امریکہ کی ایران پر بمباری جاری، قشم اور آبادان دھماکوں سے گونج اٹھے
تہران: امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں میں پاسدارانِ انقلاب سے متعلق متعدد اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، یہ کارروائی ایک روز قبل امریکی افواج پر کیے گئے مبینہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے جواب میں عمل میں لائی گئی۔
امریکی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی حملوں کا دائرہ ایران کے مختلف علاقوں تک پھیلا ہوا تھا، جہاں فوجی کمانڈ مراکز، میزائل ذخائر، بغیر پائلٹ طیاروں کی تنصیبات، ساحلی دفاعی نظام اور بحری عسکری صلاحیتوں سے وابستہ متعدد مقامات کو ہدف بنایا گیا، کارروائی کا مقصد ان صلاحیتوں کو محدود کرنا تھا جنہیں امریکا خطے میں اپنے مفادات اور اتحادیوں کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس فوجی کارروائی کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج، خلیجی ممالک میں موجود اتحادیوں اور بین الاقوامی بحری گزرگاہوں سے گزرنے والی تجارتی جہاز رانی کو لاحق ممکنہ خطرات میں کمی لانا ہے، یہ حملے دفاعی حکمتِ عملی کے تحت کیے گئے۔
ادھر ایرانی ذرائع ابلاغ نے بھی جنوبی ایران میں امریکی حملوں کی اطلاعات نشر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جمعرات کی صبح متعدد علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جزیرہ قشم اور آبادان کے نواحی علاقوں میں کئی مقامات میزائل حملوں کی زد میں آئے۔
صوبہ ہرمزگان کے نائب گورنر احمد نفیسی کے حوالے سے ایرانی ذرائع نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 4 بجے جزیرہ قشم کے قریب واقع ایک مقام پر امریکی حملہ کیا گیا، متعلقہ ادارے صورتحال کا جائزہ لینے اور نقصانات کا اندازہ لگانے میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے صوبہ خوزستان کے ایک ذمہ دار عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آبادان کے اطراف بھی امریکی میزائل حملے کیے گئے، تاہم ان کارروائیوں سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
اب تک ایرانی حکام نے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کے بارے میں کوئی جامع سرکاری رپورٹ جاری نہیں کی، جبکہ امریکی حکام نے بھی کارروائی کے نتائج، ہدف بنائے گئے مقامات کی تباہی یا ممکنہ ہلاکتوں سے متعلق مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
دفاعی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ امریکی فضائی کارروائیاں اس امر کی غماز ہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان فوجی کشیدگی ایک مرتبہ پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات صرف خلیجی خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کی رسد، سمندری تجارت اور بین الاقوامی سلامتی بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔