ہر مسئلے کا حل انتخابات ہیں‘ انہی سے مسائل حل ہو ں گے
کراچی (رپورٹ :قاضی جاوید )پی پی پی کی سینیٹر شیری رحمان نے جسارت کے جسارت کا سوال “کیا انتخابات کشمیر یوں کے مسائل کا حل ہے؟ کے جواب میں کہا کہ کشمیریوں کے مسائل حل انتخاب میں ہے لیکن فارم 47اور دھندلی والے انتخابات سے مسائل حل ہو نے کے بجائے صورتحال ویسی ہی ہو جاتی ہے جیسی کہ آج کشمیر میں آپ دیکھ رہے ہیں ۔کشمیریوں مسائل حل کر نے کے لیے ان اپنے نمائندوں کا انتخاب ضرور ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کشمیرمیں 27جولائی کو ہو نے والے امتخابات میں کشمیریوں کا ووٹ چوری ہو ا ہے اور اس کا ردِ عمل ہنگاموں کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دو سال سے بلاول اسی فارم 47کی حکومت کے ساتھ ہیں ۔ صدر کا انتخابات بھی فارم 47کے تحت منتخب ارکان نے کیا ہے ۔ پنجاب و خیبر پختونخوا کے گورنرز کا تقرر بھی اسی وزیر اعظم نے جس کو آج بلاول 47فارمکی حکومت کہہ رہے ،دوسال سے بلاول فارم 47کی حکومت کے ساتھ ہیں آج کیا ہو گیا ہے کے جواب میں کہا کہ پی پی پی جمہوریت کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ پاکستان کی پہلی خاتون سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہاکہ پاکستان کے لیے آزاد کشمیر کے مسائل بہت اہم ہیں اور حل صرف انتخابات میں ہے ۔ کشمیر کے موجودہ حالات بہت زیادہ خراب ہیں ،بھارت اور عالمی میڈیا اس مسئلے پر پاکستان کو بدنام کر رہا ہے ۔پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اس جانب توجہ دے رہی ہے لیکن مزید توجہ کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی افاعی اور خارجہ پالیسی کا مرکز اور محور آزاد کشمیر سے نتھی ہوتے ہیں پاکستان نے آزاد کشمیر کے لیے بہت قربانی دی ہے اور پاکستان کے دفاعی بجٹ کی بیشتر رقم کشمیر کے دفاع پر خرچ ہو تی ہے ۔ پاکستان کے لیے کشمیر ایک اہم خطہ ہے ،اس جانب پوری توجہ کی ضرورت ہے ۔ معروف صحافی جاوید چودھری نے کہاکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ہر مسئلے کا حل انتخابات ہیں اور اس سے مسائل حل ہو ں گے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیر کے حالات ملکی استحکام اور بقا کے لیے بے انتہا خوفناک اور تباہ کن ہیں اور دو اگست سے قبل ان حالات کا بہتر ہو نا بہت ضروری ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے 2اگست کومظفرآباد میں انتخابات کا دوسرا دورہوگا ،کشمیر کے راولاکوٹ میں چھتوں پر مورچہ بند دہشت گرد سیکورٹی فورس پر حملے کر رہے ہیں ۔ 28اور 29اگست کو دہشت گردوں نے حملے کے لیے M-6گن استعمال کی ۔یہ گنز فوج کو بھی بہت دور دشمن کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ دہشت گردی ٹی ٹی کے TTKتحریک طالبان کشمیر کر رہے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہ اسٹیبلشمنٹ پوری توجہ اور طاقت سے دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دو سال سے بلاول اسی فارم 47کی حکومت کے ساتھ ہیں ۔ صدر کا انتخابات بھی فارم 47کے تحت منتخب ارکان نے کیا ہے ۔ پنجاب و خیبر پختونخوا کے گورنرز کا تقرر بھی اسی وزیر اعظم نے جس کو آج بلاول 47فارم کی حکومت کہہ رہے نے کیا،دوسال سے بلاول فارم 47کی حکومت کے ساتھ ہیںکے جواب میں کہا پی پی پی جمہوریت کو کمزور نہیں کر نا چاہتی لیکن اب “ن’لیگ نے کشمیر اور بلوچستان میں حالات کو تباہ کر دیا ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کشمیر کے مسئلے کو حل کر نے وزارتِ خارجہ میں صلاحیت نہیں ہے اس لیے یہ مسئلہ حل نہیں ہو رہا ہے ۔استحکام ِ پاکستان کے سربراہ علیم خان نے جسارت کے سوال “کیا انتخابات کشمیر یوں کے مسائل کا حل ہے؟کے جواب میں کہا کہ انتخاب ضروری ہیں اور اس میں دھند لی نہیں ہو نی چاہیے ۔ کشمیر کا مسئلہ مکمل طور سے معاشی ہے اور وہاں کی عوام اپنا معاشی حل چاہتے ہیں اور انتخاب میں ایسے لوگو ں ووٹ دینا چاہتے ہے جو ان کے معاشی مسائل کو حل کر نے میں ان کی مدد کر یں ۔بہت بڑی تعداد میں کشمیری بیرون ِ ملک رہتے ہیں اور ان کے پاس بھاری سرمایہ بھی ۔یہ سرمایہ کا ر کشمیر میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس کو ئی پلان نہیںہے ۔