔ یہ اپنے آپ کو دوسروں کے پیمانے پر ناپتے رہنے کا عمل ہے یہاں تک کہ وہ اپنی منفرد پہچان ہی بھولنے لگتا ہے
شاید اسی لیے ہر بچے کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش انصاف نہیں۔ کچھ بچے فطری طور پر پُراعتماد ہوتے ہیں کچھ محتاط۔ کچھ جلد دوست بنا لیتے ہیں کچھ لوگوں کو سمجھنے اور ان پر بھروسہ کرنے میں وقت لیتے ہیں۔ کچھ بچے ہجوم میں کھلتے ہیں اور کچھ خاموشی میں۔ یہ فرق خامی نہیں ہوتے شخصیت کا حصہ ہوتے ہیں۔
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم ہر بچے سے ایک جیسی رفتار ایک جیسا ردعمل اور ایک جیسی مضبوطی کی توقع کرنے لگتے ہیں۔ جب ہم کسی خاموش بچے کو زبردستی پُرجوش بنانا چاہتے ہیں یا کسی حساس بچے کو شرمندہ کرتے ہیں کہ وہ “زیادہ محسوس” کرتا ہے تو ہم دراصل اسے یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ اس کی اصل شخصیت قابلِ قبول نہیں۔
پھر ایک اور چیز ہے جس کا اثر اکثر دیر سے سمجھ آتا ہے۔
جب ایک بچہ کہتا ہے “مجھے برا لگا” اور جواب میں سنتا ہے “اتنی سی بات پر؟” یا “تم بہت حساس ہو” تو بظاہر گفتگو ختم ہو جاتی ہے مگر اندر کچھ اور شروع ہو جاتا ہے۔ بچہ اپنے ہی احساسات پر شک کرنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ شاید مسئلہ واقعی اسی میں ہے شاید وہی ضرورت سے زیادہ محسوس کرتا ہے۔
نفسیات اسےEmotional Invalidation
کہتی ہے یعنی کسی کے جذبات کو سمجھنے کے بجائے انہیں غیر اہم قرار دینا۔ وقت کے ساتھ بچہ صرف دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے احساسات سے بھی دور ہونے لگتا ہے۔
شاید اسی لیے بچوں کو مضبوط بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں رونے سے روک دیا جائے یا ہر تکلیف پر “نظر انداز کرو” کہہ دیا جائے۔ اصل مضبوطی شاید یہ ہے کہ بچے کو یہ یقین ہو کہ جب وہ اپنی بات لے کر آئے گا تو اسے سنا جائے گا۔
کیونکہ کبھی کبھی بچوں کو فوری حل نہیں چاہیے ہوتا۔ انہیں صرف ایک ایسا شخص چاہیے ہوتا ہے جو ان کی بات پر یقین کرے۔ جو یہ نہ کہے کہ “یہ کوئی بڑی بات نہیں”، بلکہ یہ کہے:
“مجھے بتاؤ کیا ہوا۔”
حقیقت یہ ہے کہ بچہ اسی کے پاس جاتا ہے جس کے بارے میں اسے یقین ہو کہ وہ سنے گا۔ اگر وہ بار بار یہ محسوس کرے کہ اس کی بات سنجیدگی سے نہیں لی جا رہی تو وہ آہستہ آہستہ بتانا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں تنہائی شروع ہوتی ہے۔ تنہائی اس لیے نہیں کہ اس کے آس پاس لوگ نہیں ہوتے بلکہ اس لیے کہ اسے یقین نہیں رہتا کہ کوئی اسے سمجھ پائے گا۔
شاید اسی لیے والدین اور اساتذہ کا کردار صرف تعلیم یا تربیت دینا نہیں اعتماد پیدا کرنا بھی ہے۔ ایسا اعتماد کہ بچہ خوف، شرمندگی، ناکامی یا تکلیف میں بھی ان کے پاس آ سکے۔
بہت سے اساتذہ دل سے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ آج کا تعلیمی ماحول پہلے سے کہیں زیادہ نمبروں، نتائج اور کارکردگی کے دباؤ میں گھرا ہوا ہے۔ ایسے میں خاموش بچے اکثر نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ جان بوجھ کر نہیں.. مگر ہو جاتے ہیں۔
حال ہی میں انڈیا کے صوبے راجستھان میں پیش آنے والا امائرہ کا واقعہ اسی حقیقت کی ایک دردناک یاد دہانی ہے۔ ایک کم عمر بچی جو مبینہ طور پر مسلسل تضحیک اور اذیت کا سامنا کر رہی تھی مدد چاہتی رہی۔ رپورٹس کے مطابق اس نے اپنی استاد تک پہنچنے کی کوشش بھی کی مگر اسے وہ توجہ نہ مل سکی جس کی اسے ضرورت تھی۔
امائرہ اب واپس نہیں آ سکتی۔
مگر اس کی کہانی ایک سوال ضرور چھوڑ گئی ہے۔
بچے مدد کیسے مانگتے ہیں؟
کیا وہ ہمیشہ الفاظ استعمال کرتے ہیں؟
یا کبھی ان کی خاموشی ہی ان کی سب سے بلند آواز ہوتی ہے؟
شاید ہر کلاس روم میں آج بھی کوئی ایسا بچہ موجود ہے جو صرف یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کی بات اہم ہے۔ کہ اس کے احساسات اہم ہیں۔ اور یہ کہ وہ کسی اور جیسا بنے بغیر بھی قابلِ قبول ہے۔
شاید بچوں کو محفوظ بنانے کی شروعات بھی یہیں سے ہوتی ہے۔ انہیں مسلسل بہتر بنانے کی کوشش سے نہیں۔ انہیں دوسروں سے موازنہ کرنے سے نہیں۔ بلکہ انہیں سننے سے انہیں سمجھنے سے اور انہیں یہ تربیت دینے سے کہ ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے انہیں وہ scenarios دیں کہ انہیں ان میو کیسا ردعمل دینا ہے انہیں یہ یقین دلائیں کہ جب وہ اپنی تکلیف یا مسئلہ ہمارے پاس لائیں گے تو ہم صرف جواب نہیں دیں گے۔
ہم سنیں گے بھی.. اور حل بھی کریں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔