اے بھیا! دوقدم پہ ہمارا گھر ہے اور تم اتنے سے فاصلے کے دو سو روپے مانگ رہے ۔ انہوں نے اتنے سے کہتے ہوئے انگوٹھے اور انگلی سے فاصلہ بتایا اور بولیں کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے کوئی خوف خدا ہوتا ہے بھاڑ سا مونہہ کھول کے کہہ دیا دو سو روپے ۔ صفیہ بیگم خریداری کے بعد کافی دیر سے رکشے کے لیے خوار ہورہی تھیں ۔ اور سورج کی طرح ان کا غصہ بھی سوا نیزے پر تھا جو رکشے والے پر اتر گیا۔
اماں زیادہ باتیں نہ بناؤ میرا ٹائم خراب نہ کرو جلدی بولو چلنا ہے کہ نہیں ۔۔ صفیہ بیگم نے اک لمحے سوچا اور بولیں آئے دیڑھ سو کر لو بھیا ۔۔ چلو اماں کیا یاد کرو گی ڈیڑھ سو ہی دے دینا.۔ رکشے میں بیٹھ کر صفیہ بیگم نے ایک گہری اور ٹھنڈی سانس بھری اور پھر شروع ہوگئیں ۔ اے بھیا مہنگائی کو جیسے پنکھے لگ گئے ہیں ۔ ہمار ے وختوں میں تو اتنی مہنگائی نہیں تھی بھیا آرام سے کم تنخواہ میں گزارا ہوجاتا تھا مگر اب تو جتنا ہو کم ہے ۔ اللہ غارت کرے ان حکمرانوں کو.. اور تم رکشے والے بھی آتے سے فاصلے کا من مانا کرایا لیتے ہو ۔ صفیہ بیگم عوامی انداز میں شروع ہوچکی تھیں ۔ رکشے والے نے چڑ کر کہا تو اماں کیا صرف تمہارے لیے مہنگائی ہے ہمارے لیے نہیں ۔ پتا ہے پیٹرول اور سی این جی کتنی مہنگی ہے ۔
اتنے میں گلی کا نکڑ آگیا بس بس یہیں روک دو ۔
چھوٹے سے پرس سے پیسے نکال کے دیتے وقت ایک بار پھر ناگواری سے رکشے والے کی طرف دیکھا۔۔ لو پکڑو ۔۔ اور ہاں حق حلال کی کھایا کرو زیادتی نہ کیا کرو ۔۔ اچھا اچھا اماں ۔۔ اپنے شاپر تو اٹھالو سیٹ سے ۔۔ پھر ہمیں الزام دوگی۔
اوہ ہاں اچھا اچھا۔۔ شاپر اٹھا کے گھر میں بڑبڑاتے ہوئے داخل ہوئیں اور ابھی چادر اتار کے دو گھڑی پنکھے کے نیچے بیٹھی ہی تھیں کہ اک آفت مچ گئی ۔۔ ثمرہ تیزی سے سیڑھیاں اترتے مزے سے گا رہی تھی جیت گیا انگلش ہار گئی مہنگائی انگلش ٹوتھ پیسٹ پندرہ روپے میں لائی آ آ آ دھڑام۔۔۔ ارے ارے یہ کیا۔۔۔ کیسے گر گئیں اٹھو اٹھو ۔۔ پیر میں موچ تو نہیں آگئی ۔۔ لو اک اور خرچہ ۔۔۔ اٹھ کھڑی ہو بھئی ۔۔۔ ہائے اماں بہت زور سے پیر مڑا ہے ۔۔ اب میں کیسے چلوں گی ۔ اماں ویسے کیا ماضی میں واقعی پندرہ روپے کا ٹوتھ پیسٹ ملتا تھا ۔۔ ثمرہ اپنی تکلیف بھول کے اماں سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے سوال کر رہی تھی ۔
دو ہتڑ اماں نے لگائے ثمرہ کو زیادہ ڈرامے نہ کرو جاؤ جاکے ہنڈیا چڑھاؤ عصر کا وقت ہوچلا ہے مغرب تک روٹی ہانڈی سے فارغ ہو جاؤ ۔۔ پتا ہے نا تمھارے ابا کو مغرب کے فوراً بعد کھانا چاہیے ہوتا ہے ۔۔۔ اماں کتنی ظالم ہو تم میرے پیر میں اتنی زور سے لگی ہے اور تم مجھے کھانا بنانے کا کہہ رہی ہو ۔۔۔ لنگڑاتے ہوئے ثمرہ نے باورچی خانے کا رخ کیا
اماں ۔۔۔ بھئی پھر وہی تورئی لے آئیں ابھی چار دن پہلے تو کھائی تھی ۔۔
ہاں تو کیا کروں کہاں سے لاؤں تمہارے لیے مرغی گوشت ۔۔ ایک مرغی تھی جو تھوڑی سستی تھی اب تو وہ بھی گوشت کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے
ساری سبزیوں پہ بھی آگ لگی ہوئی ہے سب سے سستی یہی تھی
ثمرہ مونہہ بناتے ہوئے تورئی چھیلنے بیٹھ گئی
اماں مجھے پانچ سو روپے چاہئیں گڈو نے دھماکا کیا ۔۔ ہیں کیا کہا کیوں چاہئیں ، کیا ضرورت آن پڑی وہ بھی مہینے کے آخر میں ۔۔ اماں کوچنگ سینٹر میں سارے بچوں نے نوٹس خرید لیے ہیں بس میں ہی رہ گیا ہوں ۔۔۔ تو بچے۔۔ اب تو نیٹ پہ ہر چیز دستیاب ہے وہاں سے تیاری کرلو میرا بچہ ۔۔۔ نہیں اماں سر نے کہا ہے کہ سینٹر کے ہی نوٹس خریدنا ہیں اور ویسے بھی اس بار کورس میں نئی کتابیں اور نئے ٹاپکس شامل کردیے گئے ہیں اور وہ انٹرنیٹ سے نہیں مل رہے ہیں ۔۔ اماں کل لازمی پیسے دے دیجیے گا ورنہ سر سے ڈانٹ کھانی پڑے گی ۔۔۔ اچھا کرتی ہوں کچھ انتظام ۔۔ تمھارے ابا آجائیں ان سے بات کرتی ہوں ۔
ثمرہ ذرا کم تیل ڈالنا سالن میں ۔۔ تیل بھی سونے کے بھاؤ ہو گیا ہے۔۔
اماں یہ لیں بجلی کا بل آگیا ہے ۔ اماں کا دل دھڑ دھڑ دھڑ جیسے ابھی سینے سے نکل کر باہر آ جائیگا ۔۔ چہرہ خوف سے پیلا پڑ گیا ۔۔۔ مری ہوئی آواز میں بولیں ۔۔ بیٹا دیکھ کے بتاؤ نا کتنا آ یا ہے ۔۔ اماں سترہ ہزار تین سو بیاسی ۔۔۔ کیا!!
خدا غارت کرے ان بجلی گیس والوں کو ان سب نے مل کر غریب کی زندگی اجیرن کردی ۔۔۔ ہمارا تو استعمال بھی اتنا نہیں ۔ تین تین گھنٹے کی طویل لوڈ شیڈنگ بھی برداشت کر رہے ہیں مگر بل چھپر پھاڑ کے ۔۔۔
انہیں منظور صاحب اپنے شوہر پر ترس آنے لگا۔ کیسے وہ دن رات اپنی ہڈیاں گھلا کر محنت کرکے چار پیسے کماتے ہیں جو آتے ہی ٹھکانے لگ جاتے ہیں ۔۔ کوئی ادنیٰ سی بچت بھی نہیں ہوپاتی ۔ اب سے چند سال پہلے جتنے پیسوں میں مہینے کا سودہ آتا تھا اب اس میں چوگنا اضافہ ہوچکا تھا اور تنخواہ میں اضافہ اونٹ کے مونہہ میں زیرہ اب بندہ کھائے کیا اور بچائے کیا ۔۔ یہ تو صفیہ بیگم کا سگھڑاپا اور کفایت شعاری تھی کہ کم آمدنی میں سارے فرائض پورے کیے اور کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آئی ۔ اب دو جوان بچیاں جن کو بیاہنا تھا اور دو بیٹے جو ابھی زیر تعلیم تھے ۔ اخراجات کا پہاڑ تھا اور کمانے والا صرف ایک ۔۔
یہ صرف وہ ہی جانتی تھیں کہ کہاں کہاں انھوں نے اور ان کے شوہر نے اپنے شوق اور اپنی ضروریات کو پس پشت ڈالا اور بچوں کو کسی قسم کا احساس کمتری اور کسی چیز کی کمی نہ ہونے دی ۔ اب وہ اس سوچ میں تھیں کہ شام کو شوہر آئیں گے تو کیسے یہ بل ان کے سامنے کریں گی ۔ یہ سوچ کے ہی ان کا دل بیٹھنے لگا ۔۔۔
اندر ثمرہ آٹا گوندھتے ہوئے گنگنارہی تھی ہم کو تو اس ملک کی مہنگائی مار گئی مہنگائی مار گئی ۔۔جیت گیا انگلش ہار گئی مہنگائی۔