بزرگوں کی قربانیاں اور وجودِ مملکت
14 اگست 1947ء کی یہ کہانی ایک ایسے وطن کی پیدائش اور قربانیوں کی داستان ہے، جو لاکھوں جانوں کے نذرانے اور کٹھن جدوجہد کے بعد معرضِ وجود میں آیا۔ ہمارے اسلاف نے اس آزادی کے لیے بڑی قربانیاں دیں۔ اکثر دادی ان کا ذکر کرتیں۔ جیسے اگست کا مہینہ قریب آتا، گویا کہ ان کے زخم ہرے ہو جاتے۔ پاکستان بننے کی خوشی کے ساتھ ساتھ کچھ درد بھی تھے جو بے چین کر دیتے۔ موجودہ حالات کی وجہ سے انہیں اس بات کا شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ علیحدہ ملک بنانے کے لیے جو قربانیاں ہم نے دیں ہیں، کہیں وہ رائیگاں تو نہیں ہو گئیں۔
14 اگست کی صبح سے ہی بچوں کے شور شرابے اور قومی ترانوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ نو سالہ زوہیب دادی جان کے پاس آ کر بیٹھا اور مسکراتے ہوئے دادی جان سے کہا، “آج کوئی ہمیں کہانی سنائیں۔” دادی جان پیار سے سمیٹتے ہوئے، “آ جاؤ میری جان۔”
تحریکِ پاکستان کی جدوجہد جاری تھی۔ دہلی میں مسلم کش فسادات اور حملے ہو رہے تھے۔ منظم انتہا پسند ہندو اور سکھ غنڈے جگہ جگہ حملے کر رہے تھے۔ وہ ہمارے گھر میں گھس گئے، سیدھے چھت کی طرف گئے۔ اوپر چاچا رحیم کمرے میں نمازِ مغرب ادا کر رہے تھے۔ بلوائیوں نے ننگی تلواروں سے وار کر دیا۔ چاچا رحیم نے کلمۂ شہادت زور زور سے پڑھنا شروع کر دیا۔ ان کی آواز سے گھر کے سارے افراد گھر سے باہر نکل کھڑے ہوئے۔
اتنے میں سائرن بجنے کی آواز سنائی دی۔ دادی ہاجرہ بھی جلدی سے صحن سے نکل کر دروازے کی طرف بڑھی اور باہر کھڑی ہو گئی۔ تھوڑی دیر میں دادا جان آ گئے۔ اور وہ سب نکل کر بھاگے۔ دادا جان نے کہا، “آؤ، اس کیمپ میں چلتے ہیں، شاید کہیں پناہ مل جائے۔” مگر جیسے ہی قدم رکھا، وہاں لاشوں کی گڈیاں لگی ہوئی تھیں۔ وہ جس خیمے میں جاتے، یہی حال نظر آتا۔ بھوک، پیاس سے وبائی امراض پھوٹ چکے تھے۔ کالرے کی وبا پھیل چکی تھی۔ کسمپرسی کا عالم تھا۔ سب لٹے پٹے تھے۔ خاندان کے افراد تتر بتر تھے۔ عزتیں پامال ہوئیں۔
بڑی مشکل سے ریل گاڑی میں سوار ہوئے۔ پہلی ریل گاڑی پاکستان سے صحیح سلامت آئے گی تو یہاں سے بھی صحیح سلامت جائے گی۔ اللہ اللہ کر کے پاکستان سے ریل گاڑی صحیح سلامت آئی، پھر یہاں سے گاڑی چلنا شروع ہوئی۔ گاڑی ایسی چل رہی تھی جیسے سائیکل کا سفر، مگر نئی امید اور جوش سے بے قابو چلے جا رہے تھے، اپنوں کی لاشیں پیچھے چھوڑ کر۔
بچ کر آنے والے مہاجروں کے دلوں میں صرف ایک ہی جذبہ تھا کہ اگلی نسلیں آزاد فضا میں سانس لیں۔ مسلمانوں نے اس مقدس رات، 27 شبِ قدر کو آزادی کی نعمت حاصل کی۔ یہ آزادی ہمیں خون کے نذرانے سے ملی ہے۔ یہ کہانی صرف ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ آج کی نسل سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ اس دھرتی کی قدر کرے، اس کی تعمیر اور ترقی میں اپنا کردار نبھائیں۔
دادی جان نے پرچم کو چوم کر کہا، “یہ جھنڈا ہمیں اتحاد اور محنت کا سبق دیتا ہے۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے، اس کی حفاظت کرنا تم جیسے بچوں کا فرض ہے۔” زوہیب نے فخر سے جھنڈا تھام لیا اور دل میں تہیہ کیا کہ وہ اپنے پیارے پاکستان کو خوب ترقی دے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔