پمز اسپتال میں آتشزدگی کے ایک اور واقعے کا انکشاف
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں حالیہ افسوسناک واقعے کے بعد ایک اور اہم انکشاف سامنے آگیا ہے۔ پمز اسپتال آتشزدگی سے متعلق سامنے آنے والی انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً ایک ماہ قبل بھی نرسنگ ہاسٹل میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 6 جولائی کی رات تقریباً 3 بجے پمز نرسنگ ہاسٹل کے استقبالیہ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ واقعے کے وقت ہاسٹل میں 78 طالبات موجود تھیں، تاہم خوش قسمتی سے تمام طالبات محفوظ رہیں اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
آگ کے باعث ہاسٹل کے استقبالیہ میں موجود تین صوفہ سیٹ جل گئے تھے۔ واقعے کے بعد معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے اپنی رپورٹ میں مختلف انتظامی اور حفاظتی امور کی نشاندہی کی۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق الیکٹریکل اور فارنزک رپورٹس دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا۔ کمیٹی نے ہاسٹل وارڈن اور سیکیورٹی عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی۔
رپورٹ میں ہاسٹل وارڈن زینب سحر پر ضروری ریکارڈ برقرار نہ رکھنے اور حفاظتی ضابطہ کار یعنی ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اسی طرح سیکیورٹی گارڈز واجد محمود اور شوکت محمود کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا کہ آگ لگنے کے وقت وہ اپنی ڈیوٹی کی مقررہ جگہ پر موجود نہیں تھے۔
پمز اسپتال آتشزدگی کے اس سابقہ واقعے کا سامنے آنا حالیہ سانحے کے بعد ہسپتال اور اس سے منسلک عمارتوں کے حفاظتی انتظامات پر مزید سوالات پیدا کرتا ہے۔ ان واقعات کے تناظر میں حفاظتی اقدامات پر مؤثر عمل درآمد اور ذمہ داری کا تعین اہم قرار دیا جا رہا ہے۔