کچرے کا ڈھیر اور ہماری ذمہ داریاں
ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں، وہاں ترقی اور خوبصورتی کے بلند و بانگ دعوے تو روزانہ سنے جاتے ہیں، لیکن اگر ہم اپنی گلیوں، محلوں، سڑکوں اور بازاروں پر ایک نظر ڈالیں تو حقیقت بالکل اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ ہر نکڑ اور کونے پر لگے کچرے کے ڈھیر ہماری اجتماعی لاپرواہی اور بے حسی کی منہ بولتی تصویر ہیں۔
آج ہمارے شہروں کا سب سے بڑا المیہ صفائی کا فقدان ہے۔ گھر کا کچرا باہر نکال کر گلی میں پھینک دینا ہمارا معمول بن چکا ہے۔ ہم اپنے گھر کو تو چمکا کر رکھتے ہیں، لیکن اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے کہ ہمارے دروازے کے باہر کیا ہو رہا ہے۔ان ڈھیروں سے اٹھنے والا تعفن، مکھیوں اور مچھروں کی بہتات، اور آوارہ جانوروں کا اس پر جمع ہونا نہ صرف ماحول کو بدصورت بناتا ہے بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی ایک بم کی مانند ہے۔
اس صورتحال کے ذمہ دار صرف متعلقہ ادارے یا صفائی کا عملہ نہیں ہے، بلکہ ہمارا اپنا رویہ اس کا سب سے بڑا سبب ہے۔ بحیثیت قوم ہمارے اندر سے “یہ میرا شہر ہے، یہ میری گلی ہے” کا احساسِ ملکیت ختم ہوتا جا رہا ہے۔
ہم کچرا اٹھانے کی تمام تر ذمہ داری حکومت یا بلدیاتی اداروں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ پلاسٹک اور دیگر فضلات کو کھلے عام پھینکنے سے زمین اور ہوا کس قدر آلودہ ہوتی ہے۔
گلی سے گزرتے ہوئے کچرے کے ڈھیر کو دیکھ کر ناک پر ہاتھ رکھ لینا آسان ہے، لیکن اسے صاف کرنے یا درست طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے قدم بڑھانا ہمیں گوارا نہیں۔
یہ کچرے کے ڈھیر صرف گندگی کا مظہر نہیں ہیں، بلکہ یہ بیماریوں کی ترویج کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔
“جہاں صفائی نہیں ہوتی، وہاں بیماریاں ڈیرے ڈال لیتی ہیں۔”
ان ڈھیروں کے باعث ڈینگی، ملیریا،ہیضہ اور سانس کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، جب کچرے کو جلایا جاتا ہے تو اس سے نکلنے والا دھواں اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچاتا ہے اور ہوا کے معیار کو انتہائی خطرناک حد تک گرا دیتا ہے۔
اس ناسور سے نجات پانے کے لیے اب انفرادی اور اجتماعی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے:
ہمیں سب سے پہلے اپنے گھر سے یہ شروعات کرنی ہوگی کہ کچرا ہمیشہ کوڑے دان میں ڈالا جائے، سڑک پر نہیں۔
نامیاتی (Organic) اور غیر نامیاتی کچرے (پلاسٹک، شیشہ) کو الگ الگ کرنے کی عادت ڈالی جائے۔
حکومت اور عوام کو مل کر ایک مؤثر نظام بنانا ہوگا جہاں کوڑا بروقت اٹھایا جا سکے۔
اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے، ہمیں اپنے اس بنیادی دینی درس کو عملی زندگی میں اپنانا ہوگا۔
کچرے کے یہ ڈھیر دراصل ہمارے اخلاقی معیار اور سماجی شعور کی پستی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگر ہم نے آج بھی اپنے رویے کو نہ بدلا، تو وہ دن دور نہیں جب ہم کچرے کے ڈھیروں کے ڈھیر تلے دب چکے ہوں گے۔ آئیے، آج ہی یہ عہد کریں کہ ہم اپنے محلے کو صاف رکھیں گے، کیونکہ ایک صاف ستھرا ماحول ہی صحت مند مستقبل کی ضمانت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔