گر دکھاؤں آئینہ تو ناراض نہ ہونا
عوام کو پٹرول کی شکل میں مہنگائی کے طوفان سے نکالنے کے لئے جماعت اسلامی کیا نکلی کہ کچھ لوگوں میں صف ماتم بچھ گئی کہا جا رہا ہے کہ پٹرول جماعت اسلامی کے دھرنے کی وجہ سے مہنگا ہو رہا ہے سوال یہ ہے کہ ماضی قریب میں جب پٹرول چار سو فی لیٹر تک پہنچا تھا تو کیا اس کی وجہ جماعت اسلامی تھی؟؟ بات صرف اتنی ہے کہ پیٹرول آپ جیسے بزدلوں کاہلوں اور عورتوں کی طرح گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر حکومت کو کوسنے دینے اور بددعائیں دینے سے ہو رہا ہے پٹرول اس لئے مہنگا ہو رہا ہے کہ حکومت کو آپ جیسے مفت کے سہولت کار دستیاب ہیں جو خود بھی احتجاج نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی احتجاج سے نہ صرف روکتے ہیں بلکہ ان کا مزاق اڑاتے ہیں۔
افسوس ہوتا ہے ایسے شعور پر جو ظالم اور کرپٹ حکومت کی بجائے عوامی احتجاج کرنے والوں پر طنز کے تیر چلانے میں ذرہ برابر بھی نہیں شرماتے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہمت کر کے آپ لوگ بھی اپنے آرام کدوں سے باہر نکل کر اس احتجاج میں شریک ہوتے اور اگر جماعت اسلامی کے احتجاج میں شریک ہونے سے آپ لوگوں کے جسم و جاں میں کانٹے چبھ رہے تھے تو اپنے جھنڈے تلے کر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے آخر یہ پٹرول صرف جماعت اسلامی کے لئے تو مہنگا نہیں ہوا ہے اس سے تو ہر حلال کمانے والا متاثر ہورہا ہے۔
آپ جیسے بے شعوروں کی سمجھ میں اتنی سی بات نہیں آ رہی ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں جماعت اسلامی کے دھرنے کو مایوسی اور ناامیدی میں تبدیل کرنے کے لئے حکومت پٹرول مہنگا کر رہی جماعت اسلامی تو خیر حکومت کے ان ہتھکنڈوں سے نمٹ لے گی کیونکہ یہ بہت سخت جاں ہے ماضی میں بھی جماعت اسلامی اس طرح کے کٹھن
مراحل سے گزرتی رہی ہے لیکن گر تو برا نہ مانے حکومت کا یہ تھپڑ حضور آپ کے ضمیر پر مارا گیا ہے۔
بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی
آج تو روح پہ مارا ہےطمانچہ تو نے
یہ شعر غیرتمندوں کے لئے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔