14 اگست: پاکستان کی موجودہ مشکلات، اسلامی نظریہ سے فرار

14 اگست کا دن تاریخ عالم میں محض ایک جغرافیائی سرحد کے وجود میں آنے کی داستان نہیں، بلکہ ایک نظریاتی ریاست کے قیام کی وہ لازوال جدو جہد ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پر رکھی گئی تھی۔ پاکستان کا قیام کسی حادثہ کا نتیجہ نہیں بلکہ اس نظریے کی عملی تعبیر تھا جو برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں صدیوں سے پروان چڑھ رہا تھا کہ اسلام محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے، اور اِس نظام کی تکمیل کے لیے ایک آزاد اسلامی ریاست کا حصول ناگزیر ہے۔ پاکستان کے قیام کی پہلی اینٹ اس وقت رکھی گئی جب 712ء میں فاتح سندھ محمد بن قاسم نے سندھ کی بنیاد باب الاسلام یعنی اسلام کے دروازہ کے طور پر رکھی۔ یہیں سے اِس خطے میں اسلام کی وہ روشنی پھیلنی شروع ہوئی جو آگے چل کر پورے برصغیر کو منور کرنے والی تھی۔ اسلام کی حقیقی اور دیرپا فتح تلوار سے نہیں بلکہ دعوت، محبت اور اخلاق سے حاصل ہوئی۔ صوفیائے کرام اور اولیاء عظام نے اپنی دعوتی و تبلیغی کوششوں سے کروڑوں دلوں کو اسلام کی طرف مائل کیا۔ داتا گنج بخش، بابا فرید الدین گنج شکر، لعل شہباز قلندر اور دیگر بزرگانِ دین کی محنتوں نے اسلام کو عوامی سطح پر قبولیت عطا کی۔ یہی وہ دعوتی و روحانی بنیاد تھی جس پر برصغیر میں مسلم معاشرے کی تعمیر ہوئی۔اِس کے بعد صدیوں تک مسلم حکمرانوں سے لے کر مغلیہ سلطنت تک برصغیر میں ایک مضبوط، خوشحال اور منفرد تہذیب کی بنیاد رکھی۔ فنِ تعمیر، علم و ادب اور عدل و انصاف کے ایسے نمونے قائم ہوئے جنہوں نے مسلمانوں کو ایک الگ تہذیبی و ثقافتی شناخت عطا کی، ایسی شناخت جو آگے چل کر ایک الگ قومی وجود کی بنیاد بنی۔

1857 کی انگریزوں کے تسلط کے خلاف جنگ ِ آزادی میں مسلمانوں نے بھرپور کردار ادا کیا اور آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کو اِس تحریک کی علامتی قیادت سونپی۔ ہندوستان بھر میں آزادی کے متوالے مسلمانوں نے بیش بہا جانی اور مالی قربانیاں دیں۔ جنگ کی ناکامی کے بعد انگریز سرکار کا سب سے زیادہ عتاب مسلمانوں پر نازل ہوا۔ تعلیمی ادارے تباہ ہوئے، سیاسی و معاشی مواقع محدود کر دیے گئے۔ اِسی کڑے دور میں سرسیّد احمد خان و دیگر زعماء نے مسلمانوں کی تعلیمی و فکری بیداری کے لیے کام کیا اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی جیسا مایہ ناز ادارہ قائم کیا۔ جس نے آگے چل کر مسلمانوں کی سیاسی قیادت کی راہیں ہموار کیں۔ بیسویں صدی کے آغاز میں خلافت ِ عثمانیہ کے تحفظ کے لیے چلنے والی تحریک ِ خلافت نے مسلمانانِ ہند کو ایک بار پھر جذباتی و روحانی سطح پر متحد کر دیا۔ اِس تحریک نے ثابت کیا کہ ہندوستانی مسلمان اپنی ملّی و مذہبی وابستگی کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں، اور یہی جذبہ آگے چل کر تحریک ِ پاکستان کی روح بنا۔ 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ڈھاکا میں عمل میں آیا جو مسلمانانِ ہند کی سیاسی بیداری کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ دوسری طرف کانگریسی قیادت، بالخصوص گاندھی جی اور نہرو کی رفاقت میں کام کرتے ہوئے مسلمانوں کو نظر آیا کہ وہ مسلمانوں کو ایک الگ اور مساوی قوم تسلیم کرنے کے بجائے محض ایک اقلیت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ 1937 کے انتخابات کے بعد کانگریسی وزارتوں کے روئیے نے مسلم لیگ کی قیادت پر یہ حقیقت واضح کر دی کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی، تہذیبی اور مذہبی حقوق محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اِسی نازک موڑ پر علامہ اقبال نے مسلمانانِ ہند کی نظریاتی رہنمائی کا فریضہ سنبھالا۔ 1930 میں مسلم لیگ کے الٰہ آباد کے اجلاس کے خطبہ ٔ صدارت میں اْنہوں نے پہلی بار واضح انداز میں شمال مغربی ہندوستان میں ایک متحدہ مسلم ریاست کے قیام کا تصور پیش کیا۔ علامہ اقبال کا یہ خواب محض ایک سیاسی تجویز نہیں بلکہ اْن کے اْس فلسفے کی عملی تدبیر تھا کہ مسلمان اپنی مذہبی و تہذیبی زندگی کی مکمل تعبیر کے لیے ایک آزاد ریاست کے محتاج ہیں۔ اِسی لیے وہ بجا طور پر ’’مصورِ پاکستان‘‘ کہلائے۔

علامہ اقبال نے نہ صرف نظریہ پیش کیا بلکہ اِسے عملی جامہ پہنانے کے لیے قائد ِ اعظم محمد علی جناح سے بار بار خط و کتابت کی، اْنہیں مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے اور مسلمانانِ ہند کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی ترغیب دی۔ یہ خطوط تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جن میں ایک عظیم مفکر نے ایک عظیم رہنما کو مستقبل کی راہ دکھائی۔ 23 مارچ 1940 کو لاہور میں مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں وہ قرارداد منظور ہوئی جو بعد میں ’’قرارداد پاکستان‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اِس قرارداد نے مسلمانانِ ہند کے لیے الگ اور خودمختار مملکت کے مطالبے کو باضابطہ سیاسی اور عملی شکل دی، اور یہیں سے تحریک ِ پاکستان نے ایک منظم اور ناقابل ِ واپسی رُخ اختیار کیا۔ قائد ِ اعظم کی زیر ِ قیادت مسلمانانِ ہند نے ایسی یکسو اور بے مثال جدوجہد کی جس کی نظیر تاریخ عالم میں کم ملتی ہے۔ عام مسلمان کے لیے پاکستان کا مطلب کسی جغرافیائی خطے کا حصول نہیں تھا بلکہ ایک ایسی سرزمین کا حصول تھا جہاں وہ اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکے۔ ان کی سوچ اور جذبہ یہ تھا کہ ہم ایک اللہ کا گھر مسجد کے حصول کی جدو جہد کررہے ہیں۔ یہی جذبہ اْس دور کے سب سے مقبول نعرے میں ڈھل گیا: ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ‘‘ قائد ِ اعظم نے اپنی متعدد تقاریر میں بار بار یہ حقیقت واضح کی کہ ہندو اور مسلمان محض دو مذہبی گروہ نہیں بلکہ اپنی تہذیب، ثقافت، رسم و رواج اور نظامِ حیات کے اعتبار سے دو الگ الگ قومیں ہیں، اور دو الگ قوموں کے لیے ایک ہی وطن میں مساوی ترقی ممکن نہیں۔ ’’لے کر رہیں گے پاکستان‘‘ اور ’’بٹ کے رہے گا ہندوستان، بن کے رہے گا پاکستان‘‘ جیسے نعرے مسلمانانِ ہند کے اْس عزم کی ترجمانی کرتے تھے جسے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی تھی۔ اس مرحلے پر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے دو قومی نظریے پر ایک مدلل اور معرکت الاعلیٰ کتاب لکھی۔ جسے تحریک پاکستان میں بھرپور استعمال کیا گیا۔

کانگریس اور برطانوی حکومت نے ابتداء میں نظریۂ پاکستان کی شدید مخالفت کی اور متحدہ ہندوستان کے مختلف منصوبے پیش کیے، مگر مسلمانانِ ہند کے غیر متزلزل اتحاد اور قائد ِاعظم کی زیرک قیادت کے سامنے بالآخر انگریز حکومت کو نظریۂ پاکستان تسلیم کرنا پڑا۔ اور پھر وہ تاریخی دن آ پہنچا۔ 14 اگست 1947، جو اسلامی کیلنڈر کے مطابق 27 رمضان المبارک شب قدر، رمضان کی بابرکت، مغفرت اور قبولیت والی راتوں میں سے ایک کو تھا، پاکستان ہندوستان سے علٰیحدہ ایک آزاد اسلامی مملکت کے طور پر معرضِ وجود میں آیا۔ یہ دن محض سیاسی آزادی کا اعلان نہیں بلکہ اْس سرزمین کے قیام کا اعلان تھا جسے لاکھوں مسلمانوں نے اپنے مال، اپنی عزت اور اپنی جانوں کی قربانی دے کر حاصل کیا اور جو مدینہ منورہ کے بعد دوسری اسلامی مملکت بن کر وجود میں آئی۔ ہجرت کے دوران لاکھوں مسلمانوں کا بہنے والا لہو اور بکھرنے والے خاندان اِس حقیقت کے گواہ ہیں کہ پاکستان کوئی آسانی سے ملنے والا تحفہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد، پاکیزہ دینی جذبے اور بے مثال قربانیوں کا ثمر تھا۔ مگر آج، اِس آزادی کے 79 برس بعد، ہمیں خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے: کیا ہم نے اْس نظریے کے ساتھ انصاف کیا جس کی خاطر یہ ملک حاصل کیا گیا؟ عدل و انصاف، اخوت و بھائی چارہ، امانت و دیانت اور قرآن و سنت پر مبنی وہ معاشرہ جس کا خواب علامہ اقبال اور قائد ِ اعظم نے دیکھا تھا، آج بھی ہم سے یہ بابرکت منزل بہت دور ہے۔

آج کے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام و رسہ کشی، ہائبرڈ جمہوریت اور اس میں عدالتی ناانصافیاں و خوف و دہشت کا ماحول، انتخابی دھاندلیاں اور نتائج کی تبدیلیاں، بیڈ گورننس و لوڈ شیڈنگ، کرپشن کا دور دورہ، مہنگائی و حکمرانوں کی عیاشیاں و معاشی دیوالیہ پن کا دور دورہ ہے۔ اس لیے آج کے پاکستان میں یومِ آزادی محض جشن کا دن نہیں بلکہ احتساب اور تجدید عہد کا دن بھی ہے۔ اِس عزم کی تجدید کہ ہم اپنے آبا و اجداد کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور نظریۂ پاکستان کی حقیقی تعبیر کے لیے از سرِ نو جدوجہد کریں گے۔ جماعت اسلامی قیام پاکستان سے غلبہ دین اور اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ کی جدو جہد کر رہی ہے اور عوام کی ذہن سازی و کردار سازی، معاشرے کی اخلاقی و سماجی اصلاح اور ملک میں صالح و نیک حکمرانی کے لیے کوشاں ہے۔ لیکن کامیابی کی منزل ابھی دور ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پاکستان میں قرآن و سنت کا نظام جلد ازجلد قائم فرمائے کیونکہ پاکستان کا وجود اور اس کی ترقی اسی نظریہ اسلام پر برقرار رہ کر ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ آمین

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *