ججز کیخلاف درخواستیں: عدالت عظمیٰ نے اجمل محمود کا جرمانہ معاف کر دیا
اسلام آباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ آ ف پاکستان نے موجودہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم سمیت دیگر ججز کے خلاف توہین آمیز الفاظ پر مشتمل درخواستیں دینے والے درخواست گزار اجمل محمود کی ہاتھ جوڑ کر 10لاکھ روپے جرمانہ معافی کی استدعا منظورکرلی۔ جبکہ عدالت نے درخواست گزار کوآئندہ محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑکی سربراہی میں جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل 2رکنی بینچ نے اجمل محمود کی جانب سے مسز نبیلہ شفاعت ، اے ڈی (پی اینڈ سی)اوردیگر کے خلاف ملزمان کوطلب کرنے کے حوالہ سے دائر درخواست پرسماعت کی۔ درخواست گزار ذاتی حیثیت میں بینچ کے سامنے پیش ہوئے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب طارق صدیق پیش ہوئے۔ درخواست گزار نے بینچ کے سامنے پیش ہوکرہاتھ جوڑتے ہوئے کہاکہ میرا جرمانہ معاف کردیں میں کیس نہیں لڑنا چاہتا، کیس میں ویمن ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران مدعاعلیہان ہیں،میرا10لاکھ روپے جرمانہ معاف کردیں،جرمانہ لاہور ہائی کورٹ کی ڈسپنسری کواداکرنے کاحکم دیاگیاتھا، ہائی کورٹ کی ڈسپنسری اب ختم ہوچکی ہے، پنجاب حکومت نے ڈسپنسری بنادی ہے۔ سرکاری وکیل کاکہناتھا کہ درخواست گزار مختلف جج صاحبان کے خلاف توہین آمیزدرخواستیں دائر کرتے رہے ہیں جن میں موجودہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم بھی شامل ہیں۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم کادرخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ فوجداری نظرثانی اپیل میں جرمانہ بھی لگ سکتاہے۔ بعد ازاں بینچ نے درخواست گزار پر عائد 10لاکھ روپے جرمانہ معاف کرتے ہوئے انہیں آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔