بجلی کا آنا جانا سسٹم کا حصہ ہے، ملازمین ذمے دار نہیں ، عبداللطیف نظامانی
حیدرآباد(سٹاف رپورٹر)آپریشن سب ڈویژن سیپکو میرپور ماتھیلو کے LS-II امجد علی نوناری کی سیکنڈ ایڈیشنل سول کورٹ گھوٹکی کی جانب سے بلا جواز گرفتاری قانون سے مائورائے اور آزادی انسانی و شہری حقوق کے خلاف ہے یونین اس جانبدارانہ عمل کی مذمت کرتی ہے اگر عدالت کو کوئی شکایت ہے تو انصاف کے تقاضوں کو بروئے کار لائے ہم معزز عدلیہ کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنائیں گے بجلی کا بند ہوجانا کسی ملازم کا ذاتی فعل نہیں بلکہ ٹیکنیکلی خرابی ہے جس کی سزا بلاوجہ ملازم کو دینا کہاں کا انصاف ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہی۔ انہوںنے مزید کہا کہ مورخہ 26 جولائی کو سٹی فیڈر گھوٹکی کی بجلی منقطع ہوگئی تھی جس کی بنیاد پر آپریشن سب ڈویژن سیپکو گھوٹکی کے LS-II امجد علی نوناری کو معز ز عدلیہ نے گرفتاری کا حکم صادر فرماتے ہوئے کہاکہ بجلی کے تعطل کی وجہ بھی بتائے ۔LS-II امجد علی نوناری نے کہا کہ میرا سٹی فیڈر سے تعلق نہیں ہے بلکہ میرا تعلق اور میری ذمہ داری دوسرے فیڈر جروار فیڈر سے ہے لہذا مجھے اس بارے میں معلومات نہیں لیکن معزز عدلیہ نے LS کی وضاحت کے باوجود اس کی گرفتاری کے احکامات صادر کردیے جو کسی طرح بھی مناسب نہیں تھا۔ بعدازاں مقامی ملازمین و یونین کے احتجاج پر امجد علی نوناری کو رہا تو کردیا گیا لیکن ساتھ ہی معزز عدالت نے ایک نوٹس کے ذریعے سیپکو کے اعلیٰ و ماتحت افسران و ملازمین کو یکم اگست صبح 8 بجے عدالت میں وضاحت کیلئے طلب کرلیا ہے بجلی کا آنا جانا اور فالٹ کے آنے کا کوئی وقت نہیں ہوتا یہ سسٹم کا حصہ ہے اس میں ملازمین کو قصور وارکرنا اور گرفتار اور انکوائری میں لانا درست عمل نہیں بلکہ ایک معزز ادارے کی دوسرے مفادعامہ کے ادارے کے خلاف کارروائی کے مترادف ہے ہمارے ملازمین جو دن رات ، گرمی سردی ، آندھی طوفان میں بجلی کی روانی کو برقرار رکھنے کیلئے مسلسل اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں اور اپنے خاندان کو یتیم اور بیوہ کررہے ہیں ان کے خلاف ہمارا امتیازی سلوک یقیناً ان کے موارل کو گرانے کے مترادف ہوگا ہم ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے ان ہی کو گرفت میں لے رہے ہیں۔ لہذا معزز عدلیہ سے گزارش ہے کہ عدلیہ کے وقار کو بلند کرتے ہوئے آئندہ ایسے عمل سے گریز کرتے ہوئے تمام قانونی نوٹس کا خاتمہ کرے تاکہ ملازمین پر امن ماحول میں اپنی خدمات کو جاری رکھ سکیں۔