واپڈا کا ریٹائرڈ فوجی یا پولیس افسر کی سربراہی میں اپنی سیکورٹی فورس بنانے کا منصوبہ
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ واپڈا کو اپنے منصوبوں کی سیکورٹی کے لیے الگ فورسز بنانے کی ضرورت ہے اور اس فورس کا ڈائریکٹر جنرل(ڈی جی) پولیس یا فوجی سے 20 گریڈ کا ریٹائرڈ افسر ہوگا تاہم اس فورس کے قیام کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی آبی وسائل کے اجلاس میں واپڈا سیکورٹی فورس بل زیر بحث آیا جہاں چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے بتایا کہ صرف سیکورٹی گارڈز کے ذریعے واپڈا ہاؤسز کی سیکورٹی نہیں ہو سکتی، کئی بڑے منصوبے ہیں جن کی سیکورٹی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنا سیکورٹی کا خود انتظام کرنا چاہتے ہیں، ہم سیکورٹی کے لیے پہلے جو انتظام کر رہے تھے وہ کافی مہنگا پڑتیتھے، نئی فورس کی کوئی پینشن نہیں ہوگی اور کنٹریکٹ پر فورس رکھیں گے، اس فورس کو واپڈا کے منصوبوں اور واپڈا ہاؤسز میں گرفتاری کا اختیار ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ منصوبوں کے اندر سے گرفتاری کے بعد پولیس کے حوالے کیا جائے گا، واپڈا فورس کی ٹریننگ بھی ہوگی اور ان کا یونیفارم بھی ہوگا، دیامر بھاشا میں اس وقت 2500 لوگ سیکورٹی پر مامور ہیں‘ واپڈا فورس کے لیے پرائیویٹ سیکورٹی کمپنیوں سے اہلکار بھی لے سکتے ہیں۔واپڈا حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ واپڈا کا چوکیدار سسٹم اب قابل عمل نہیں ہے، منصوبوں کو کئی انٹرنیشنل وفود وزٹ کرنے آتے ہیں جن کی سیکورٹی پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے، واپڈا سیکورٹی فورس کا باقاعدہ ایک ڈائریکٹر جنرل بھی ہوگا، واپڈا سیکورٹی فورس کا قیام وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا فورس کے لیے تمام قواعد بھی وفاقی حکومت ہی بنائے گی، ڈی جی واپڈا سیکیورٹی فورس کے لیے 20 گریڈ کا ریٹائرڈ افسر ہو سکتا ہے، ڈی جی کی پوسٹ پر پولیس یا آرمی سے ریٹائرڈ افسر لگایا جائے گا، واپڈا فورس جس سے گرفتار کرے گی اسے ڈسٹرکٹ پولیس کے حوالے کیا جائے گا اور گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف کیس بھی مقامی پولیس ہی دیکھے گی۔