حکمران ناجائز اور غیر آئینی طور پر برسر اقتدار ہیں‘ڈاکٹر عطاالرحمن
مردان(جسارت نیوز)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام ہر لحاظ سے ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔ایک طرف موجودہ حکمران ناجائز اور غیر آئینی طور پر اقتدار پر قابض ہیں تو دوسری طرف عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان پر مزید ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔پیٹرولیم لیوی کی صورت میں عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔پیٹرولیم لیوی، کلایمیٹ کنٹرول لیوی اور دیگر ٹیکسز ملاکر فی لیٹر 100 روپے سے زاید ٹیکس بنتا ہے۔اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہر پاکستانی کی ذمے داری ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے ملک بھرکے عوام سے 7 اگست کو اپنے موٹر سائیکل اور گاڑیوں کے ساتھ سڑکوں پر دھرنا دینے اور ظالمانہ ٹیکس کے خلاف پرامن احتجاج میں جماعت اسلامی کا ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد تفہیم القرآن میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا کہ 7اگست کو عوام ملک بھر کی شاہراہوں کو دھرنے دے کر بند کریں گے۔ایمبولینس کے سوا کسی گاڑی کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عوام کا یہ احتجاج حکمرانوں کو لیوی سمیت ظالمانہ ٹیکسز کو ختم کرنے پر مجبور کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایمبولینسز کو راستہ ہمارا اخلاقی اور آئینی فرض ہے۔ حکمرانوں نے عوام پر مہنگائی کو مسلط کردیا ہے،عام آدمی کے لیے 2 وقت کا کھانا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنا مشکل ہوگیا ہے۔مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ ان حالات میں ضروری ہوگیا ہے کہ حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر نکلا جائے اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کی جائے۔انہوں نے کہا کہ حکمران اپنی عیاشیاں ختم کرنے کو تیار نہیں اور عوام کا خون چوس کر ان سے زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جارہا ہے۔ڈاکٹر عطا الرحمن نے جمعہ کے اجتماع میں مہنگائی کے خلاف قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیاگیا کہ پاکستان کے عوام کے اوپر لیوی کی مد میں ظالمانہ ٹیکس کو فی الفور واپس لیا جائے، حکومت ایسے عملی اقدامات اٹھائے کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم ہوسکے، علاوہ ازیں حکومت کو ہر وہ پالیسی اور اقدامات اٹھانے چاہئیں جس سے عوام کا معاشی استحصال نہ ہو اور معاشی بوجھ کم ہو جائے اور سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان کے آئین اور نظریے کی روشنی میں ملک میں اسلام کے عادلانہ نظام کے عملی نفاذ کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔خطبہ جمعہ میں موجود شرکا نے ہاتھ اٹھاکر ان مطالبات کی پرزور تائید کی اور 7 اگست کے احتجاج میں بھرپور شرکت کاعہد کیا۔