گرین کراچی شجرکاری مہم ‘‘ماحولیاتی بہتری کی ضمانت ہے ٗ منعم ظفر

کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کی ’’گرین کراچی شجرکاری مہم ‘‘پورے شہر کی ماحولیاتی بہتری کی ضمانت ہے،مہم کو کامیاب بنانے کے لیے معاشرے کاہر فرد اپنا حصہ ڈالے ،مہم کے تحت سرکاری اسکولوں، سرکاری اسپتالوں، پارکوں، شاہراہوں اور دیگر اہم عوامی مقامات پر بڑے پیمانے پر درخت لگائے جائیں تاکہ شہر کو سرسبز اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔درخت انسانی زندگی کی علامت ہیں ،آج لگایا گیا درخت مستقبل کے لیے صدقہ جاریہ بھی ہے۔ہر شہری اپنی ذمے داری محسوس کرتے ہوئے اپنے گھر کے باہر، اندر، صحن اور چھت پر پودے لگائے، ان کی حفاظت کرے ،حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی ’’بھتہ ٹیکس‘‘کی ظالمانہ وصولی کے خلاف3 اگست ساڑھے تین بجے دن شاہراہ قائدین پر ’’خواتین کا احتجاجی مارچ‘‘ کیا جائے گا۔ مارچ سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن خصوصی خطاب کریں گے۔ خواتین شہر بھر سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں احتجاج میں شرکت کریں تاکہ حکومت کو پیٹرولیم لیوی ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی کے زیر اہتمام شہر کو سرسبزوشاداب ، صاف ستھرا اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک بنانے کے لیے جاری شجر کاری مہم کے سلسلے میں منعقدہ ’’گرین کراچی سیمینار ‘‘سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جبکہ موضو ع کے حوالے سے ایک پینل ڈسکشن بھی ہوا ۔سیمینار سے حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی کی ناظمہ جاوداں فہیم ،ایچ ایس پی چیئرپرسن ،کتاب ’’گارڈن اسکیپ ‘‘ کی مصنفہ نوشابہ خلیل نے بھی خطاب کیا۔منعم ظفر خان نے گرین کراچی مہم کے آغاز پر جماعت اسلامی حلقہ خواتین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ شہر کو خوبصورت، سرسبز اور ماحول دوست بنانے کے لیے جماعت اسلامی خواتین کی کوششیں قابلِ قدر اور قابلِ تحسین ہیں۔ بدقسمتی سے کراچی آج عملاً کنکریٹ کا جنگل بن چکا ہے، غیر قانونی تعمیرات کے باعث ہزاروں درخت کاٹے جا چکے ہیں اور شہر میں سبزہ صرف تقریباً 2فیصد رہ گیا ہے، جو انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے۔پوری دنیا موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دوچار ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر وسیع پیمانے پر شجرکاری مہم شروع کرے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ کراچی کی آبادی ساڑھے تین کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ،ماہرین کی تحقیق کے مطابق ہر 7افراد کے لیے کم از کم ایک درخت ہونا ضروری ہے۔ اس اعتبار سے کراچی کو اس وقت تقریباً 50 لاکھ درختوں کی ضرورت ہے۔ افسوس کہ شہر میں ہزاروں درخت ترقیاتی منصوبوں اور غیر منصوبہ بند تعمیرات کی نذر ہو گئے، حتیٰ کہ نیپا سے یونیورسٹی روڈ تک موجود تقریباً 14 ہزار درخت بھی ریڈ لائن منصوبے کی زد میں آ کر ختم کر دیے گئے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اربن فاریسٹ اور شہری جنگلات کا تصور اپنایا ہے۔ سنگاپور میں عمارتوں، اسکولوں اور عوامی مقامات پر بڑے پیمانے پر درخت لگائے گئے جبکہ آسٹریلیا میں بھی اربن فاریسٹ کلچر کو فروغ دیا گیا۔ اگر کچھ کرنے کا جذبہ موجود ہو تو مثبت تبدیلی ضرور آتی ہے۔ کراچی میں بھی لیاقت آباد ٹاؤن نے سراج الدولہ کالج کے سامنے جگہ کو صاف کرکے درخت لگائے، جس سے نہ صرف ماحول بہتر ہوا بلکہ آلودگی میں بھی واضح کمی آئی۔ اسی طرح گلبرگ ٹاؤن میں روڈ سائیڈ جنگل کا تصور پیش کیا گیا ہے اور جماعت اسلامی کے دیگر ٹاؤنز بھی اربن فاریسٹ قائم کریں گے۔جاوداں فہیم نے کہا ہے کہ شجرکاری ایک وقتی سرگرمی نہیں بلکہ مستقل مزاجی، تسلسل اور روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے عملی اقدامات کا نام ہے۔ اگر کراچی کو ماحولیاتی آلودگی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور تباہی سے بچانا ہے تو معاشرے کے ہر فرد کو اس قومی ذمہ داری میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی شہر کو سرسبز اور ماحول دوست بنانے کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ میدانِ عمل میں موجود ہے۔ کراچی کو تباہی سے بچانے اور اس کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، کیونکہ اجتماعی کوششوں ہی سے مثبت تبدیلی ممکن ہے۔انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ عہد کریں کہ اس سال کم از کم ایک پودا ضرور لگائیں گی اور اس کی حفاظت بھی کریں گی تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک صاف، سرسبز اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔شہر بھر کے گرلز اسکولوں اور پرائمری اسکولوں میں شجرکاری کو فروغ دیا جائے تاکہ بچوں میں ماحول دوستی کا شعور اجاگر ہو اور کراچی کو ایک سرسبز و شاداب شہر بنانے کی بنیاد مضبوط ہو سکے۔سیمینار میں ’’سرسبز کراچی ، ہم سب کی ذمہ داری ‘‘کے عنوان سے ہونے والے پینل ڈسکشن سے ایڈوکیٹ ہائی کورٹ و سٹی کونسلرطلعت یاسمین ،ماہر نباتات فائزہ عروج،ماحولیاتی صحافی ،ایڈیٹر ، میڈیا ٹرینر شبینہ فراز، سوشل ایکٹیوسٹ حمیرہ ہاشمی ،کلینکل پیتھالوجسٹ ،ماہرذہنی صحت ڈاکٹر انیتہ یعقوب،ایجوکیٹر شعبہ ماحولیات ،مصنفہ فرحت طاہرنے خطاب کیا جبکہ گرین کراچی سیمینار میں ماحولیاتی ایکٹویسٹ ایڈوکیٹ راحیلہ جاوید،ایڈوکیٹ سپریم کورٹ فریدہ منگریو،میڈیکل پروفیشنل وسوشل ریفامر ڈاکٹر شمائلہ نعیم ،صحافی سعدیہ عبید ، مینیجنگ کمیٹی ممبر ہائی کورٹ بار ایڈوکیٹ رخسانہ عمر نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، سینئر ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہیب احمد اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *