حکومت کی من مانی: قدرتی ورثہ اور جائداد کے حق پر حملہ
پنجاب حکومت کی حالیہ پالیسیوں میں شامل ’’جنگلات (ترمیمی) ایکٹ، 2026‘‘ نے قدرتی وسائل کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جنگلات ایکٹ، 1927 کی دفعہ 27 میں ذیلی دفعہ (4) کے بعد درج ذیل نئی ذیلی دفعہ شامل کی جائے گی: ’’(5) اس دفعہ میں موجود کسی بھی بات کے باوجود، اگر وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، یا ان کی ملکیت یا کنٹرول میں کسی ادارے، تنظیم، اتھارٹی یا ایجنسی کا کوئی منصوبہ قومی اہمیت کا ہو، تو حکومت اپنی مقرر کردہ شرائط و ضوابط کے تحت کسی محفوظ جنگل یا اس کے کسی حصے کو محفوظ جنگل کی حیثیت سے خارج قرار دے سکتی ہے‘‘۔ اس ترمیم کے ذریعے حکومت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی منصوبے کو ’’قومی اہمیت‘‘ قرار دے کر مخصوص شرائط میں ریزروڈ یا پروٹیکٹڈ جنگلات کی قانونی حیثیت ختم کر دے۔ یعنی وہ زمینیں جو صدیوں سے عوامی اور ماحولیاتی تحفظ کی ضامن رہی ہیں رہیں، اب وقتی مفادات کے بدلے ضائع ہو سکتی ہیں۔ یہ اقدام ماحولیات کے بنیادی اصولوں کو متضاد بناتا ہے کیونکہ جنگلات نہ صرف حیاتیاتی تنوع کے مراکز ہیں بلکہ سیلاب، زمینی کٹاؤ اور فضائی آلودگی کے خلاف ہماری پہلی دفاعی لائن بھی ہیں۔
اسی حکومت کے ایک حالیہ اعلان نے نجی ملکیت کے تحفظ کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے؛ وفاقی وزیر کی طرف سے کہا گیا کہ حکومت کسی بھی گھر کے مالک سے تقاضا کر سکتی ہے کہ وہ اپنا گھر سرکاری اشتہارات کے لیے دستیاب کرائے، اور انکار پر جائداد سے محروم کر دیا جائے گا۔ ایسی بات نہ صرف آئینی حقوق خاص طور پر ملکیت کے حقوق اور ذاتی آزادی کے منافی ہے بلکہ معاشرتی عدل اور شہری اعتماد کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ جب ریاست اپنی ترجیحات کو عوامی مفاد کے نام پر ایسے لاتعلقی انداز میں نافذ کرے کہ فرد کی نجی جگہ اور بنیادی حقوق پامال ہوں، تو قانون کی روح باقی نہیں رہتی۔ مزید تشویش اس بات کی ہے کہ حکومتی اختیارات کی یہ وسعت شفافیت، عوامی مشاورت اور ماحولیاتی جائزے کی شرائط کے بغیر دی جا رہی ہے۔ تاریخ نے بارہا دکھایا ہے کہ جب فیصلے تیز رفتار اور غیر شفاف طریقے سے ہوتے ہیں تو نقصان اکثر ناقابل ِ تلافی ہوتا ہے۔ مختصر مدتی معاشی یا سیاسی مفادات کے لیے طویل مدتی ماحولیاتی استحکام اور شہری فلاح قربان کر دینا خود غرضی کی انتہا ہے۔
اس ترمیمی ایکٹ کو فی الفور واپس لیا جائے اور اس کی شقیں ماحولیاتی ماہرین، آئینی ماہرین، مقامی کمیونٹی اور سول سوسائٹی کی شمولیت سے ازسرِ نو جانچی جائیں۔ کسی بھی جگہ کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے یا کسی منصوبے کو ’’قومی اہمیت‘‘ دینے سے قبل لازمی عوامی مشاورت اور آزاد ماحولیاتی اثرات کا مفصل مطالعہ درکار کیا جائے۔ نجی جائداد کے حقوق پر سرکاری دعووں کو مسترد کرنے کے لیے واضح آئینی اور قانونی حفاظتی شقیں وضع کی جائیں تاکہ شہریوں کی رہائش اور ذاتی آزادی محفوظ رہے۔ حکومت طویل مدتی ماحولیاتی منصوبہ بندی اپنائے جس میں قدرتی وسائل کی حفاظت کو حکومت کی اولین ولازمی جزو سمجھا جائے۔ قصہ مختصر ریاستی طاقت کا استعمال تبھی جائز سمجھا جا سکتا ہے جب وہ شفاف، منصفانہ اور عوامی مفاد کے مطالبات کے مطابق ہو؛ ورنہ یہ من مانیاں نہ صرف ہمارے قدرتی ورثے کو برباد کریں گی بلکہ عوام کے بنیادی حقوق اور مستقبل کی نسلوں کے لیے بقا کے ذرائع بھی خطرے میں ڈال دیں گی۔