اُمیدوں کے مسافر
کشمیر صرف ایک خطۂ زمین یا وادی کا نام نہیں، بلکہ یہ قدرت کے قلم سے لکھا گیا ایک ایسا شاہکار ہے جس کے ہر صفحے پر جہاں جنّت نظیر مناظر درج ہیں، وہاں آہوں اور آبلوں کی داستانیں بھی تحریر ہیں۔ ایک طرف برف پوش پہاڑ، چنار کے سرخ ہوتے ہوئے پتے اور جھیلِ ڈل کے خاموش پانی ہیں، تو دوسری طرف ایک قوم کے صبر، انتظار اور آزادی کی ان کہی کہانی ہے۔
جنتِ ارضی کہلانے والی وادی جب اشکبار ہوتی ہے، تو اس کے درد کی گونج پورے عالمِ انسانیت کے لیے ایک سوال بن جاتی ہے۔ کشمیر لاکھوں دلوں کی دھڑکن، ماؤں کی دعاؤں اور نسلوں کی بیدار امیدوں کا نام ہے۔ وہاں کی ہواؤں میں سسکیاں بھی ہیں اور اپنے حق کے لیے اٹھی ہوئی اٹل آوازیں بھی ہیں۔ وہ ہر صبح اس امید پر بیدار ہوتے ہیں کہ شاید (ایک دن) آزادی کا سورج طلوع ہو جائے… شاید کسی کے دل میں انسانیت جاگ جائے۔
سلام ہے ان ماؤں کے جگر گوشوں کو جو عزمِ مصمم سے کہتے ہیں کہ ”ہم اپنی جوانیاں لوٹائیں گے، ہم انقلاب لائیں گے!“ وہ واقعی اپنے وعدوں کے پاسدار ہیں۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ (حق و صداقت کے لیے کی گئی) کوششیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں، بلکہ ان کا اجر قدرت کے صحیفے میں قلم بند کر دیا جاتا ہے۔ مگر سوچنے کا مقام ہے کہ ہم اپنے ہی گھر کے فیصلے آخر اُن غیروں سے کیوں کروائیں، جو کبھی ہمارے خیر خواہ رہے ہی نہیں؟ حق اور انصاف کے عالمی علمبرداروں (UNO) سے کوئی یہ سوال کیوں نہیں پوچھتا کہ کیا انسانی حقوق کے معیار محض چند مخصوص نظریات، جغرافیوں یا طبقوں تک ہی محدود ہیں؟
بنے ہیں اہلِ ہوس مدعی بھی، منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں
حق کے لیے آواز اٹھانے والوں اور سابق سینیٹر مشتاق احمد جیسی نڈر صداؤں کو اکثر طاقت کے بل بوتے پر دبا دیا جاتا ہے؛ لیکن اگر جنتر منتر جیسے تاریخی احتجاجوں اور پُراعتماد تحریکوں کی طرح، بحیثیتِ مجموعی پوری قوم شعور و بصیرت سے کام لے، تو اتحاد، بینرز اور پختہ عزم کے ذریعے تبدیلی کی نئی تاریخ رقم کی جا سکتی ہے۔
مگر افسوس! ہمارا سب سے بڑا المیہ اور درد ناک حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اپنے دکھ اور تکلیف کے سوا، دوسروں کے خون اور رستے ہوئے زخم صرف ایک خبر یا مذاق محسوس ہوتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر برصغیر کی تاریخ کا وہ نامکمل باب ہے جو دہائیوں سے انصاف کا منتظر ہے۔ جیو پولیٹیکل کشمکش سے ہٹ کر، کشمیر کی بنیاد وہاں کے عوام کی صوابدید، ان کی شناخت اور ان کے بنیادی انسانی حقوق پر قائم ہے۔ جب تک وادیِ چنار کے لوگوں کو ان کی اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں ملتا، یہ خطہ پائیدار امن کی راہ تکتا رہے گا—اور جب تک یہ اجتماعی بے حسی ختم نہیں ہوتی، امیدوں کے مسافر یونہی منزل کی تلاش میں بھٹکتے رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔