|

جسم میں مائیکرو پلاسٹک جمع ہونا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے: تحقیق

روم: ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزمرہ زندگی میں خوراک، پانی اور ہوا کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والے پلاسٹک کے نہایت باریک ذرات ممکنہ طور پر دل کی شریانوں میں جمع ہو کر ہارٹ اٹیک سمیت سنگین قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں، اگرچہ ماہرین کے مطابق اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت اب بھی موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کے یہ خردبینی ذرات اب انسانی ماحول کے تقریباً ہر حصے میں موجود ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک عام انسان ہر ہفتے کریڈٹ کارڈ کے برابر پلاسٹک اپنے جسم میں جذب کر لیتا ہے، تاہم یہ ذرات انسانی صحت پر کس حد تک اثرانداز ہوتے ہیں، اس بارے میں سائنسی تحقیق ابھی جاری ہے۔

اٹلی کی ساپینزا یونیورسٹی کے محققین نے اس تحقیق کے دوران 6 افراد کا انتخاب کیا، جن کی انجیو گرافی کی جا چکی تھی۔ انجیو گرافی کے ذریعے خون کی شریانوں کا تفصیلی معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ ان میں رکاوٹ، تنگی یا دیگر مسائل کی نشاندہی کی جا سکے۔

تحقیق میں شامل افراد کو 3 الگ الگ گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے گروہ میں ہارٹ اٹیک کے مریض، دوسرے میں وہ افراد شامل تھے جن کی دل کی شریانیں چکنائی یا دیگر مواد جمع ہونے کے باعث تنگ ہو چکی تھیں، جبکہ تیسرے گروہ میں صحت مند افراد کو رکھا گیا۔

محققین نے جدید تجربہ گاہی طریقوں کی مدد سے دل کی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کی موجودگی کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ہارٹ اٹیک کا شکار ہونے والے 84 فیصد افراد کی شریانوں میں یہ ذرات موجود تھے، جبکہ دل کی شریانوں میں تنگی کے شکار 40 فیصد مریضوں میں بھی ان کی موجودگی ریکارڈ کی گئی۔

تحقیق کے مطابق حیران کن طور پر مکمل صحت مند سمجھے جانے والے 32 فیصد افراد کی دل کی شریانوں میں بھی پلاسٹک کے خردبینی ذرات پائے گئے۔ ماہرین نے بتایا کہ ان میں سب سے زیادہ مقدار پولی تھین سے بننے والے پلاسٹک کے ذرات کی تھی، جو روزمرہ استعمال کی بے شمار اشیا میں استعمال ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہارٹ اٹیک کے مریضوں کی دل کی شریانوں میں پلاسٹک کے ذرات نسبتاً زیادہ مقدار میں جمع ہوتے ہیں، جو ممکنہ طور پر شریانوں کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ دریافت اس نظریے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات قلبی بیماریوں کے خطرات سے تعلق رکھتے ہیں۔

ماہرین نے یاد دلایا کہ 2024 میں شائع ہونے والی ایک الگ تحقیق میں بھی دل کی شریانوں میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی سامنے آئی تھی۔ طبی ماہرین کے مطابق جب دل کی شریانوں میں مختلف اقسام کا مواد جمع ہونے لگتا ہے تو ہارٹ اٹیک، فالج اور قبل از وقت موت جیسے سنگین خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس تازہ تحقیق میں یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی جیسے عوامل بھی پلاسٹک کے ننھے ذرات کو دل کی شریانوں میں جمع ہونے کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں۔ تاہم محققین نے اس بات پر زور دیا کہ ان نتائج کو حتمی قرار دینے سے قبل مزید وسیع پیمانے پر تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ پلاسٹک کے ان ذرات اور دل کی بیماریوں کے درمیان تعلق کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *