مون سون کے پیش نظر سندھ بھر میں ہائی الرٹ ہے، گیانچند ایسرانی
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) مشیر وزیراعلیٰ سندھ برائے محکمہ بحالی گیانچند ایسرانی کی زیر صدارت مون سون بارشوں سے نمٹنے کی تیاریوں کے حوالے سے سندھ بھر کے ڈپٹی کمشنرز کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری بحالی رفیق مصطفی شیخ، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے سلمان شاہ، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ مہر اور تمام متعلقہ ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اپنے اضلاع میں مون سون بارشوں سے نمٹنے کے لیے کیے گئے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ پی ڈی ایم اے نے امدادی سرگرمیوں، مشینری اور ریلیف اسٹاک سے متعلق آگاہ کیا۔ مشیر وزیراعلیٰ سندھ گیانچند ایسرانی نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اضلاع میں مکمل طور پر الرٹ رہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مون سون کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت دی کہ تمام اضلاع میں برساتی نالوں کی بروقت صفائی، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور ڈی واٹرنگ مشینری کو ہر وقت تیار رکھنے کو یقینی بنایا جائے تاکہ بارش کے دوران شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ گیانچند ایسرانی نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے اضلاع کو فراہم کیے گئے امدادی سامان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کی جائیں اور ہر ضلع میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریلیف سامان کی دستیابی ہر حال میں یقینی بنائی جائے۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ روز تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے کے نتیجے میں 2 مرد اور ایک بچہ جاں بحق جبکہ 5 افراد زخمی ہوئے۔ مزید بتایا گیا کہ 3 جولائی سے 31 جولائی کے دوران بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں مجموعی طور پر 5 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے سلمان شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ موجودہ بارشوں کا سلسلہ 3 اگست تک سندھ میں برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ تھرپارکر اور عمرکوٹ میں نسبتاً زیادہ بارشیں متوقع ہیں، اس لیے ان اضلاع میں خصوصی احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے کی تمام مشینری اور امدادی وسائل مکمل طور پر تیار ہیں اور جیسے ہی کسی ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ضرورت کی اطلاع موصول ہوگی، فوری طور پر متعلقہ ضلع روانہ کر دیے جائیں گے۔