جماعت اسلامی اور

جماعت اسلامی اور ٹشو پیپرز

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لادوا نہ تھے

جماعت اسلامی کوئی فرشتوں کی جماعت نہیں ہے کہ اس سے اختلاف ممکن نہ ہو جہاں اس سے اختلاف کرنے والے لوگ موجود ہیں وہاں اسکے چاہنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں انسانی معاشرے میں اختلاف راۓ کا ہونا ایک فطری عمل ہے کیونکہ کوئی بھی معاشرہ مختلف النوع اور مختلف المزاج لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے مگر ایک اچھا معاشرہ وہی کہلاتا ہے جہاں اختلافات تعمیری اور نظریاتی ہوں اور اخلاقی حدود کے اندر ہوں معاشرے میں مختلف گروہ اور پارٹیوں کے وجود کا باعث بھی یہی اختلاف رائے ہوتا ہے۔ مسئلہ وہاں بنتا ہے جہاں اختلاف کی جگہ شیطانی بغض لے لے پھر بات طعنے دینے ،آوازیں کسنے جھوٹے الزامات لگانے اور حتی کہ گالم گلوچ اور مغلظات بکنے پر آجاتی ہے بد قسمتی سے ایسا ہی ایک ماحول ہمارے معاشرے میں جنم لے چکا ہے اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی گلی کوچوں اور منڈیروں پر اسی طرح کے گدھ نما انسان اور کوے نما لوگ ہاتھوں میں دوربین اور خوردبین لئے بیٹھے ہیں جن کا رخ جماعت اسلامی کی طرف ہے ان میں سے بعض (قوی گمان کی حد تک) تو ٹرالز ہیں جن کو صرف اس مقصد سے نوکری پر رکھا گیآ ہے کہ وہ تنقید برائے تنقید کر کے جماعت اسلامی کے کارکنوں کے حوصلے پست کریں اور اس طرح دھرنے کو ناکام بنائیں یہ وہ لوگ ہیں جو محض نفسانی خواہشات اور پیسے کی خاطر اپنا دین ایمان اور ضمیر بیچ چکے ہیں جماعت اسلامی اور اس کے دھرنے سے متعلق کوئی بھی پوسٹ شئیر کی جاۓ یہ دوچار کی تعداد میں تاک لگائے بیٹھے ہوتے ہیں اور فوراً ہی ناک بھوں چڑھا کر جھوٹ پر مبنی رٹے رٹاۓ تبصرے شروع کردیتے ہیں جس میں بی ٹیم کا گلا سڑا الزام اور منافقت اور منافقین کا لغو اور بدبودار جملہ انہیں کچھ زیادہ ہی رٹایا گیا ہے ہم انتہائ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ان کو لفظ منافقت کی ابجد تو کیا معنی کا بھی پتہ نہیں ہوگا (کاش کہ یہ لوگ سورہ النور کی آیت 6 اور سورہ حجرات کا مطالعہ کسی بھی تفسیر سے اور اسی سے متعلق نبی کریم ﷺ کی احادیث کا مطالعہ بھی کر لیتے تو یہ الزام لگاتے ہوۓ ان کے دل کانپ کانپ جاتے لیکن اس کے لئے ایمان (مطلب کسی مرشد اور ولی الشیطان پر نہیں) باالله ہونا شرط ہے

کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جو شخصیت پرستی کی خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں کوئی عشق مرشد میں جنوں کی حد تک مبتلا ہے تو کوئی ولی الشیطان کا ایسا پجاری ہے کہ تحریروں میں نہ صرف اس کی پاکئی داماں کی قسمیں کھائی جاتی ہیں بلکہ “آخرت میں پوچھوں گا” کہہ کر ڈرانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ ان تمام رندان میخانہ (اگر چہ ان کا یہ مجموعی رویہ جماعت اسلامی کے حق پر ہونے کی دلیل بھی بن جاتا ہے) کی توپوں کا ھدف حسب ہدایت جماعت اسلامی ہے –

ادھر جماعت اسلامی ہے جس کا طرہ امتیاز ہے یہ ہے کہ اس نے ہمیشہ عوام کے سلگتے مسائل پر موثر آواز بلند کی ہے۔ پہلے ipps اور بجلی کی قیمتوں پر احتجاج تھا۔ اب مہنگائی پر احتجاج ہو رہا ہے۔
یہ بھی جماعت ہی کا خاصہ ہے کہ ان کے جلسے ہوں یا دھرنے انتہائی منظم ہوتے ہیں۔ معمولی سی توڑ پھوڑ سے بھی اجتناب کیا جاتا ہے عام آدمی کو تنگ نہیں کیا جاتا۔ سڑکیں بند نہیں کیں جاتیں متبادل راستے بنائے جاتے ہیں اور اگر کہیں دھرنا دیا ہو تو دھرنا ختم کرنے کے بعد اس تمام علاقے کو دھرنا کے آغاز سے پہلے کی حالت سے بھی زیادہ صاف ستھری حالت میں چھوڑ کر جاتے ہیں ان تمام خصوصیات کے تو مخالفین بھی معترف ہیں آپ دنیا کسی بھی مہذب ملک میں چلے جائیں وہاں آپ کو احتجاج کا یہی مہذب طرز سیاست ملے گا پاکستان میں اس اعتبار سے الحمدﷲ صرف جماعت اسلامی کو یہ طرہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کا احتجاج اور دھرنا پر امن ہوتا ہے

کون نہیں جانتا کہ جب ملک میں پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا اثر ضروریات زندگی کے ہر شعبہ پر ہڑتا ہے خاص طور سے۔۔۔۔حلال روزی کمانے والوں پر ۔۔۔۔مثلاً بائکیا اور رائڈرز اور اسی طرح روزآنہ کی مزدوری کرنے کرنے والوں سمیت تنخواہ دار طبقہ مطلب یہ کہ معاشرے کی اکثریت اس مہنگائی سے متاثر ہوتی ہے ایک تو پٹرول پہلے ہی مہنگا تھا اوپر سے حکومت نے 80 روپے کی لیوی بھی لگادی جو مرکزی حکومت کی جیب میں جاتا ہے ایک المیہ یہ ہے کہ ہمارا پیٹ پرست معاشرہ انتہائی بیحس ہوچکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس ظلم کے خلاف جماعت اسلامی کے علاوہ کسی اور پارٹی نے آواز نہیں اٹھائی ہاں سوشل میڈیا پر حکومت کو کوسنے اور بددعائیں ضرور دی جاتی رہیں حالانکہ بددعائوں سے اگر معاملات حل ہو سکتے تو آج ہم تنزلی کے موجودہ مقام پر نہ ہوتے اس ظالمانہ ٹیکس کے خلاف پہلی اور مضبوط آواز امیر جماعت اسلامی محترم نعیم الرحمن صاحب کی گونجی اور احتجاج کا طریقہ بھی اختیار کیا اسی لئے آج اس وقت ملک کے چاروں صوبوں میں لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا کامیابی سے جاری ہے۔

اب آئیے اس افسوسناک قومی رویہ کی طرف جو اس وقت جماعت اسلامی کے دھرنے سے متعلق دیکھنے میں آ رہا ہے ایک طرف حکومت بدنیتی اور ایک چال کے ساتھ پٹرول کی قیمت مسلسل بڑھا رہی ہے تاکہ لوگ دھرنے میں شامل ہونے کے بجائے دھرنے ہی کو پٹرول کی بڑھتی قیمت کا ذمہ دار قرار دیں اور حکومت کے حسب توقع ایک ناسمجھ طبقہ حکومتی چال کا شکار ہو کر یہی کچھ کہہ بھی رہا ہے اور آج تو ہم نے مخصوص عینک والے والے بزرگ کا بھی یہی فرمان پڑھا اور بے اختیار زبان سے نکلا “بروٹس تم بھی۔۔۔” اس کے ساتھ ہی بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا تنخواہ دار ٹرالز کو بھی موقعہ مل گیا کہ وہ دھرنے کے خلاف زہر اگل کر اپنے مالکوں کو خوش کر سکیں

مہنگائی سے متاثر اور دردمند لوگ تشویش سے پوچھتے ہیں کہ کیا دھرنا کامیاب ہوگا؟ ہم یقین سے کہتے ہیں کہ ان شاء الله ضرور کامیاب ہوگا کیونکہ یہ پر عزم لوگ ہیں آپ کے الزامات اپنی جگہ اور تہمتوں کا بھی کہیں حساب ضرور ہوگا لیکن جماعت اسلامی کا عزم بھی پہاڑ جیسا ہے کیونکہ یہ صرف اللہ سے ڈرنے والے لوگ ہیں خلق خدا کی بھلائی کی خاطر ساری آزمائش منظور! انہیں اپنی ذات کا سکون عزیز ہوتا تو میدان عمل میں اترتے ہی کیوں؟ آسائشوں بھری زندگی گزارتے رہتے ۔۔۔ مگر جماعت اسلامی کا کارکن سوچ سمجھ کر جان بوجھ کر جماعت میں آتا ہے وہ پوری طرح جانتا ہے کہ یہ راہ ذاتی مفاد کی نہیں بلکہ قربانی، خدمت اور عزم کا راستہ ہے۔
مانو نہ مانو، جان جہاں اختیار ہے ​
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *