ملکی سیاسی منظر نامے میں 7 اگست کا احتجاج

وطن عزیز میں ایک طرف معاشی بحران کے بادل ہیں جو چھٹنے کا نام نہیں لے رہے، تو دوسری طرف مہنگائی کا وہ طوفان ہے جس نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں عوام دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے دکھی دلوں کے ساتھ روزمرہ کی تگ و دو میں مصروف ہیں، جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران زمینی حقائق سے بے خبر دکھائی دیتے ہیں۔ اس پس منظر میں جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی طرف سے 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کروڑوں مجبور اور کچلے ہوئے پاکستانیوں کی دبی ہوئی آواز کی بھرپور بازگشت ہے۔ حالیہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے بجا طور پر اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان میں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے مہنگا پٹرول فروخت کیا جا رہا ہے۔ ایکس ریفائنری قیمت کے لحاظ سے بھی عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مسلسل عذاب میں مبتلا رکھا جا رہا ہے۔ قیمتیں بڑھانے کا یہ عالم ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں ذرا سا بھی اُتار چڑھاؤ آئے تو فوری طور پر قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں، لیکن جب قیمتوں میں نمایاں کمی ہوتی ہے تو عوام کو اس کا کوئی ثمر نہیں ملتا، اور اگر کمی کی بھی جاتی ہے تو وہ محض چند پیسوں تک محدود ہوتی ہے۔ پٹرولیم لیوی کو ’ظلم‘ اور ’جَگا ٹیکس‘ قرار دینا دراصل عوام کے اس احساس کی ترجمانی ہے جو ہر ماہ اس ظالمانہ کٹوتی کا شکار ہوتے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر روزمرہ استعمال کی اشیاء، ٹرانسپورٹ اور سبزیوں کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے اور ریاست کی طرف سے تمام معاشی بوجھ براہ راست عام آدمی کے کمزور کندھوں پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں جب معیشت کو ایسے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے تو ہنگامی بنیادوں پر معاشی ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے اور مراعات یافتہ طبقے کی شاہانہ سرگرمیوں پر کٹ لگایا جاتا ہے، لیکن ہمارے ہاں حکمراں ہر نااہلی اور ناکامی کا ملبہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے پروگرام پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ معاشی ناہمواریوں کا ایک اور بھیانک رُخ نجی شعبے کے ملازمین اور محنت کش طبقے کی حالت ِ زار ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے تو کسی حد تک تنخواہوں میں اضافے یا الاؤنسز کی بات کر بھی لی جاتی ہے، لیکن لاکھوں ایسے محنت کش اور نجی اداروں کے ملازمین ہیں جو دن رات محنت کرتے ہیں مگر مہنگائی کے اس طوفان میں ان کی تنخواہیں اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن کا یہ مطالبہ بالکل بجا ہے کہ نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی مہنگائی کے تناسب سے فوری اور نمایاں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کو عزت کی روٹی کھلا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے کی ناکام پالیسیوں نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ بجلی کی پیداوار سے زیادہ بجلی نہ بنانے یا نااہل معاہدوں کی مد میں کی جانے والی ادائیگیاں آج قوم کے لیے ناسور بن چکی ہیں۔ عوام کو مہنگی بجلی کے بل تھما دیے جاتے ہیں جو ان کی ماہانہ آمدنی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ مزدور طبقے کا استحصال صرف تنخواہوں تک محدود نہیں بلکہ کام کرنے کی جگہوں پر حفاظتی انتظامات کا فقدان بھی انسانی المیوں کا جنم دیتا ہے۔ بلوچستان میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والا حادثہ اور اس میں مزدوروں کی ہلاکت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ریاست کی نظر میں مزدوروں کی جان کی کوئی قیمت نہیں۔ حفاظتی معیارات پر عمل درآمد نہ کرانے والے عناصر قانون کی گرفت سے باہر ہیں، جو کہ انتہائی قابل ِ افسوس ہے۔ دوسری طرف خیبر پختون خوا کی تشویش ناک سیکورٹی و سیاسی صورتحال اور آزاد کشمیر میں جاری عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام ہمارے اپنے بھائی ہیں، لیکن نہ تو وہاں کی مقامی حکومت اور نہ ہی وفاقی حکومت نے بروقت اور مؤثر کردار ادا کیا۔ سیاسی محاذ پر دیکھا جائے تو پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں حیلے بہانے اور غیر ضروری تاخیر جمہوریت کی نفی ہے۔ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا چار مرتبہ ملتوی ہونا اس بات کا غماز ہے کہ حکمران نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے سخت خلاف ہیں۔ ملکی سیاسی منظر نامے پر تبصرہ کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مابین جاری رسہ کشی کو ’نورا کشتی‘ قرار دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے جب فارم 47 یا انتخابی دھاندلی سے متعلق بیانات سامنے آتے ہیں تو عوام کو حیرت ہوتی ہے، کیونکہ خود وہ بھی اسی نظامِ کی پیداوار ہیں۔ جب اقتدار میں حصہ کم ملتا ہے یا مطالبات پورے نہیں ہوتے تو یہ جماعتیں اپوزیشن کا روپ دھار لیتی ہیں، لیکن اقتدار میں رہتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانوں کی منڈی لگانے اور جوڑ توڑ کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے۔ منتخب حقیقی نمائندوں کو عوام کے مسائل حل کرنے کا موقع دیا جائے کیونکہ بیانات کی حد تک سیاست اب دم توڑ چکی ہے، اور عوام کو اب لفظوں کے فریب سے نکل کر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے بھی ان خیالات کی تائید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکمران اپنے شاہانہ اخراجات کم کرنے کو تیار نہیں ہیں جبکہ غریب عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔ پٹرولیم لیوی کو انہوں نے براہِ راست عوام پر ایک بھتا قرار دیا ہے جو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے جماعت ِ اسلامی نے بھرپور میدان عمل میں نکلنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں 3 اگست کو خواتین کا ایک عظیم الشان احتجاجی مارچ شاہراہ قائدین پر منعقد ہوگا جو مہنگائی اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف خواتین کی بیداری اور جدوجہد کا عکاس ہوگا، جبکہ 7 اگست کو کراچی سمیت ملک بھر میں شاندار اور پرامن عوامی احتجاج ریکارڈ کروایا جائے گا تاکہ حکمرانوں کے ایوانوں تک یہ پیغام پہنچ سکے کہ عوام اب مزید خاموش نہیں رہ سکتے۔ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل روایتی سیاسی بیان بازی یا وقتی لولی پاپ میں نہیں ہے۔ جب تک ملک میں معاشی انصاف کا بول بالا نہیں ہوتا، اشرافیہ کی مراعات ختم نہیں کی جاتیں اور عام آدمی کو جینے کا حق فراہم نہیں کیا جاتا، ملک میں استحکام نہیں آ سکتا۔ جماعت ِ اسلامی خدمت کی سیاست کے ساتھ ساتھ ظلم کے اس استحصالی نظام کے خلاف جو فکری اور عملی جدوجہد کر رہی ہے، وہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ 7 اگست کا احتجاج دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ عوام اب بیدار ہو ہیں اور اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکلنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکمران اس عوامی دباؤ کے بعد ہوش کے ناخن لیتے ہیں یا اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *