کراچی کے قبرستان
سندھ حکومت کو مبارک ہو۔ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے جاری کردہ تازہ ترین سروے میں کراچی کو دنیا کے 173 شہروں میں سے 170 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کراچی رہائش کے اعتبارسے دنیا کا چوتھا بدترین شہر ہے۔ پوری دنیا میں کراچی سے بدترین صرف تین شہر ہیں۔ بنگلا دیش کا شہر ڈھاکا 171 واں نمبر، لیبیاکا شہر تریپولی 172 واں نمبر اور شام کا شہر دمشق 173 واں نمبر۔ کراچی آخری نمبر پر اس لیے نہیں ہے کہ ڈھاکا پچھلے دنوں ایک ہولناک سیاسی انقلاب اور شدید احتجاجی لہر کی زد پر تھا۔ دمشق اور تریپولی بیرونی مداخلت، میزائل حملوں اور دہشت گردی کا سامنا کررہے ہیں۔
60 اور 70 کی دہائی کا کراچی پاکستان کا واحد بین الاقوامی شہر تھا۔ جہاں ہالی ووڈ کی فلمیں ریلیز ہوتی تھیں، نائٹ لائف تھی، اور بحری و فضائی راستوں سے دنیا بھر کے سیاح یہاں آتے تھے۔ اس وقت لاہور ایک پرسکون، روایتی اور ثقافتی شہر تھا لیکن معاشی اور جدید ترقی میں کراچی سے بہت پیچھے تھا۔ آج لاہور فلائی اوورز، میٹرو ٹرینز، اور جدید ترین اسٹریٹ لائٹس سے چمک رہا ہے، جبکہ کراچی کی اندھیری سڑکیں رات کے وقت جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بن چکی ہیں۔ کراچی کا کوئی شہری آج لاہور کے چمکتے انفرا اسٹرکچر، صفائی اور روشنیوں کو دیکھتا ہے تو حسرت کا ویسا ہی طوفان اس کے دل میںجاگ اٹھتا ہے جیسا کبھی لکھنؤ کے مقابل دلّی کے حال پر میر تقی میر کے اُٹھا تھا، اور وہ بصد یاس کہنے لگتا ہے:
کیا بود و باش پوچھو ہو ’’لاہور‘‘ کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
’’کراچی‘‘ جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو ’’پی پی‘‘ نے لوٹ کے ویران کردیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اُجڑے دیار کے
کراچی کی تعمیر کے لیے کسی منصوبے پر جب حکومتیں ہاں کہتی ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے شاید اور جب وہ شاید کہتی ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے ناں۔ یہی وجہ ہے کہ تڑپتا سسکتا کراچی آج عظیم ترقیاتی منصوبوں کا قبرستان ہے۔ ظالمانہ کرپشن کراچی کے منصوبے دیکھتی ہے تو پہلے قہقہہ لگاتی ہے اور پھر طے کرتی ہے کیا Do’s ہیں اور کیا Do not”s یہاں پینے کو پانی نہیں ہے، کچرے سے صاف گلیاں نہیں ہیں، روشن شاہراہیں نہیں ہیں، ثابت اور ہموار سڑکیں نہیں ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ہیں، زندگی کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ کیونکہ بلاول ہائوس میں کبھی پانی کی قلت نہیں ہوئی، وہاں کے صاف ستھرے دروبام نے کبھی کچرا نہیں دیکھا، وہاں کبھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوئی، وہاں کے رہائشیوں کو کبھی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سفر نہیں کرنا پڑا، انہیں کبھی ٹرانسپورٹ کے مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ ان کے پاس ہیلی کاپٹرز ہیں، حفاظت کے لیے سیکورٹی ایجنسیاں ہیں۔
کراچی نامکمل میگا منصوبوں کا قبرستان ہے۔ کراچی میں پانی کے فراہمی کے K4 منصوبے کی سندھ حکومت نے 2014 میں منظوری دی تھی۔ اس وقت اس کی لاگت کا تخمینہ 25 ارب 55 کروڑ روپے لگایا گیا تھا۔ اس منصوبے کو 3 سال میں مکمل ہونا تھا۔ ناقص ڈیزائننگ، طویل تاخیر، کرپشن اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کے باعث اس منصوبے کی لاگت 25 ارب 55 کروڑ روپے سے بڑھ کر 126 ارب روپے اور اب 170 ارب روپے سے بڑھ کر 250 ارب روپے سے تجاوز کرچکی ہے۔ 2018 کی ڈیڈ لائن والے اس منصوبے کی اگلی منزل 2029 قرار دی گئی ہے۔ امید یہی ہے کہ یہ ڈیڈ لائن بھی خیریت سے گزر جائے گی اور منصوبہ مکمل نہیں ہوگا۔ اس منصوبے کی طویل عمری کا راز گالی دیے بغیر نہیں بتایا جاسکتا۔
گریٹر کراچی سیوریج پلان (SIII)، اس منصوبے کو کراچی کی ساحلی پٹی کو آلودگی سے بچانے اور روزانہ 460 ملین گیلن (MGD) گندے پانی کو ٹریٹ کر کے سمندر میں بہانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ناقص گورننس، فنڈز کی عدم فراہمی اور مجرمانہ تاخیر کی وجہ سے آج اس منصوبے کا حال بھی کے فور جیسا ہی ہے۔ ستمبر 2007 میں وفاقی حکومت اور حکومت ِ سندھ کے درمیان ففٹی ففٹی کی شراکت داری کے تحت اس منصوبے کی منظوری دی گئی، تو اس کی کل لاگت تقریباً 8 ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔ طویل تاخیر کی وجہ سے پہلے اس کی لاگت بڑھ کر 36 ارب روپے ہوئی، اور اب مجموعی تخمینہ 150 ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ یوں لاگت میں 1700 فی صد سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے لیکن منصوبہ کب مکمل ہوگا؟ اس کے لیے بندے کا Optimist ہونا ضروری ہے جس سے مراد ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو جانتا ہو کہ اس کے ساتھ اس سے برا نہیں ہوسکتا۔
کراچی سرکلر ریلوے کے بارے میں بلاول نے کہا تھا کہ یہ میری والدہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا کراچی کے لیے خواب تھا۔ 2022 میں اس منصوبے کو 294 ارب روپے کی لاگت سے 2025 تک مکمل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ 2026 آ گیا، نصف گزر بھی گیا، اب تک اس منصوبے کا مکمل ہونا تو رہا ایک طرف اس قبرستان کا بھی نہیں پتا جہاں اس منصوبے کو دفن کیا گیا ہے۔ کراچی میں کیمرے لگا کر اسے سیف سٹی بنانا ہو یا ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کرنا ہو میگا منصوبوں کے قبرستان کراچی میں جا بجا پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا قبرستان یونی ورسٹی روڈ ہے جہاں روزانہ لاکھوں لوگ ذلیل وخوار ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی روڈ پر 26 کلومیٹر طویل بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ سال 2022 کے آغاز میں شروع کیا گیا تھا۔ ابتدائی ہدف کے مطابق اسے 2023 سے 2024 کے درمیان مکمل ہونا تھا۔ پہلا مرحلے میں صفورہ چوک سے لے کر حسن اسکوائر تک پورے یونیورسٹی روڈ کو کھود دیا گیا۔ اسی دوران سڑک کے نیچے سے کے فور (K-IV) منصوبے کی بڑی واٹر لائنیں بچھانے کا کام بھی شروع ہوا، جس نے ٹریفک کو بدترین جام کر دیا۔ تقریباً 4 سال گزرنے کے باوجود کنٹریکٹر صرف معمولی کام کر سکا۔ کنٹریکٹر نے موقف اپنایا کہ اسے ڈیزائن مکمل نہیں دیے گئے، جبکہ سندھ حکومت نے سست روی اور ناقص کوالٹی کا الزام لگا کر اپریل 2026 میں ٹھیکا باقاعدہ منسوخ کر دیا۔ یہ منصوبہ کب تک مکمل ہوگا؟ یہ غیب کی باتیں ہیں، اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
ملک کو ستر فی صد سے زائد ریونیو دینے والا شہر آج بوند بوند پانی، ٹوٹی سڑکوں اور سیوریج کے بدترین نظام کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ یہاں فائلیں حرکت کرتی ہیں مگر زمین پر کام کی رفتار پتھر کے زمانے جیسی ہے۔ حکومتیں کاغذی دعوؤں اور نئی ڈیڈ لائنز کے جال سے باہر نکل کر ان منصوبوں کو جنگی بنیادوں پر مکمل کریں، کوئی نہیں جو ایسا ممکن بنا سکے۔ تب تک کراچی کی تاریخ قبرستانوں کی تاریخ رہے گی، لیکن کس کو فکر ہے؟