ڈاکٹر آکاش اور 7سالہ دعا کے قاتلوں کی ہلاکت کا دعویٰ
کراچی( اسٹاف رپورٹر ) نوجوان ڈاکٹر آکاش اور7سالہ دعا کے قاتلوں کا فائرنگ میں ہلاکت کے دعوے۔ اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میںگرفتار تینوں ملزمان اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ کے دوران ہلاک ہوگئے، جبکہ کارروائی میں ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا ہے۔ایس آئی یو کے مطابق ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکوؤں سے دورانِ تفتیش اہم معلومات حاصل ہوئیں، جن کی نشاندہی پر پولیس نے گلشن ِ معمارعمر بروہی گوٹھ میں ان کے مفرور ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا۔ پولیس پارٹی جیسے ہی مطلوب ملزمان کے قریب پہنچی تو وہاں پہلے سے موجود مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔پولیس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا، جبکہ گرفتار تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرار ہونے والے ملزمان نے اپنے گرفتار ساتھیوں کو پولیس کے ساتھ دیکھ کر انہیں نشانہ بنایا تاکہ کیس کے مزید راز بے نقاب نہ ہو سکیں۔زخمی پولیس اہلکار کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے، جبکہ ہلاک ملزمان کی لاشیں قانونی کارروائی کے لیے مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہیں۔واضح رہے کہ 13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن، تین تلوار کے قریب ایک نجی بینک کے باہر ڈکیتی کی واردات کے دوران نوجوان ڈاکٹر آکاش مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے تھے۔ ملزمان بینک سے نکالی گئی 50 لاکھ روپے کی رقم میں سے 25 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوگئے تھے، باقی رقم محفوظ رہی تھی۔ پولیس کے مطابق ملزمان ایک منظم گروہ کا حصہ تھے جو شہریوں کی ریکی کے بعد انہیں بینکوں سے نکلتے ہی نشانہ بناتا تھا۔حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور پولیس فائرنگ کے تمام پہلوؤں، فرانزک شواہد اور دیگر تفتیشی نکات کی روشنی میں کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔علاوہ ازیں کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغوا و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔