جشن آزادی یا

جشنِ آزادی یا ذہنی غلامی؟

آزادی کا جشن… اور غلام ذہنوں کا سوال

آج 13 اگست ہے۔ ہر طرف سبز پرچموں کی بہار ہے۔ میں نے گیلری سے باہر جھانک کر دیکھا تو ہر گلی، ہر گھر، ہر دکان چھوٹی چھوٹی سبز جھنڈیوں سے سجی ہوئی تھی۔ بچے جوش و خروش سے ادھر ادھر بھاگتے دوڑتے نظر آ رہے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں پرچم تھا، کوئی سبز لباس پہنے ہوئے تھا اور کوئی موٹر سائیکل پر قومی پرچم لہراتا ہوا گزر رہا تھا۔

جشنِ آزادی منانے کا آغاز تو یکم اگست ہی سے ہوجاتا ہے، مگر 13 اور 14 اگست کو یہ تیاریاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ جو گاڑی، رکشہ حتیٰ کہ سائیکل بھی گلی سے گزرتی، اس پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہوتا۔ ہر طرف سبز و سفید رنگ بکھرا ہوا تھا۔ یہ منظر یقیناً خوبصورت تھا۔ دل میں خوشی، فخر اور طمانیت کا احساس اتر آیا۔

دل نے بے اختیار کہا:

الحمدللہ! ہماری قوم کو آزادی جیسی عظیم نعمت کا احساس تو ہے، وہ اس کا اظہار تو کرتی ہے۔

سامنے پارک پر نظر پڑی تو وہاں ایک طویل و عریض شامیانہ لگا ہوا تھا۔ تجسس بھری نظروں نے ادھر ادھر دیکھا تو ایک بڑا سا بینر نظر آیا:

“جشنِ آزادی مبارک”

دل میں شکر کے جذبات مزید گہرے ہوگئے۔

رات گئے تک پارک لوگوں سے بھرا رہا۔ محفل کا آغاز خوبصورت تلاوتِ قرآن سے ہوا۔ قاری کی دلنشین آواز میں سورۂ رحمن کی آیات نے ماحول کو نور سے بھر دیا:

اللہ تعالی قرآن میں فرماتاہے کہ۔۔۔۔
تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

اس کے بعد قومی ترانے نے حب الوطنی کے جذبات کو گرما دیا۔ سب کھڑے ہوگئے۔ ہاتھ سینوں پر تھے، نگاہیں پرچم پر اور دل پاکستان کے ساتھ۔

مگر…

کچھ ہی دیر بعد ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا ہو۔
فلمی گانے شروع ہوگئے۔

اور پھر ایک کے بعد ایک گانا…
کچھ گانے بھارتی فلموں کے، کچھ انتہائی بیہودہ، کچھ فحش، اور کچھ ایسے کہ جنہیں سن کر دل یہ سوال کرنے لگا:

کیا ہم واقعی آزادی کا جشن منا رہے ہیں؟
چند لمحے پہلے قرآن کی تلاوت سے جو فضا پاکیزہ ہوئی تھی، وہ اچانک موسیقی اور بے ہودہ حرکات سے آلودہ ہوگئی۔

اور پھر وہ منظر…

امتِ مسلمہ کے نوجوان، پاکستان کے مستقبل کے معمار، اس ملک کے محافظ بننے والے بچے اور نوجوان انہی گانوں پر جھوم رہے تھے۔

میرے ذہن میں ایک سوال گونجنے لگا:
کیا ہم صرف جغرافیہ کے اعتبار سے آزاد ہوئے ہیں؟
کیا ہم نے صرف ایک سرحد پار کی ہے؟

یا ہماری سوچ، ہماری ثقافت، ہماری پسند، ہماری ترجیحات اور ہماری تہذیب بھی آزاد ہوئی ہے؟

یا ہم اب بھی…
ذہنی غلام ہیں؟
ثقافتی غلام ہیں؟
فکری غلام ہیں؟
آنکھیں نم ہوگئیں۔

ذہن میں سورۂ بقرہ کی وہ آیت گونجنے لگی جو بنی اسرائیل کے واقعے کے حوالے سے ہمیں ایک گہرا سبق دیتی ہے۔ فرعون کی غلامی سے نجات ملنے کے باوجود ان کے دل میں بچھڑے کی محبت باقی تھی۔

وہ غلامی سے نکلے تھے، مگر غلام ذہنیت سے نہیں نکل سکے تھے۔

تو کیا ہمارا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے؟
کیا ہم نے ہندوستانی سرزمین سے تو آزادی حاصل کرلی، مگر اس تہذیب اور ثقافت کی ذہنی غلامی سے آزاد نہ ہوسکے؟
کیا ہم نے سیاسی آزادی حاصل کی مگر فکری آزادی کھو دی؟
کیا ہم نے پرچم اپنا بنا لیا مگر اپنی ترجیحات دوسروں سے مستعار لے لیں؟
قرآن ہمیں آزادی کی حقیقت بھی بتاتا ہے اور نعمت کی ذمہ داری بھی۔

سورۂ انفال میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہے کہ ایک وقت وہ تھا جب مسلمان کمزور تھے، زمین میں بے زور سمجھے جاتے تھے، انہیں خوف تھا کہ لوگ انہیں مٹا نہ دیں۔ پھر اللہ نے انہیں پناہ دی، اپنی مدد سے ان کے ہاتھ مضبوط کیے اور انہیں رزق عطا کیا، تاکہ وہ شکر گزار بنیں۔

یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں۔
یہ ہمارے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔
پاکستان بھی تو ایک پناہ گاہ کے تصور کے ساتھ حاصل کیا گیا تھا۔

پاکستان کا مطلب کیا؟
لا الٰہ الا اللہ!

یہ محض ایک نعرہ نہیں تھا۔ یہ ایک عہد تھا۔
یہ وعدہ تھا کہ ہم اللہ کی بندگی میں زندگی گزاریں گے۔
یہ امید تھی کہ یہاں مسلمان اپنے دین، اپنی تہذیب اور اپنے نظریے کے مطابق زندگی گزار سکیں گے۔
لیکن آج سوال یہ ہے:
ہم نے اس نعمت کے ساتھ کیا کیا؟
کیا ہم نے شکر ادا کیا؟
یا اللہ کی عطا کردہ امانت میں خیانت کی؟
ہم کہتے ہیں ملک کے مسائل معاشی ہیں۔

مہنگائی ہے۔
بے روزگاری ہے۔
کرپشن ہے۔
سیاسی عدم استحکام ہے۔

لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ان سب کے پیچھے ایک بڑا بحران بھی ہے؟

اخلاقی بحران!

قومیں صرف معاشی بدحالی سے تباہ نہیں ہوتیں، اخلاقی زوال انہیں اندر سے کھوکھلا کردیتا ہے۔

سورۂ انعام میں اللہ تعالیٰ متنبہ فرماتا ہے کہ جب لوگ مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو گڑگڑا کر اللہ کو پکارتے ہیں کہ اگر ہمیں اس تکلیف سے نجات مل گئی تو ہم شکر گزار ہوں گے۔ پھر جب اللہ نجات دیتا ہے تو لوگ شرک کرنے لگتے ہیں۔

یہ آیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔
ہم بھی مشکل میں اللہ کو پکارتے ہیں۔
ہم بھی دعائیں کرتے ہیں۔
ہم بھی کہتے ہیں:
یا اللہ! ملک کو بحران سے نکال دے۔
یا اللہ! مہنگائی ختم کردے۔
یا اللہ! ہمیں امن دے۔

لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ نجات ملنے کے بعد ہمارا رویہ کیا ہوگا؟

اور اگر ہم نعمت کو اپنی خواہشات، ناچ گانے، فحاشی، ظلم، ناانصافی، بددیانتی، فرقہ واریت اور عصبیت میں ضائع کردیں تو کیا یہ شکر ہے؟

سورۂ نحل میں اللہ تعالیٰ ایک بستی کی مثال دیتا ہے جو امن و اطمینان میں تھی، ہر طرف سے رزق آتا تھا، لیکن اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا گیا۔

دل کانپ اٹھتا ہے۔

کہیں وہ بستی میری بستی تو نہیں؟
کہیں ہم بھی تو نعمتِ آزادی کے کفرانِ نعمت کے مرتکب نہیں ہو رہے؟
اسی دوران پارک سے گانے کی آواز پھر بلند ہوئی:
“میرے محبوب قیامت ہوگی، آج رسوا تیری گلیوں میں محبت ہوگی…”

میں نے نوجوانوں کو دیکھا۔
وہ جھوم رہے تھے۔
وہ گا رہے تھے۔
وہ اسے شاید محض تفریح سمجھ رہے تھے۔
مگر میرے دل میں ایک اور منظر بن رہا تھا۔
مجھے وہ لوگ یاد آرہے تھے جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔

وہ مائیں یاد آرہی تھیں جنہوں نے اپنے بیٹے کھوئے۔
وہ بہنیں یاد آرہی تھیں جنہوں نے اپنے بھائیوں کو خون میں لت پت دیکھا۔
وہ خاندان یاد آرہے تھے جو ہجرت کے سفر میں بچھڑ گئے۔
وہ قافلے یاد آرہے تھے جو راستوں میں لٹ گئے۔
وہ بچے یاد آرہے تھے جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے پیاروں کو قتل ہوتے دیکھا۔

اور پھر سوال اٹھا:

کیا آزادی کے جشن میں ہمیں ان قربانیوں کی یاد بھی ہے؟
اگر ہے تو ہماری خوشی کا انداز کیا ہونا چاہیے؟
کیا آزادی کا جشن ہمیں اللہ کا شکر گزار بناتا ہے یا بے راہ روی کی طرف لے جاتا ہے؟
کیا آزادی ہمیں اپنے نظریے سے جوڑتی ہے یا دوسروں کی تہذیب کی نقالی سکھاتی ہے؟
کیا ہم اپنے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کررہے ہیں یا ان کے مقصد کو بھلا رہے ہیں؟
سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر یہ تھا کہ وہاں بہت سے بزرگ بھی موجود تھے۔
ایسے بزرگ جنہوں نے شاید 1947ء کے خون آشام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوں گے۔
جنہوں نے ہجرت کے قافلے دیکھے ہوں گے۔
جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہوگا۔

مگر وہ بھی ان نوجوانوں کی “شاندار پرفارمنس” پر داد دے رہے تھے۔

دل نے سوال کیا:

ہم نے اپنی نئی نسل کو کیا منتقل کیا؟
ہم نے انہیں آزادی کی تاریخ منتقل کی یا صرف آزادی کے نعرے؟
ہم نے انہیں پاکستان کا نظریہ سمجھایا یا صرف سبز لباس پہنایا؟
ہم نے انہیں شہداء کی قربانیوں کا مقصد بتایا یا صرف موٹر سائیکلوں پر جھنڈے لگا دیے؟

ہم نے انہیں قرآن سے جوڑا یا صرف قومی ترانے سے؟
ہم نے انہیں کردار دیا یا صرف تقریریں؟
یہ سوال صرف نوجوانوں سے نہیں ہے۔
یہ سوال ہم بڑوں سے ہے۔
کیونکہ نسلیں خود نہیں بگڑتیں۔
انہیں بگاڑنے یا بنانے میں پچھلی نسل کا کردار ہوتا ہے۔

اگر آج ہمارے نوجوان تہذیبی غلامی کا شکار ہیں تو ہمیں آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر پوچھنا ہوگا:

قصور وار کون ہے؟
کیا ہم نے انہیں وقت دیا؟
کیا ہم نے انہیں پڑھایا؟
کیا ہم نے ان کے سوالوں کے جواب دیے؟
کیا ہم نے انہیں اپنے دین سے محبت سکھائی؟
کیا ہم نے انہیں یہ بتایا کہ آزادی صرف انگریزوں سے نجات کا نام نہیں بلکہ ہر باطل نظریے، ہر غلط رسم، ہر اخلاقی برائی اور ہر ذہنی غلامی سے آزادی کا نام بھی ہے؟

ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ جھنڈا لہرانا آسان ہے، پرچم کے نظریے کو زندہ رکھنا مشکل۔
قومی ترانہ پڑھنا آسان ہے، وطن کی امانتوں کی حفاظت مشکل۔
پاکستان زندہ باد کہنا آسان ہے، پاکستان کو زندہ رکھنے کے لیے دیانت، کردار اور قربانی دینا مشکل۔
آزادی کا لباس پہننا آسان ہے، آزادی کی ذمہ داری اٹھانا مشکل۔

آج ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آزادی صرف شور، موسیقی، آتش بازی اور سجاوٹ کا نام نہیں۔

آزادی ایک ذمہ داری ہے۔
آزادی ایک امانت ہے۔
آزادی ایک عہد ہے۔
اور امانت میں خیانت نہیں کی جاتی۔

ہمیں ایسی آزادی چاہیے جس میں ہماری مسجدیں آباد ہوں، ہمارے گھر قرآن سے روشن ہوں، ہماری عدالتوں میں انصاف ہو، ہمارے بازاروں میں دیانت ہو، ہماری سیاست میں امانت ہو، ہماری تعلیم میں مقصدیت ہو، ہماری نوجوان نسل میں کردار ہو اور ہماری ثقافت میں پاکیزگی ہو۔

ہمیں ایسی آزادی چاہیے جس میں نوجوان کسی فحش گانے پر نہیں بلکہ اپنے وطن کی تعمیر کے عزم پر جھومیں۔

ہمیں ایسی آزادی چاہیے جس میں ہماری بیٹیاں محفوظ ہوں، ہمارے بیٹے باکردار ہوں، ہمارے بزرگ ذمہ دار ہوں اور ہماری نسلیں اپنے نظریے پر فخر کریں۔

ہمیں ایسی آزادی چاہیے جس میں پاکستان صرف نقشے پر ایک آزاد ملک نہ ہو بلکہ فکر، تہذیب، کردار اور نظامِ زندگی کے اعتبار سے بھی آزاد ہو۔

اے ربِ کائنات!

ہمیں ذہنی غلامی سے نجات کون دلائے گا؟
کون ہمیں یاد دلائے گا کہ آزادی کا اصل مقصد کیا تھا؟
کون ہماری نئی نسل کو بتائے گا کہ سبز ہلالی پرچم صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں قربانیوں کی نشانی ہے؟
کون انہیں سمجھائے گا کہ پاکستان کی آزادی اللہ کی ایک نعمت بھی ہے اور ہمارے لیے ایک امانت بھی؟

شاید اس سوال کا جواب ہمیں آسمان سے نہیں ملے گا۔

ہمیں خود اٹھنا ہوگا۔
والدین کو۔
اساتذہ کو۔
مربیوں کو۔
ادیبوں کو۔
علماء کو۔
میڈیا کو۔

اور ہر اس شخص کو جو پاکستان کے مستقبل سے محبت کرتا ہے۔

ہمیں نسلوں کے درمیان صرف جائیدادیں، نام اور روایات منتقل نہیں کرنی۔

ہمیں کردار منتقل کرنا ہے۔
ہمیں ذمہ داری منتقل کرنی ہے۔
ہمیں نظریہ منتقل کرنا ہے۔
ہمیں پاکستان سے محبت کا حقیقی مفہوم منتقل کرنا ہے۔
1947ء میں ایک نسل نے ہجرت کی تھی۔

آج ہمیں ایک اور ہجرت کرنی ہے:
غفلت سے شعور کی طرف،
نقالی سے خودداری کی طرف،
فحاشی سے پاکیزگی کی طرف،
مادیت سے ایمان کی طرف،
ذہنی غلامی سے فکری آزادی کی طرف۔

تب شاید ہم کہہ سکیں گے:
ہاں! ہم آزاد ہیں۔
صرف زمین آزاد نہیں…
ہماری سوچ آزاد ہے۔
صرف سرحد آزاد نہیں…
ہماری تہذیب آزاد ہے۔
صرف وطن آزاد نہیں…
ہماری نسل آزاد ہے۔

اور تب جشنِ آزادی محض ایک تقریب نہیں ہوگا بلکہ اللہ کی نعمت پر حقیقی شکر، ایک نئے عہد اور ایک نئی ذمہ داری کا آغاز ہوگا۔

اے پاکستان!
تیری آزادی سلامت رہے۔
مگر اے میرے وطن!

تیری آزادی صرف سرحدوں تک محدود نہ رہے
تیرے بیٹوں کے ذہن بھی آزاد ہوں،

تیرے بیٹیوں کے مستقبل بھی محفوظ ہوں،
اور تیری نسلیں اپنی شناخت، اپنے ایمان اور اپنے نظریے پر فخر کرنا سیکھیں۔
یہی آزادی کا حقیقی جشن ہوگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *