جگا ٹیکس کے خلاف خواتین کا احتجاج

شاہراہ قائدین گاڑیوں کے پہیوں سے نہیں بلکہ قوم کی ماوں بیٹیوں کے نرم و نازک گداز لیکن عزم و استقامت سے لبریز پیروں تلے دبی ہوئی تھی۔۔۔
اس شاہراہ پہ شہر قائد کی بیٹیاں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے سخت حبس و گرمی میں ننھے منے پھولوں کو گود میں لئے اور کسی کے ہاتھ تھامے کئی گھنٹوں سے سراپا احتجاج تھیں۔۔
وہ بھیک یا خیرات نہیں بلکہ اپنا اور غیور عوام کا ( جو فارم 47 کی پیداوار حکومت کے ظالمانہ جگا و بھتہ ٹیکسز کی بھرمار اور آئے دن بڑھتی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اضافے سے پستی چلی جارہی ہے ) جائز حق لینے نکلی تھیں۔۔
آج قائد کا شہر ایک بار پھر سے عزت مآب خواتین کو سڑکوں پہ نکلا دیکھ کر آبدیدہ تھا۔۔۔ کیونکہ بانی پاکستان نے یہ ملک تو ظالموں سے نجات حاصل کرنے کیلئے قوم کو بطور تحفہ و امانت سونپا تھا۔۔۔ لیکن آج اس کی قیادت کرنے والے اس پہ حکمرانی کرنے والے خود ظالموں کا ٹولہ بن کر اس کی عوام کو لوٹ کھسوٹ رہے ہیں۔۔۔ عوام کا زندہ رہنا محال کردیا ۔۔۔
تاحد نگاہ خواتین کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے۔۔۔
تلاوت قرآن پاک نے شرکاء کے دلوں کو گداز سے بھر دیا ۔۔۔۔ پھر نعت رسول مقبول صلعم “”میں اپنے نبی کے کوچہ میں چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا “” نے ریاست مدینہ کی یاد دلادی۔۔ نبی مہربان کا اسوہ بطور حاکم عادل و فیاضی کا نمونہ ( تلاوت میں بھی یہی آیات تلاوت کی گئیں تھیں کہ بیشک تمھارے لئے نبی کی ذات میں بہترین نمونہ ہے)
اے کاش!!! کہ ہمارے ملک کے حکمران، ججز، جرنیل و کرنیل ،بیورو کریٹس و اسٹیبلشمنٹ، وزراء و مشیر، ممبران اسمبلی و بلدیاتی نمائندے ،غرض ہر ذمہ دار مسلمان پیارے نبی کے اسوہ کو اپنالے تو یہ ملک جنت نظیر بن جائے۔۔
مظاہرہ سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر حمیرا طارق، ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید، ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیب ،ناظمہ کراچی جاوداں فہیم نے خطاب فرمایا ۔۔۔
خطابات کے درمیان اسٹیج سے لگائے جانے والے نعروں کے جواب خواتین اور بچیوں نے پورے جوش و خروش سے دیئے۔۔
فضا ایک نئے عزم ،جوش و ولولے سے معمور تھی۔۔
آسمان پہ سکوت چھایا ہوا تھا ۔۔ آخرکار سورج نے بھی ہار مان کر ہوا کو اجازت دے دی کہ ان بہادر غیور خواتین کے بہتے پسینوں کو خشک کرکے ان کو تروتازہ کردے۔۔
حافظ نعیم الرحمن نے اپنے پرجوش و گرمادینے والے خطاب کا آغاز اس آیت سے کیا۔۔۔
“جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں انھیں ہم اپنے راستے دکھاتے ہیں ”
ان آیات نےخواتین کو تاریخ کے صفحات پر ایک نئی جدوجہد کی داستان رقم کرنے کا عزم و حوصلہ بخشا۔۔۔
انہوں نے کہا کہ یہ نظام جو ظلم و فساد ، جاگیرداری اور کرپشن پر مبنی ہے اس کے خلاف انقلاب کا آغاز شہر کراچی کی بہادر و غیور خواتین سے ہوا ہے ۔ میں آپ تمام خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں ۔
انہوں نے کہا کہ اب ظلم بہت ہوچکا ریاست پہ مسلط قابض ٹولوں کو اب جگہ خالی کرنی پڑے گی ملک کے ہر کونے میں قابضین کے ظلم کی داستانیں ہیں۔
ریاست کسی جنرل ٫ کسی مقتدر طبقہ یا فرد کا نام نہیں بلکہ ریاست عوام کی ہے۔اسے قائد اعظم کے زیر سایہ جدوجہد کے ذریعہ حاصل کیا گیا ہے۔
لہذا حکمرانی کا حق بھی عوام کو ہے۔
پیٹرولیم لیوی کا پیٹرولیم کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے اب تک ساڑھے آٹھ ہزار ارب روپے پاکستانیوں کی جیب سےڈاکا مار کے لیوی کے نام پر اڑا لئے گئے ہیں جن سے مراعات یافتہ طبقہ عیاشیاں کر رہاہے سرکاری ملازمین کو اپنے گھروں کے کاموں پہ لگایا ہوا ہے ۔اپنے بجلی کے بلز عوام سے وصول کرتے ہیں سابقہ حکومتوں نے بھی یہ کام کیا ہے لیکن اب تو حد ہو چکی پچھلے سال تو انہوں نے خود ہی ایک ظالمانہ ٹارگٹ رکھا تھا لیکن اب تو یہ اس کو بھی کراس کرگئے ہیں ۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ ناجائز لیوی کا خاتمہ کیا جائے، عوام کو ریلیف دیا جائے، ہمیں آئ پی پی مافیاز نہیں چاہیئں ، اب وقت ہے کہ عوام مل کر مجموعی طور پہ مہنگائ کے خلاف جدوجہد کو تیز کرے۔
7 اگست کو خیبر سے بلوچستان، سندھ تا پنجاب تمام شاہراہوں پہ ملک کے تمام نوجوان خصوصا جو بائیک چلاتے ہیں اپنی بائیکس کو بند کرکے ایک نئے طرز کا احتجاج ریکارڈ کرائیں جس کو دنیا میں خاص طور پر دیکھا جائے چاہے وہ بھارت کی کاکروچ پارٹی ہو یا دنیا میں جو بھی احتجاجی گروپس احتجاج کر رہے ہیں ۔۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے امیر جماعت کو خواتین کی طرف سے اس احتجاجی تحریک میں بھرپور حصہ لینے کی
یقین دہانی کرائی ۔۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کے طوفان نے طلاق و خلع کا تناسب بڑھا دیا ہے۔امن وامان کی حالت ابتر ہے نہ گھر میں کوئی محفوظ نہ گھر سے باہر۔ ان حالات میں آخر کون گھر بیٹھ سکتا ہے؟
جب پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے سب سے زیادہ خواتین متاثر ہوتی ہیں۔ جب گھر کا چولہا بجھ جائے تو اس گھر میں سکون کیسے ہوگا اور جب گھر کا سکون ختم ہوتو گھر کی عورت کیسے متاثر نہ ہوگی۔۔
خواتین اس مہم میں کامیابی تک مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں تاکہ ان کے گھروں کا سکون واپس لوٹ آئے۔۔
ثمینہ سعید ،رخشندہ منیب نے بھی اپنے خطابات میں خواتین کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت کو سراہا اور اسے انقلاب کی نوید اور کامیابی کی ضمانت قرار دیا۔۔
بتایا کہ 6 اگست کو سندھ پنجاب و ملک کے تمام اہم اضلاع میں خواتین کے چھوٹے بڑے مظاہرے منعقد کئے جائیں گے ۔
ناظمہ کراچی جاوداں فہیم نے تمام مہمانوں اور خواتین شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ۔۔ کراچی کی خواتین کو اس تحریک کا ہراول دستہ بننے پہ مبارکباد پیش کی اور اس عزم و یقین کا اظہار کیا کہ اب اس تحریک کو آگے بڑھانا ہے اس وقت تک جدوجہد کرنی ہے جب تک عوام کو ان کا حق نہیں مل جاتا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے اپنے خطاب میں کہا کہ
حکمران پٹرولیم مصنوعات پر اربوں روپے کی لیوی لے کر عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں ۔ اپنی عیاشیوں کے لئے اربوں روپے کے جہاز اور گاڑیاں خرید رہے ہیں۔
کراچی کو کھنڈر بنادیا گیا ہے۔ اگر سندھ میں حکمرانی کرنے والوں کو کراچی کی سڑکوں پہ بائیک پہ بٹھا کر گھمایا جائے اور پھر ان سے پوچھا جائے کہ جناب آپ کی ہڈیوں کیا حال ہے ۔ پھر ان کو عوام کی تکلیف کا احساس ہو شاید۔۔۔
انہوں نے حافظ نعیم الرحمن کو کراچی کے عوام کی طرف سے
7 اگست کے احتجاج میں بھرپور شرکت کا یقین دلایا۔۔۔
اس دعا پہ مارچ کا اختتام ہوا کہ
یارب اس ملک کو امن و سکون، انصاف اور خوشحالی کا گہوارہ بنادے اسلام کے نام پہ بننے والے ملک کو اسلام کا قلعہ بنادے ۔آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *