تنظیم اسلامی کے تحت ’ امت مسلمہ کی حالت زار اور راہ نجات‘ مہم کا ملک گیر آغاز

حیدرآباد (نمائندہ جسارت)تنظیم اسلامی کے زیرِ اہتمام ملک گیر مہم بعنوان امتِ مسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں امیر تنظیم اسلامی شجاع الدین شیخ نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کو درپیش موجودہ بحرانوں، زوال کے اسباب اور قرآن و سنت کی روشنی میں راہِ نجات کو تفصیلی طور پر پیش کیا۔امیر تنظیم اسلامی نے اپنے خطاب کے آغاز میں واضح کیا کہ امتِ مسلمہ وہ برگزیدہ اور ممتاز جماعت ہے جس کی بنیاد اور پیدائش کے لیے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کعبہ کے وقت پر خلوص دعائیں فرمائی تھیں۔ اللہ تعالی نے اس امت کو تمام انسانیت کی ہدایت، رہنمائی اور دینِ حق کی گواہی کے لیے منتخب فرمایا ہے اور اسے شہادت علی الناس کے فریضے کو انجام دینے کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں اس منصب کا عالمی مظہر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی فریضہ کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب تک اس امت نے قرآنِ حکیم اور اسوہ حسنہ کو اپنی انفرادی، اجتماعی اور سیاسی زندگی کا محور بنائے رکھا، اللہ تعالی نے اسے دنیا بھر میں عزت، رفعت، غلبہ اور جہان بانی عطا فرمائی۔امیر تنظیم نے امت کے موجودہ حالات پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب امت کا قرآنِ مجید سے تعلق کمزور پڑا، اس کے معانی و مقاصد سے دوری بڑھی اور عمل کی روح رخصت ہو گئی، تو اسلام کا ہمہ گیر تصور بھی ذہنوں سے اوجھل ہو گیا۔ یوں دینِ اسلام محض چند عبادات اور روایتی رسومات تک محدود ہو کر رہ گیا۔ اس کا دردناک نتیجہ یہ نکلا کہ آج تقریبا 57 مسلم ممالک کے بیش بہا وسائل، زرخیز زمینوں اور کثرتِ آبادی کے باوجود غزہ، لبنان، فلسطین، کشمیر، افغانستان اور دیگر خطوں میں مسلمان بدترین مظالم اور جارحیت کا شکار ہیں۔ تمام تر وسائل کے باوجود مسلم حکمران اور قومیں عالمِ کفر کے مظالم کے خلاف کوئی موثر آواز اٹھانے یا عملی قدم اٹھانے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے ارشادِ مبارک میں امت کی اس کیفیت کی پیش گوئی فرماتے ہوئے متنبہ فرمایا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب امت تعداد میں کثرت کے باوجود سمندر کے جھاگ کی مانند بے وزن اور اثر و رسوخ سے محروم ہوجائے گی اور دشمن اقوام ان پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *