مایوس نہ ہوں، ہمت باندھیں
جھلستی دھوپ میں پسینے سے شرابور کدال کندھے پہ ڈالے تبریز مزدوری ملنے کے انتظار میں سڑک کنارے بیٹھا گاڑیوں کی آمدو رفت دیکھ رہا تھا ۔۔۔فکروں اور اندیشوں میں گھرا اس کا وجود بس ایک ہی دعا مانگ رہا تھا کہ آج اسے اتنی دیہاڑی مل جاۓ کہ وہ بیوی بچوں کا کھانااور بیمار ماں کی دوائی لے کر گھر جا سکے ۔
وہ جو وطن عزیز کا اہم شہری تھا اس کی ایک شناخت تھی کیونکہ شناختی کارڈ اس کی جیب میں ضرور تھا ۔اسے اپنے وطن سے بہت محبت تھی جو اس نے اپنی ماں کی کوکھ سے ہی لی تھی کیونکہ یہ دھرتی بھی تو ہماری ماں تھی ناں ۔۔۔مگر حالات سے مجبور ہو کر کبھی کبھی اس کا دل چاھتا کہیں اور بھاگ جائے وہ بی اے پاس تھا آگے پڑھنا بھی چاھتا تھا مگر وسائل نہ تھے باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد گھر کی زمہ داری اس کے کندھوں پہ آ گئ تھی نوکری ملی نہیں سو مزدور بن گیا۔۔۔گھر کے نام پہ ایک ٹین کی چھت والا کمرہ جو کچن بھی تھا،چھوٹا ساصحن اس کی کل جائیداد تھی جہاں نام کی بجلی اور گیس تھی گھر میں ۔۔اور بل ہر مہینے کسی عذاب کی طرح نازل ہو جاتے تھے ؟؟وہ سڑک پہ دوڑتی بھاگتی گاڑیوں کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ کیا زندگی کی خوشیوں پہ اس کا یا اس کے گھر والوں کا کوئ حق نہیں؟؟وہ زندگی سے بے زار ہو چکا تھا کبھی اس کا دل چاھتا کہ خود کو ختم کر کے ہر دکھ ہر غم سے آذاد ہو جائے لیکن بچپن میں مولوی صاحب کا پڑھایا سبق یاد تھا کہ خودکشی حرام ہے اور زندگی اللہ رب العزت کی طرف سے ایک امانت سو حلال روزی کی تلاش میں مگن تھا لیکن اس شیطان کا کیا کرے جو ہر وقت اسے اکساتا تھا۔
حالات تھے کہ بدلتے ہی نہ تھے اسے حکمرانوں پہ غصہ آنے لگتا جنھیں عوام کی کوئ پرواہ ہی نہ تھی۔۔؟جب ارباب اختیار اپنی زندگیاں جینے لگیں اور انھیں عوام کیڑے مکوڑے لگنے لگیں تو بغاوت تو جنم لے گی ناں؟معاشرے میں چھینا جھپٹی تو ہو گی ناں ؟بنیادی ضروریات زندگی پہ تو اس کا بھی حق تھا ۔۔۔اچانک اس کی گود میں کسی نے ایک پرچہ ڈالا شاید کوئ پمفلٹ تھا کوئ جماعت تھی جو عوام کے لیے اٹھی تھی ان کے جائز حقوق دلانے کی بات کرتی تھی ۔۔۔جو اللہ کے نظام کی بات کرتی تھی جو قرآن کی بات کرتی تھی ۔جو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا علم کے کر اٹھے تھے ۔۔۔وہ ایک عزم سے اٹھا اگر مسائل کا مستقل حل چاہیے تو سب کو مل کر ایک ہونا ہوگا ۔ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہو گا۔یہ اس کا حق تھا جو اسے چھیننا نہیں تھا بلکہ پر امن اور بااصول طریقے سے احساس دلانا تھا۔اپنے حقوق کی جنگ لڑنی تھی وہ جانتا تھا کہ اس کے پاس نہ موٹر سائیکل تھی نہ رکشہ نہ گاڑی مگر پٹرول کی آئے روز چڑھتی قیمتیں ہر چیز کو متاثر کرتی ہیں اور مہنگائ کا پہاڑ بلند سے بلند ہوتا جاتا ہے سو اس کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا ۔تبریز نے ہمت باندھ لی ہے اب آپ کی باری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔