خیرپور،غیرقانونی جرگہ منعقد کرنے والوں کی ضمانت ازگرفتاری مسترد

خیرپور (جسارت نیوز)خیرپور کی کرمنل ماڈل ٹرائل کورٹ نے سوراہ تھانے میں درج ایف آئی آر نمبر 116/2026 کے تحت غیر قانونی جرگہ کرنے کے مقدمے میں نامزد ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں پولیس کے مطابق 28 جولائی کو اطلاع ملی کہ لطیف ڈنو خاصخیلی کے گھر پر غیر قانونی جرگہ جاری ہے، جہاں اپنی پسند سے شادی کرنے والے نوجوان جوڑے عاشق علی اور فرزانہ کے بارے میں فیصلہ کیا جا رہا تھا جرگے میں مبینہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگر فرزانہ کے بدلے دوسری لڑکی نہ دی گئی تو نوجوان جوڑے کو قتل کر دیا جائے گا اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی، تاہم ملزمان فرار ہو گئے، جبکہ پولیس نے نوجوان جوڑے کو اپنی تحویل میں لے کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا عدالت نے ہدایت علی، ممتاز علی، سبھاگو خان، شوکت علی، لطیف ڈنو خاصخیلی سمیت دیگر نامزد ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 310-A کے تحت غیر قانونی جرگہ ایک سنگین جرم ہے، جو آئین اور قانون کے منافی ہے عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کاروکاری اور جرگے جیسی روایات معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں، اور ایسے مقدمات میں متاثرہ فریق پر دباؤ ڈال کر بیان تبدیل کرانے کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا ایسے بیانات کو قابلِ قبول نہیں سمجھا جا سکتا کرمنل ماڈل ٹرائل کورٹ کے جج لیاقت علی کھوسو نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ کسی بھی جرگے کو کسی شہری کے بارے میں فیصلہ کرنے یا سزا دینے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں اپنی مرضی سے شادی کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور اس حق میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے جرگہ کرنا ریاست کے خلاف جرم ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *