شاہ عبدالطیف بھٹائی: توحید و محبت کا پیغام

سر زمین سندھ صوفیائے کرام و اولیائے عظام کی پہچان ہے۔ جنہوں نے صدیوں سے اپنے کلام اور کردار سے انسانیت کو محبت، رواداری اور توحید کا درس دیا۔ انہی نفوسِ قدسیہ میں ایک درخشندہ نام شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ کا ہے، جنہیں سندھی زبان و ادب کا عظیم الشان شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ کا کلام صرف شاعری نہیں بلکہ معرفت الٰہی، انسانیت کی تڑپ، سندھ کی تہذیب اور عشق حقیقی کا نچوڑ ہے۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی 1689ء میں ’’ہالا حویلی‘‘ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے، جو ضلع مٹیاری، سندھ میں واقع ہے۔ آپ کا خاندان علم و روحانیت کا گہوارہ تھا اور نسلاً سادات گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ آپ کے والد سید حبیب اللہ شاہ خود ایک صاحب حال درویش، صوفی بزرگ اور باکمال انسان تھے۔ جبکہ آپ کے جد ِ امجد شاہ عبدالکریم بلڑی والے سندھی صوفی شاعری کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، جن کی روحانی و ادبی میراث نے شاہ لطیف کی شخصیت کی تعمیر اور شاعری پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی اور وقت کے نامور عالم دین آخوند نور محمد بھٹی سے حاصل کی۔ ان کی تعلیم کے حوالے سے روایات بتاتی ہیں کہ آپ کا رجحان بچپن ہی سے روایتی مکتب کی رسمی تعلیم کے بجائے باطنی و روحانی معرفت کی طرف زیادہ تھا۔ قرآن مجید کی تعلیم کے دوران بھی آپ کی توجہ الفاظ کے ظاہری مفہوم سے بڑھ کر ان کی معنویت اور روحانی گہرائی کی طرف مبذول رہتی۔ یہی داخلی کیفیت آگے چل کر آپ کی شاعری میں معرفت الٰہی اور بندگان خدا کی محبت کے اس منفرد رنگ کی بنیاد بنی جو شاہ جو رسالو کو دیگر کلاسیکی کلام سے ممتاز کرتا ہے۔

شاعرانہ تربیت کے میدان میں شاہ لطیف نے کسی مخصوص استاد کی روایتی شاگردی اختیار نہیں کی، بلکہ ان کی اصل درسگاہ فقیروں، جوگیوں اور درویشوں کی صحبت، اور سندھ، کچھ اور تھر کے صحراؤں و پہاڑوں میں کیے گئے طویل روحانی اسفار تھے۔ ان سفروں کے دوران آپ نے عام انسانوں، خصوصاً محنت کش عورتوں اور مردوں کی زندگی کو قریب سے دیکھا، اور لوک داستانوں و لوک کرداروں میں پوشیدہ روحانی حقیقتوں کو دریافت کیا۔ بعد ازاں آپ نے ہالا کے قریب ایک ٹیلے پر سکونت اختیار کی، جو ’’بھٹ‘‘ کہلایا اور آپ کی نسبت سے ’’بھٹ شاہ‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ کلاسیکی فارسی صوفی ادب، بالخصوص مولانا رومی کی مثنوی سے آپ کی گہری وابستگی اور تاثر آپ کے کلام میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ شاہ لطیف کی شاعری کا مرکزی و بنیادی موضوع توحید ہے یعنی خدا کی وحدانیت ہے۔ آپ کا پیغام یہ ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی نظر آتا ہے وہ اسی ایک ذات کا جلوہ ہے۔ آپ نے بتایا کہ خالق و مخلوق کا رشتہ صرف اور صرف عشق ومحبت اور اطاعت و فرمانبرداری پر استوار ہوتا ہے۔ توحید کے ساتھ ساتھ شاہ لطیف کے کلام میں ملت ِ اسلامیہ کے اتحاد، باہمی محبت اور رواداری کا پیغام بھی نمایاں ہے۔ آپ نے رنگ، نسل، زبان اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کی دعا کی ہے۔ شاہ صاحب کا دل سندھ کے ساتھ پورے عالم کے لیے دھڑکتا تھا سندھ کی مخلوط تہذیبی فضا میں پروان چڑھنے کے باعث آپ کا کلام مسلم و غیر مسلم دونوں طبقات میں یکساں مقبول ہوا۔ اس کے علاوہ آپ کے کلام میں صبر و استقامت، انسانی مصائب، عورت کی عظمت و ثابت قدمی، ملاحوں اور کسانوں کی زندگی، مظلوموں و محنت کشوں کی جدو جہد اور سندھ کے دریاؤں، صحراؤں اور قدرتی مناظر کی عکاسی جیسے متنوع موضوعات بھی نہایت خوبصورتی سے بیان ہوئے ہیں۔

آپ کا کلام ’’شاہ جو رسالو‘‘ کے نام سے معروف ہے، جو سندھی زبان و ادب کا سب سے قیمتی سرمایہ تصور کیا جاتا ہے جسے سندھی ادب کی انجیل کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ شاہ صاحب نے سندھ کی لوک داستانوں مثلاً سسی پنوں، عمر ماروی، سوہنی مہار، نوری جام تماچی کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے ان لوک کہانیوں کے پس پردہ انہوں نے روح کے سفر، ضبط و ضبط نفس اور خدا کے وصال کا روحانی سفر کا فلسفہ بیان کیا ہے یہ رسالہ مختلف ’’سْروں‘‘ ابواب پر مشتمل ہے۔

شاہ صاحب نے اپنی زندگی کا آخری حصہ ذکر و فکر اور مریدوں کی تربیت میں گزارا۔ شاہ صاحب کا انتقال 14 صفر 1165ھ بمطابق 1752ء میں بھٹ شاہ میں ہوا اور وہیں مدفون ہوئے۔ بعد ازاں آپ کے مزار پر ایک شاندار مقبرہ تعمیر کیا گیا جو سندھی طرزِ تعمیر، کاشی کاری اور نیلی ٹائلوں کی خوبصورتی کا نمونہ ہے۔ ہر سال 14 صفر کو یہاں سالانہ عرس کا انعقاد ہوتا ہے جس میں ملک بھر سے سائیں پرست اور کلامِ لطیف کے دلدادہ افراد جمع ہوکر عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، محفل ِ راگ سجتی ہے اور شاہ لطیف کا پیغامِ محبت و توحید ایک بار پھر تازہ ہو جاتا ہے۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک عہد، ایک تہذیب اور بصیرت کے مینار ہیں آپ کی تعلیمات ہمیں امن رواداری، خودداری اور اپنے خالق سے محبت کا درس دیتی ہے آج کے دور میں جہاں دنیا افراتفری اور۔ فرتوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے شاہ لطیف کا پیغام محبت اور وحدت انسانیت کی رہنمائی کے لیے ایک روشن چراغ ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *