اسٹاک مارکیٹ‘ جولائی میں100 انڈیکس میں 2.3 فیصد کی کمی
کراچی (کامرس رپورٹر )پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کے ایس ای-100 انڈیکس جولائی کے دوران ماہانہ بنیادوں پر 2.3 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔ مارکیٹ میں کمی کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی جغرافیائی سیاسی صورتحال رہی، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مارکیٹ کے رجحان کو متاثر کیا۔جون 2026 میں پاکستان کی کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) پر مبنی مہنگائی 11.07 فیصد رہی، جبکہ مئی میں یہ 11.66 فیصد تھی۔ جون 2026 میں پاکستان کو ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جو سالانہ بنیادوں پر 2 فیصد زیادہ تاہم ماہانہ بنیادوں پر 18 فیصد کم ہیں۔ جون 2026 میں پاکستان کی خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 14 ملین ڈالر رہی، جو مئی 2026 کے 214 ملین ڈالر کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر 94 فیصد کم ہے۔ جون 2026 میں پاکستان کا ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ 106.44 تک پہنچ گیا، جبکہ مئی میں یہ 106.08 تھا۔ جون 2026 میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ کو 649 ملین ڈالر کے خسارے کا سامنا رہا، جبکہ مئی 2026 میں 500 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔جون 2026 میں ملک میں گاڑیوں کی فروخت 22,741 یونٹس رہی، جو سالانہ بنیادوں پر 4 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 29 فیصد زیادہ ہے۔جولائی کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اوسط یومیہ کاروباری حجم 84 کروڑ 50 لاکھ شیئرز جبکہ اوسط یومیہ کاروباری مالیت 37.5 ارب روپے رہی۔