آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار ٹینکر پر ڈرون حملہ، معمولی نقصان
لندن: برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تیل بردار ٹینکر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کو معمولی نقصان پہنچا، کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی کو فوجی حکام کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی کہ ایک تیل بردار ٹینکر کو بغیر پائلٹ فضائی گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مذکورہ ٹینکر آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے لیے سفر کر رہا تھا۔
ایجنسی کے مطابق ڈرون حملے کے باعث ٹینکر کو معمولی نقصان پہنچا، جہاز پر موجود تمام عملہ محفوظ ہے اور ان کی موجودگی کی تصدیق کرلی گئی ہے۔ واقعے میں کسی بھی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد سمندر یا ماحول پر کسی قسم کے منفی اثرات کی بھی اطلاع نہیں ملی،ٹینکر سے تیل یا کسی دوسرے مواد کے اخراج کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی، جس کے باعث ماحولیاتی آلودگی کا فوری طور پر کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوا۔
خیال رہےکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے حوالے سے سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری تجارتی اور توانائی کی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیج فارس کو بحیرہ عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والے اس راستے سے بڑی تعداد میں تجارتی جہاز اور تیل بردار ٹینکر گزرتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف بحری جہازوں سے متعلق متعدد واقعات رپورٹ ہونے کے بعد عالمی سطح پر اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ توانائی کی عالمی تجارت کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت کے باعث یہاں کسی بھی قسم کا سکیورٹی واقعہ عالمی منڈیوں اور بحری تجارت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
ابھی تک ڈرون حملے کی ذمہ داری کسی فریق کی جانب سے قبول کیے جانے کی اطلاع نہیں ہے۔ حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات اور صورتحال پر نظر رکھنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کی نوعیت اور اس کی ممکنہ سمت کے بارے میں بھی فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
برطانوی حکام کے مطابق جہاز پر موجود عملہ محفوظ ہے اور ٹینکر کو پہنچنے والا نقصان معمولی نوعیت کا ہے۔ واقعے سے متعلق مزید معلومات تحقیقات اور متعلقہ حکام کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلات کے بعد سامنے آنے کا امکان ہے۔