پیشگی اقدامات کی ضرورت!

محکمہ موسمیات نے کراچی میں آئندہ تین روز کے دوران مون سون کی بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ اس نظام کے زیر ِ اثر دیہی سندھ کے مختلف علاقوں میں گرج چمک اور آندھی کے ساتھ بارش کا امکان ہے، جبکہ متعدد اضلاع میں تیز بارش کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ یوں تو بارش خدا کی رحمت ہوتی ہے، لیکن کراچی میں ندی نالوں کی عدم صفائی، کچرے کی عدم منتقلی اور نکاسیِ آب کے ناقص انتظامات کے باعث یہ رحمت شہریوں کے لیے شدید زحمت بن جاتی ہے۔ کراچی کی سڑکیں پہلے ہی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں، تعمیرات کے نام پر اہم شاہراہوں کو ادھیڑ کر رکھ دیا گیا ہے، رہی سہی کسی سوئی گیس کمپنی نے سڑکیں کھود کر پوری کردی ہیں۔ برسات کے دوران سڑکوں کا زیر ِ آب آنا اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونا ایک پرانا مسئلہ ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام تر خدشات کے باوجود پیشگی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ پھر جب عوام اس صورتحال پر اپنے غم و غصے کا اظہار اور حکومتی کارکردگی پر سوال کھڑے کرتے ہیں تو عوام کی یہ تنقید انتظامیہ پر سخت گراں گزرتی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ برسات شروع ہونے سے قبل شہر کے تمام چھوٹے بڑے نالوں کی صفائی یقینی بنائی جائے۔ اہم شاہراہوں پر ہیوی ڈیوٹی ڈی واٹرنگ پمپس نصب کیے جائیں اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل روٹس کا پیشگی اعلان کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ انڈر پاسز اور فلائی اوورز کے اطراف سے پانی کی نکاسی کا انتظام کیا جائے اور کھلے مین ہولز کو فوراً بند کیا جائے، تاکہ بارش شہریوں کے لیے مصیبت بننے کے بجائے خوشگواری کا باعث بنے اور معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *