ہائبرڈ سیاسی نظام کی قبولیت

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی تمام بڑی اور سیاسی جماعتوں سمیت جمہوری قوتوں نے ملک میں موجود ہائبرڈ سیاسی نظام یا کنٹرولڈ جمہوری نظام کو قبول و تسلیم کر لیا ہے۔ یہ بنیادی طور پر جمہوری قوتوں کی غیر جمہوری قوتوں کے خلاف شکست ہے اور وہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ہم جمہوری طور پر کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ مسئلہ جمہوریت کی کامیابی اور ناکامی کا نہیں بلکہ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ ہم جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اب کسی بھی سطح پر مزاحمت دکھانے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہے۔ اس وقت جس طرح سے ملک کا ریاستی اور حکومتی نظام چلایا جا رہا ہے اس میں نہ تو جمہوریت ہے، نہ آئین اور قانون کی حکمرانی اور نہ ہی سول بالادستی کا دیکھنے کو ملتی ہے۔ بنیادی انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار پر بھی مختلف نوعیت کی پابندیاں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود سیاسی جماعتیں مطمئن ہیں اور برملا کہتی ہیں کہ ملک کا جمہوری نظام درست طریقے سے چل رہا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بار کہا تھا کہ اگر یہ ہائبرڈ نظام اس ملک میں 15 برس پہلے آ جاتا تو ہم شاید اور زیادہ ترقی کر جاتے ہیں۔ لیکن پچھلے چند برسوں سے موجود اس ہائبرڈ نظام نے ملک میں ترقی کے کون سے ماڈل پیدا کیے ہیں؟ اس پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی اس کمزوری کا فائدہ ملک میں غیر سیاسی قوتیں اُٹھا رہی ہیں اور وہ جمہوری قوتوں پر بالادس نظر آتی ہیں۔ پاکستان میں وہ قوتیں جو جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے وہ اس وقت کمزور وکٹ پہ کھڑی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی کسی نہ کسی سطح پر مزاحمت بھی نظر آتی ہے۔ اصل میں سیاسی جماعتوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ حق کے حکمرانی عوام کے پاس نہیں ہے اور نہ ہی عوام کے ووٹوں کی بنیاد پر حکومت تشکیل دی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھ رہی ہیں اور خود کو اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کا تارہ بنانے کی کوششوں میں مگن نظر آتی ہیں۔ جو سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہیں ان کا اقتدار میں حصہ بھی اتنا ہی بڑا ہے اور جو جماعتیں اسٹیبلشمنٹ سے دوری پر کھڑی ہیں وہ اقتدار اور سیاست کی سطح پر دیوار سے لگا دی گئی ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی بڑی اہمیت ہے اور بالخصوص سیکورٹی کے معاملات میں ہم ان کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور اس میں ان کی مشاورت ہونی چاہیے۔ لیکن اگر سیاسی اور جمہوری معاملات میں سیاسی قوتیں کمزور ہوں گی تو اس سے سیاست اور جمہوریت دونوں کو کمزوری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سیاست اور جمہوریت کی کمزوری کا یہ عمل ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو بھی کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ جو کچھ 26 ویں ترمیم میں نہیں ہوا وہ 27 ویں ترمیم میں ملک کے عدالتی نظام کے ساتھ ہوا ہے، اس پر عدالتی ماہرین میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ کیونکہ ان ترامیم کی بنیاد پر عدالتی نظام کافی حد تک محفوظ ہو چکا ہے اور آزادی اظہار پر بھی مختلف نوعیت کے پابندیوں نے متبادل آوازوں کو دبا دیا ہے۔ بلوچستان اور کے پی کے کے حالات کافی خراب ہیں مگر اس کے باوجود ہم وہاں مسئلہ حل کرنے کے لیے سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے کے بجائے غیر سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ طاقت کے استعمال کی حکمت عملی نے وہاں کے حالات کو اور زیادہ خراب کر دیا ہے۔ اگرچہ سیاسی جماعتیں کہتی ہیں کہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہونا چاہیے اور طاقت کا استعمال کم سے کم ہو لیکن ان کی یہ باتیں زبانی جمع خرچ سے زیادہ نہیں ہیں اور اصل حکمت عملی طاقت ہی کی چل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں پاکستان کی جمہوریت کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور ہماری درجہ بندی بہت نچلی سطح پر نظر آتی ہے۔ حالیہ یورپین یونین کی رپورٹ میں جی ایس پی پلس کے تناظر میں ہمیں واضح طور پر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر پاکستان کو 2027 میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنی ہے تو اسے اپنی جمہوری پوزیشن سمیت انسانی حقوق اور محروم طبقات سمیت آزادی اظہار کو بہتر بنانا ہوگا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ دنیا نہیں دیکھ رہی، آج کے ڈیجیٹل دور میں آپ بہت سے معاملات کو چھپا کر نہیں رکھ سکتے، دنیا اپنی آنکھ سے ہمارے داخلی معاملات کو دیکھ رہی ہے۔ اس لیے ہمیں جمہوریت کے بنیادی تصورات سے اپنے آپ کو جوڑنا ہوگا لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق و تحفظ دینا ہوگا اور ملک کا جمہوری تشخص بحال کرنا ہوگا۔ یہ جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جمہوریت کے بغیر ملک کے معاشی اور سیکورٹی نظام میں بہتری لا سکتے ہیں اس غلط فہمی سے باہر نکل کر ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ کیونکہ پہلے ہی پاکستان میں جہاں جمہوریت کمزور ہے وہیں سیاسی تقسیم بھی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور اس سے بہت سے نئے سیاسی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ پاکستان کے داخلی سطح پر مسائل سے نمٹنے کے لیے ہمیں سیاسی حکمت عملی کی ضرورت ہے اور مل بیٹھ کر سیاسی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ یہ جو ہم تجربات پاکستان کی ریاست اور حکمرانی کے نظام کے ساتھ کر رہے ہیں اس سے ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ پاکستان اس وقت گورننس کے سنگین بحران سے دوچار ہیں اور اس نے عام آدمی کو بہت مشکل میں ڈالا ہوا ہے اور اسی طرح سے ہمارا ادارہ جاتی نظام بھی اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔ جمہوریت کا یہ نظام ہی لوگوں میں موجود تقسیم کو ختم کرنے میں مدد فراہم کرے گا اور اسی بنیاد پر ہم اپنے داخلی معاملات کو بھی حل کر سکیں گے۔ لیکن اس کے لیے سیاسی جماعتوں کو جمہوریت سے لا تعلقی کے بجائے جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا اور اپنی بھرپور مزاحمت دکھانی ہوگی کہ اس ملک کا مستقبل بھی جمہوریت کے ساتھ وابستہ ہے۔ جو لوگ بھی پاکستان میں جمہوریت کے مقابلے میں کوئی اور نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں یا ہائبرڈ نظام کی بنیاد پر ملک کو چلانا چاہتے ہیں وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ اور اس حکمت عملی سے جتنی جلدی ہمارا ریاستی اور حکومتی نظام باہر نکل سکے گا اتنا ہی پاکستان کے حق میں ہوگا۔ لیکن اگر ہم اسی نظام میں رہتے ہیں تو پھر ہمارے پہلے سے موجود مسائل میں اور زیادہ اضافہ ہی دیکھنے کو ملے گا۔ مسئلہ سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس ملک کی سول سوسائٹی جس میں میڈیا اور وکلا بھی شامل ہے ان کو بھی جمہوریت کے حق میں ایک مضبوط آواز بن کر سامنے آنا ہوگا۔ کیونکہ جو خاموشی ہم نے اختیار کی ہوئی ہے اس سے پاکستان میں جمہوریت کا مقدمہ مضبوط نہیں بلکہ اور کمزور ہو رہا ہے۔ ہائبرڈ نظام کی ایک سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس میں ادارے اپنی اپنی حدود میں کام کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے کاموں میں مداخلت کرتے ہیں اور جو ادارہ جتنا طاقتور ہوتا ہے وہ اپنی بالادستی کو قائم کرتا ہے۔ اداروں کے درمیان جاری ٹکراؤ کی پالیسی کسی بھی طرح سے پاکستان میں ادارے جاتی نظام کو مضبوط نہیں بنا سکے گی۔ اب بھی سیاسی لوگ نیچے مجالس میں کھل کر ملک کے حالات سے اور موجودہ ہائبرڈ نظام سے مطمئن نظر نہیں آتے لیکن وہ کھل کر اپنی رائے دینے کے لیے تیار نہیں ہے یا خود کو ڈرا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں اب اس وقت مزاحمت کے بجائے سمجھوتے کی سیاست سے ہی آگے بڑھنا ہوگا اور ہمارے پاس سمجھوتے کی سیاست کے سوا اور کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *